شان ہند تو ایم ایل اے بن چکی، رکن پارلیمنٹ مولانا محب اللہ ندوی کا خطاب،12 نومبر تشدد کی برسی پر سماج وادی کا جلسہ،عوام کا جمِ غفیر ہی تبدیلی کا ثبوت

شان ہند تو ایم ایل اے بن چکی، رکن پارلیمنٹ مولانا محب اللہ ندوی کا خطاب،12 نومبر تشدد کی برسی پر سماج وادی کا جلسہ،عوام کا جمِ غفیر ہی تبدیلی کا ثبوت
 

پرائمری اسکولوں کی تجدید کر کے پہلی سے دسویں تک مفت و لازمی تعلیم کا انتظام کروں گی، عوام کا تحفظ ہمارا مشن :شان ہند 


 25 سالہ ملی جوڑ اور بارہ نومبر سانحے کی سازش رچنے والوں کو عوام سبق سکھا دیں :مستقیم ڈگنیٹی 



مالیگاؤں (پریس ریلیز) 12 نومبر معاملے کی تیسری برسی کی مناسبت سے سلام چاچا روڈ سماج وادی پارٹی کا انتخابی جلسہ عام منعقد ہوا۔اس جلسے عام میں سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ جوائنٹ پارلیمنٹ کمیٹی کے رکن مولانا محب اللہ ندوی نے عوام کے جمِ غفیر سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سماج وادی پارٹی قومی صدر جناب اکھلیش یادو نے لوک سبھا انتخابات میں پی ڈی اے کا نعرہ دیا۔پسماندہ،دلت اور الپ سنکھیا کی عوام کو تعلیم، تعمیر،ترقی اور روزگار دینے کی بنیاد پر سماج وادی پارٹی نے لوک سبھا میں 36 اراکین پارلیمنٹ کو جیت دلا کر ملک کی تیسری بڑی پارٹی کے طور پر ابھری۔انہوں نے کہا کہ فرقہ پرستی اور جذبات پسندی کو اترپردیش کی عوام نے یکسر مسترد کر دیا۔مولانا نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سماج وادی پارٹی کی مشہور رکن پارلیمنٹ اقراء حسن جس علاقے کیرانہ سے چن کر آئی ہیں وہاں محض 40 فیصدی مسلم ووٹ ہیں 70 فیصدی غیر مسلم عوام نے اقراء حسن کو اپنا نمائندہ منتخب کیا ہے۔


مولانا موصوف نے اپنی تقریر میں کہا کہ جذباتیت پر اپنی ووٹ کو ضائع مت کرو۔انہوں نے کہا کہ شانِ ہند کی قابلیت،مالیگاؤں شہر کی عوام میں تبدیلی کے رجحان کو دیکھ کر یہ اندازہ لگتا ہیکہ شانِ ہند رکنِ اسمبلی منتخب ہو چکی ہیں۔انہوں نے اترپردیش بنکروں کے حوالے سے بتایا کہ یوپی میں بنکروں کیلئے اکھلیش یادو نے 65 روپیہ بجلی بل فکس کی ہے۔شان ہند کی کامیابی کے بعد یوپی بجلی پیٹرن مالیگاؤں کے بنکروں کو مہیا کیا جائیگا۔موصوف نے کہا کہ روزگار،تعلیم، صنعت اور ترقی وغیرہ انڈیا الائنس کے منشور میں شامل ہیں۔جلسہ عام سے مولانا نے اپیل کی کہ 20 نومبر کو ہونے والے چناؤ میں شان ہند کو کامیاب کریں۔اتنی قابل اور تعلیم یافتہ رکن اسمبلی مالیگاؤں شہر کی تعمیر و ترقی کا روشن باب ہوگی۔اس موقع پر سماج وادی نامزد امیدوار شان ہند 12 نومبر معاملے کی سازشیں عوام کے درمیان بتاتے ہوئے کہا کہ 12 نومبر معاملے میں میرے شوہر مستقیم ڈگنیٹی بھی قید میں رہے۔قوم دشمن اور ذاتیات پسند لیڈران نے میرے خلاف افیڈیوٹ پولیس محکمے کو فراہم کیا۔اور پریس کانفرنس لیکر عوام میں تفصیلات بتائی۔مجھے ضلع ایس پی کے شہر آنے پر پولیس اسٹیشن طلب کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ ضلع ایس پی کے سامنے میں نے کہا کہ نہال صاحب کی بیٹی ہوں،مجھے حوالات میں ڈال کر شہر میں فساد برپا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔


شان ہند نے کہا کہ ایک خاندان غنڈہ گردی،ماب لنچنگ اور نشہ فروشی کا ذمہ دار ہے۔انہوں نے کہا کہ شہر کی میونسپل پرائمری اسکولوں کو کھنڈر میں تبدیل کر کے نشے اور جوے کا اڈہ بنایا جا رہا ہے۔میں رکن اسمبلی منتخب ہونے کے بعد ان پرائمری اسکولوں کی تجدید کر کے پہلی سے دسویں تک مفت و لازمی تعلیم کا انتظام کروں گی۔موصوفہ نے مفصل تقریر میں کہا کہ پولیس والے کسی بے گناہ کو بے سبب اگر قید و بند کریں گے سماج وادی پارٹی اسے برداشت نہیں کرے گی۔انہوں نے کہا کہ عوام کا تحفظ ہمارا مشن ہے۔موصوفہ نے کہا کہ اس شہر میں نہال صاحب کا دبدبہ ہوا کرتا تھا،25 سالہ ملی جوڑ نے فرقہ پرستوں کے سامنے شہر کو گروی رکھ دیا ہے۔ہم اپنے شہر کا وقار اور دبدبہ واپس لانے کی کوشش کرینگے کیونکہ ہم قانون جانتے ہیں۔


قبل اس کے سماج وادی پارٹی یوا نیتا مستقیم ڈگنیٹی نے بھی عوام سے خطاب کیا۔انہوں نے کہا کہ 12 نومبر کو رضا اکیڈمی کے زریعے بند کے اعلان کو ہائر کرنے کیلئے آگرہ روڈ کے ایک کمپاؤنڈ میں تمام افراد کو طلب کیا جاتا ہے۔اس لیے کہ انہیں بند کا کریڈٹ ملے۔لیکن جب بند کو ناکام کرنے کی سازش ہوئی  60 سے زائد بے گناہ افراد جیل کی سلاخوں میں بھیج دیے گئے یہ کمپاؤنڈ کے لوگ بھاگے بھاگے پھرتے رہے۔انہوں نے کہا کہ عبدالمالک میئر اور خلیل دادا میں معاملہ ہوا تھا آپسی لین دین کر کے ایک مہینے میں رہا ہوگئے۔انہوں نے بتایا کہ عبدالمالک میئر پر گولی چلتی ہے ہم جاتے ہیں اور بولتے ہیں کہ ہم قانونی مدد کریں گے لیکن ہائے رے اندھیری 60 سے زائد لوگ 11 مہینے جیل میں رہتے ہیں اور یہ گولی باز لوگ چند دنوں میں رہا ہوجاتے ہیں۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ 25 سالہ ملی جوڑ اور بارہ نومبر سانحے کی سازش رچنے والوں کو 20 نومبر کی عوامی عدالت میں سبق سکھا دو۔شان ہند کو بھاری اکثریت سے کامیاب کریں۔اس جلسہ عام کی صدارت علاقے کی مشہور شخصیت ستار رحیمی ماسٹر نے کی۔جبکہ دیگر مقررین میں ابوذر صدرالدین مقادم،ملک منظر،اسماعیل رحمانی،رضوان خان سر،اطہر حسین اشرفی،ایڈوکیٹ توصیف شیخ،رضوان بیٹری والا،سہیل عبدالکریم،ضیاء مسکان،معین اختر،ابوللیث انصاری،سلطان تانے ماما،عتیق منا،آمین پٹیل دھولیہ وغیرہ شامل ہیں۔تاحد نگاہ عوام کا جم غیر تھا۔عوام کا ہجوم تبدیلی کا واضح ثبوت معلوم ہوتا ہے۔نظامت رئیس ستارہ نے کی۔اس موقع پر مختلف مذہبی تنظیموں اور سماج وادی ذمہ داران نے مولانا محب اللہ سے وقف ترمیمی ایکٹ پر شہر مالیگاؤں کے مسلمانوں کی جانب نمائندگی کی اپیل کی اور کہا کہ آپ بہ حیثیت رکن جوائنٹ پارلیمنٹ کمیٹی کوشش کریں کہ مذکورہ سیاہ قانون نافذ نا ہو۔مولانا محب اللہ چونکہ جوائنٹ پارلیمنٹ کمیٹی میں رکن ہیں اس لیے انہوں نے شہر کی اپیل کو قبول کر کے اس پر عمل کا تیقن دیا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے