لوک سبھا انتخابات کے بعد کارپوریشن چناؤ!!!، ورکروں کو کام پر لگنے کابینی وزیر کی ہدایت
ٹیچر ایم ایل سی، ضلع پریشد و کارپوریشن اور اسمبلی چناؤ کیلئے چھ ماہ تک ناسک ضلع میں ضابطہ اخلاق کا امکان
ناسک : 13 مئی (بیباک نیوز اپڈیٹ) ملک بھر میں لوک سبھا انتخابات کی جنگ شروع ہو چکی ہے، وہیں اس سال کے تقریباً چھ سے آٹھ مہینے مختلف انتخابات کے ضابطہ اخلاق میں گزرینگے ۔ جبکہ لوک سبھا کا ضابطہ اخلاق 6 جون تک نافذ العمل ہے، لیکن اس بیچ ممبئی اور ناسک ڈویژن کے گریجویٹ و ٹیچر ایم ایل سی حلقے کے انتخاب کا اعلان بھی کردیا گیا ہے۔پندرہ جون سے ٹیچر حلقہ کیلئے نامزدگی شروع ہوگی 10 جون کو ووٹنگ ہوگی اور 13 جون کو نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔
لوک سبھا انتخابات کے بعد فوری طور پر حکومت کی گہما گہمی میں ٹیچر ایم ایل سی انتخابات ہونگے اس کے بعد جولائی اگست اور ستمبر کے فوری بعد اکتوبر کے مہینے میں مہاراشٹر اسمبلی کے انتخابات ہوں گے اور اس کے بعد ضلع پریشد، میونسپل کارپوریشن کے انتخابات ہوں گے۔
اس لیے پورے چھ سے آٹھ ماہ تک مختلف انتخابات کے ضابطہ اخلاق سے ترقیاتی کام متاثر ہونے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔ ناسک ڈویژن ٹیچر حلقہ یعنی قانون ساز کونسل کی چھ سالہ میعاد جون 2024 میں ختم ہوگی۔ ناسک، احمد نگر، جلگاؤں، دھولیہ اور نندربار کے اساتذہ اس سیٹ کے لیے ووٹ دیتے ہیں۔ پچھلی بار کشور ڈاڑے جیتے تھے۔
اس سال ہونے والے انتخابات میں بہت سے لوگوں کی دلچسپی ہے۔ وہ پہلے ہی مہم شروع کر چکے ہیں۔ ناسک میں ڈویژنل کمشنر کے دفتر نے 30 ستمبر سے 6 نومبر 2023 کی مدت کے لیے ٹیچر ووٹرز کا اندراج کیا۔ ووٹر لسٹ کا مسودہ 23 نومبر کو شائع کیا گیا تھا۔ ان میں سب سے زیادہ 17 ہزار 963 ووٹرس ضلع ناسک، احمد نگر (13421)، جلگاؤں (11299)، دھولیہ (7392) اور نندربار میں 3443 ووٹر رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔
اساتذہ نے ڈرافٹ لسٹ پر بہت سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا۔ حتمی ووٹر لسٹ منسوخ ہونے کے بعد شائع کی جائے گی۔ عام طور پر اس الیکشن کے لیے ہر تعلقہ میں دو پولنگ اسٹیشن ہوں گے۔ الیکشن ڈپارٹمنٹ نے ایک ہزار ووٹرز کے لیے ایک سینٹر کا منصوبہ بنایا ہے۔ قانون ساز کونسل کے اس انتخاب کے بعد بارش کے موسم میں ہی قانون ساز اسمبلی کا انتخابی عمل شروع ہو جائے گا۔
انتخابات دیوالی کے آس پاس ہوں گے اور اس کے بعد ضلع پریشد، پنچایت سمیتی اور میونسپل کارپوریشنوں کے چناؤ شروع ہو جائیں گے۔ اگر اس پورے عرصے کو مدنظر رکھا جائے تو ہر الیکشن میں ایک سے دو ماہ لگیں گے۔ ایک سال میں تین سے چار انتخابات نظر آنے سے سال بھر کا عرصہ ضابطہ اخلاق کا ہوگا، ترقیاتی کاموں کی منظوری کے لیے بہت کم وقت رہ جائے گا۔
ضلع پریشد، میونسپل کارپوریشن الیکشن
ڈاکٹر ششی کانت منگارولے، ڈپٹی کلکٹر (ضلع الیکشن ڈیپارٹمنٹ،) ناسک کا کہنا تھا کہ لوک سبھا، ودھان سبھا، قانون ساز کونسل کے انتخابات کے بعد مقامی خود مختار حکومتی اداروں یعنی ضلع پریشد اور میونسپل کارپوریشن کے انتخابات ہونے کا امکان ہے ۔ کارپوریشن میں دو سال سے انتظامیہ ایڈمنسٹریٹر کے اصول کے تحت کام کر رہا ہے۔ اس درمیان مہاراشٹر کابینہ میں شامل وزیر چھگن بھجبل نے ناسک ضلع میں لوک سبھا انتخابات کی تشہیر مہم کے دوران تقریر میں اپنے ورکروں اور لیڈروں سے کہا کہ لوک سبھا انتخابات کے بعد ٹیچر ایم ایل سی انتخابات ہونگے اس کے فوری بعد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات ہونگے ۔بھجبل نے کہا کہ کارپوریشن الیکشن کی تیاری سے لگ جاؤ ۔اس درمیان میڈیا نے جب بھجبل سے سوال کیا تو انہوں نے یہی بات دوہراتے ہوئے کہا کہ لوک سبھا انتخابات کے بعد کارپوریشن چناؤ پہلے ہونگے ۔اس لئے ورکرز کو کام پر لگ جانا چاہیے ۔چھگن بھجبل کے اس بیان کو سیاسی ماہرین نے درست قرار دیا ہے ۔وہیں سرکاری ڈپارٹمنٹ سے بھی جو خبریں آرہی ہیں اس کے مطابق لوک سبھا چناؤ کے بعد کارپوریشن چناؤ کا بگل بجنے کا قوی امکان ہے ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com