وزیر اعلیٰ سمیت ایم ایل ایز کی نااہلی کیس کا فیصلہ 10 جنوری کو سنایا جائے گا ، اسمبلی اسپیکر کے پاس کیا آپشن ہیں؟
کیا وزیر اعلیٰ سمیت 16 اراکین اسمبلی نااہل ہونگے یا اسمبلی اسپیکر خود اپنے عہدے سے مستعفی ہونگے، یا پھر غیر جانبدارانہ فیصلہ سنا کر کسی کو نااہل قرار نہیں دینگے؟
نئی دہلی : 8 جنوری (بیباک نیوز اپڈیٹ) جون 2022 میں ایکناتھ شندے نے بغاوت کر دی اور بی جے پی کے ساتھ اقتدار میں حصہ لے کر وزیر اعلیٰ بھی بن گئے ۔اس کے بعد شندے کے بعد ادھو ٹھاکرے سپریم کورٹ میں پہنچ کر درخواست دائر کی۔ سپریم کورٹ کی طرف سے اسپیکر قانون ساز اسمبلی کو نتیجہ دینے کا حکم دیا گیا۔اس کے بعد اس سلسلے میں اسپیکر کے سامنے سماعت ہوئی۔سماعت میں ثبوت، دستاویزات، گواہی جیسی کارروائی مکمل ہوئی اور آخر کار شیو سینا کے ممبران اسمبلی کی نااہلی کی کارروائی مکمل ہوئی اور فیصلے کی تاریخ 10 جنوری طے کر دی گئی ہے۔10 جنوری کو شام 4 بجے تک اس کیس کا تاریخی نتیجہ آنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔نتیجہ کو لے کر شیوسینا کے دونوں گروپ کی طرف سے دعوے اور جوابی دعوے کیے جا رہے ہیں۔ اسمبلی اسپیکر راہل نارویکر کا کیا ہوگا نتیجہ؟ ان کے پاس کیا اختیارات ہیں؟ ریاست بھر میں یہی بحث شروع ہو گئی ہے۔
اب بات ہے کہ اسمبلی اسپیکر راہل نارویکر نے اپنے فیصلے کا مسودہ قانونی رائے کے لیے دہلی کے ماہرین کو بھیج دیا ہے۔سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق 10 جنوری تک فیصلہ سنانا لازمی ہے۔ذرائع کے حوالے سے مختلف میڈیا کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق اسپیکر اسمبلی کے فیصلے میں زبانی غلطیوں کو دور کرنے پر بھی کام جاری ہے۔ نتیجہ کا صرف زبانی حصہ پڑھا جائے گا۔ دونوں گروپوں کو تفصیلی نتیجہ کی کاپی بعد میں دیے جانے کا امکان ہے۔ گزشتہ 4-5 مہینوں سے شیوسینا کے ممبران اسمبلی کی نااہلی کے معاملے پر اسمبلی اسپیکر کے سامنے سماعت جاری ہے۔
پوری ریاست کی توجہ اس طرف لگی ہوئی ہے کہ 10 جنوری کو اسمبلی اسپیکر راہل نارویکر کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ایم ایل اے نااہلی کیس میں نارویکر کا فیصلہ تیار ہے۔ فیصلے کے تناظر میں، نارویکر نے 7 جنوری کو وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے سے ورشا بنگلے میں ملاقات کی، جس پر ٹھاکرے گروپ کے ایم پی سنجے راوت نے تنقید کی تھی۔
نارویکر کے پاس کیا اختیارات ہیں؟
شیو سینا کے ممبران اسمبلی کی نااہلی کو لے کر نارویکر کے پاس درج ذیل اختیارات ہیں۔
ایک تو ٹھاکرے گروپ کے 16 ایم ایل ایز کی نااہلی کا فیصلہ کرنا۔
• دوسرا چیف منسٹر ایکناتھ شندے کو ان کے ساتھ موجود ایم ایل ایز کے ساتھ نااہل قرار دینا ہے۔
اس بات کا بھی امکان ہے کہ نارویکر خود نتیجہ کسی گروپ کے حق میں دینے کے بجائے ودھان سبھا اسپیکر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔
• اس کے علاوہ راہل نارویکر غیر جانبدار نتیجہ دے کر کسی گروپ کو نااہل قرار نہیں دیں گے، ماہرین کی جانب سے مختلف امکانات کا اظہار کیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ نے رکنیت کا فیصلہ اسمبلی سپیکر پر چھوڑ دیا۔سپریم کورٹ نے 11 مئی کو ایکناتھ شندے گروپ کے 16 باغی ایم ایل اے کو نااہل قرار دینے کا فیصلہ صدر کو سونپا تھا۔وہیں ادھو ٹھاکرے گروپ لیڈر سنیل پربھو نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی اور اس معاملے پر دوبارہ غور کرنے کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے درخواست میں دلیل دی تھی کہ اسمبلی اسپیکر جان بوجھ کر معاملے کو ملتوی کر رہے ہیں۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com