ناسک میں 800 کروڑ کا زمین ایکوائر گھوٹالہ، وزیر اعلیٰ اور ان کے من پسند بلڈرز فائدہ اٹھانے والوں میں شامل، سنجے راوت کا سنسنی خیز انکشاف
ایس آئی ٹی، ای ڈی، سی بی آئی، اے سی بی سے انکوائری کر ریکوری کی جائے،گھوٹالہ میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ
ایکناتھ شندے کیخلاف ممبئی میں سنجئے راؤت کی پریس کانفرنس، وزیر اعظم مودی کو شکایتی مکتوب
ممبئی : 14 مئی (بیباک نیوز اپڈیٹ) ناسک زمین ایکوائر گھوٹالہ 800 کروڑ کا ہے۔یہ براہ راست عوام کے پیسے کی چوری ہے۔ وزیر اعلیٰ اور ان کے من پسند بلڈرز 800 کروڑ کے فائدہ اٹھانے والے میں شامل ہیں اور وزیر داخلہ دیویندر جی ان کے خلاف کیا کارروائی کریں گے؟ چوری کی رقم کا حساب دینا ہوگا! اس طرح کا الزام لگاتے ہوئے شیو سینا ٹھاکرے گروپ کے ایم پی سنجے راوت نے شندے سرکار پرےحملہ کیاہے ۔اس گھوٹالے کے بارے میں جانکاری دینے کے لیے انھوں نے ممبئی میں ایک پریس کانفرنس کی۔ ساتھ ہی انہوں نے اس گھوٹالے کی شکایت وزیر اعظم نریندر مودی اور نائب وزیر اعلی دیویندر فڑنویس سے کی۔
فڑنویس کو بھیجے گئے خط میں سنجے راوت نے اس گھوٹالے کی مکمل جانکاری دی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ناسک میونسپل کارپوریشن میں سال 2020 اور 2022 کے درمیان افیسران اور بعض بلڈروں کی ملی بھگت سے کئے گئے 800 کروڑ کے گھوٹالہ کی تحقیقات جاری ہے۔ اس کے بعد مکمل معلومات دی گئی ہیں۔ موجودہ وزیر اعلیٰ اور اس وقت کے شہری ترقی کے وزیر ایکناتھ شندے کے حکم پر ناسک میونسپل کارپوریشن کے ذریعے نجی بات چیت کے ذریعے زمین کے حصول کی کئی تجاویز کو منظوری دی گئی تھی۔ اس میں کروڑوں روپے مختص کرکے بڑا گھپلہ کیا گیا۔یہی وجہ ہے کہ وزیر اعلیٰ معاملے کی انکوائری سے گریز کرتے ہوئے متعلقہ بلڈرز کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔
سنجئے راؤت نے کہا کہ اس گھوٹالے کے دوران اس وقت کے میونسپل کمشنر نے اپنی مرضی کے افسران کی ترجیحی کمیٹی بنائی۔ میونسپل کارپوریشن کے برسراقتدار افسران اور اہلکاروں نے ملی بھگت سے تمام اصول و ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر بعض بلڈرز کے مفاد کے لیے میونسپل کارپوریشن کے خزانے کو لوٹا ہے۔ بلڈرز نے مالی فائدہ اٹھاتے ہوئے اسٹامپ ڈیوٹی، انکم ٹیکس اور نذرانہ کی مد میں حکومت کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا۔ کئی سیٹوں کے لیے کروڑوں روپے بے ضابطگی سے ادا کیے گئے ہیں جن کی ادائیگی کی ضرورت نہیں ہے۔یہی نہیں، غیر محفوظ نشستوں کے لیے نقد معاوضہ بھی دیا گیا ہے۔ ٹاؤن پلاننگ اسکیم میں سڑکیں میونسپل کارپوریشن کی ملکیت ہیں، میونسپل کارپوریشن نے اپنی ملکیت کی اراضی خرید کر بلڈر کو کروڑوں روپے ادا کیے۔
لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کی دفعات کے مطابق، کلکٹریٹ کے لینڈ ایکوزیشن آفیسر نے بلڈرز کو غیر قانونی اور من مانی طریقے سے زمین کی ادائیگی کی تھی، جس کے پاس قیمت کا تعین کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں تھا، بغیر اس کے کہ اس کے قابل حکام کے ذریعہ زمین کا تعین کیا گیا ہو۔ حکومت کا اسٹیمپ اور ویلیوایشن ڈیپارٹمنٹ اور محکمہ اراضی نے حصول اراضی کے باقاعدہ عمل کو نافذ کیا ہے اور مذکورہ بالا کے مطابق تقریباً ایک سو کروڑ روپے مخصوص بلڈروں کو دیے گئے ہیں۔ اس میں بھی قواعد و ضوابط کی پاسداری نہیں کی گئی۔ ان دونوں عمل میں آٹھ سو کروڑ کا گھپلہ ہوا ہے۔ بڑی منی لانڈرنگ ہوئی ہے اور تمام متعلقہ افراد کے بینک ٹرانزیکشنز کو چیک کرنا ضروری ہے۔ کسانوں کی برسوں کی زمین کے حصول کی تجاویز کا فائدہ صرف بلڈرز کو دیا گیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ دن پہلے وزیر چھگن بھجبل نے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے سے اس گھوٹالے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں اب تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے بھی قانون ساز اسمبلی میں ایک سوال کے جواب میں اس معاملے کو کلین چٹ دے دی ہے۔ تاہم اصل شواہد کو دیکھیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ میونسپل کارپوریشن کی جانب سے بلڈرز کو نجی بات چیت کے ذریعے دی جانے والی ادائیگی اور میونسپل کارپوریشن کی جانب سے باقاعدہ اراضی کے حصول کے ذریعے دی گئی ادائیگی دونوں میں آٹھ سو کروڑ کا گھپلہ ہوا ہے۔ کلکٹر کے ذریعے کوئی کارروائی نہ ہونے سے ثابت ہوتا ہے کہ ان گھپلوں کو وزیر اعلیٰ کی حمایت حاصل ہے ۔اسطرح کی تفصیلات بھی سنجئے راؤت نے دی ۔
راؤت نے کہا کہ اس گھوٹالے کی تفصیلی رپورٹ اور ثبوت فائل میں منسلک ہیں۔ اس پورے گھوٹالے کے حوالے سے اکنامک کرائم برانچ میں مقدمہ درج کیا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ ایس آئی ٹی، ای ڈی، سی بی آئی، اے سی بی کے ذریعے انکوائری کرائی جائے۔ خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ متعلقہ محکموں کو نذرانہ، انکم ٹیکس، سسٹیمپ ڈیوٹی کی وصولی کی ہدایت کی جائے اور تمام مجرموں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اس طرح کا خط وزیر اعظم نریندر مودی کو انگریزی میں سنجئے راؤت کے ذریعے بھیجا گیا ہے۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com