بلقیس بانو کیس میں سپریم کورٹ نے گجرات حکومت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا، گجرات حکومت کا فیصلہ غلط



بلقیس بانو کیس میں سپریم کورٹ نے گجرات حکومت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا


گجرات حکومت کا فیصلہ غلط ،بری کئے گئے 11 مجرمین دوبارہ جیل جائیں گے، دو ہفتوں میں خودسپرگی کرنے سپریم کورٹ کی ہدایت 



 نئی دہلی: 8 جنوری (بیباک نیوز اپڈیٹ) بلقیس بانو کیس میں سپریم کورٹ نے گجرات حکومت کے فیصلے کو منسوخ کرتے ہوئے بڑا جھٹکا دیا ہے۔ بلقیس بانو معاملے میں گجرات حکومت نے 11 ملزمان کو بری کر دیا۔ اس کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی۔جسٹس بی بی ناگرتنا اور اجول بھویان کی بنچ نے تمام ملزمین کی باعزت بری لے فیصلے کو منسوخ کر دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس جملے میں دی گئی استثنیٰ مناسب نہیں، عدالت نے کہا کہ خواتین عزت کی حقدار ہیں۔



خیال رہے کہ بلقیس بانو کو 11 افراد نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور ان کے خاندان کے سات افراد کو قتل کر دیا گیا۔ سی بی آئی نے اس کیس میں 11 قصورواروں کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ لیکن گجرات حکومت نے ان مجرموں کو 2022 میں 14 سال کے اندر رہا کر دیا۔اس کے بعد یہ فیصلہ آیا ہے۔

 بلقیس بانو کیس میں پہلی رٹ پٹیشن ایک مجرم کی جانب سے ہائی کورٹ میں دائر کی گئی۔ اس درخواست میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ انہیں رہا کیا جائے۔ ان کی درخواست کو ہائی کورٹ نے سماعت کے بعد خارج کر دیا۔ اس کے بعد اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔ سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ ریاستی حکومت یعنی گجرات حکومت پر چھوڑ دیا۔ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد گجرات حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دی۔ کمیٹی نے تمام 11 مجرموں کو بری کرنے کا فیصلہ دیا۔ان مجرموں کو معافی کی پالیسی کے تحت جلد رہا کر دیا گیا۔ اس فیصلے پر کافی تنازعہ ہوا تھا۔ بلقیس بانو اور ان کے وکیل نے بھی اعتراض کیا۔

 بلقیس بانو نے سپریم کورٹ میں اپیل کر دی۔ اس پر طویل سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران عدالت نے ریاستی حکومت سے پوچھا کہ عمر قید کی سزا کس بنیاد پر کم کی گئی؟ جیل میں ایسے بہت سے قیدی تھے اور سوال یہ تھا کہ صرف ان مجرموں پر ہی کیسے رحم کیا جا سکتا ہے جب وہ رہائی کے حقدار ہیں۔ تاہم سپریم کورٹ نے آج گجرات حکومت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔عدالت نے بری کئے گئے 11 مجرموں لوگ دوبارہ جیل میں جانے کیلئے دو ہفتوں میں خود سپردگی کرنے کی ہدایات دی ہیں آور کہا کہ گجرات حکومت کا فیصلہ غلط تھا ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے