ٹیکسٹائل انڈسٹری کے مسائل کا مطالعہ کرنے و مثبت حل پیش کرنے کیلئے سات رکنی کمیٹی کی تشکیل
دادا بھسے ٹیکسٹائل کمیٹی کے صدر ، بھیونڈی سے رئیس شیخ بھی شامل ، مالیگاؤں سے مفتی اسمٰعیل کا نام کمیٹی میں نہیں
ممبئی : 20 دسمبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) ریاست میں لوم مالکان کے مسائل کا مطالعہ کرنے اور ان کا حل تجویز کرنے کے لیے عوامی نمائندوں کی ایک کمیٹی کی تشکیل کے حوالے سے مہاراشٹر حکومت کوآپریٹیو، مارکیٹنگ اینڈ ٹیکسٹائل ڈپارٹمنٹ نے جاری اسمبلی اجلاس میں توجہ طلب عنوان کے تحت پاورلوم کے مسائل پر آواز بلند کی گئی ۔مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی کے قاعدہ 105 کے تحت، ریاست میں ٹیکسٹائل کی صنعت میں پیش آرہی مشکلات کے تعلق سے اسمبلی میں ایک توجہ طلب تجویز پیش کی گئی۔ مذکورہ نوٹس پر بحث کے دوران ریاست میں پاورلوم مالکان کے مسائل کا مطالعہ کرنے اور حل کا منصوبہ تجویز کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ اسطرح کا اعلان وزیر (صنعت) نے ایوان میں کیا ہے۔ مذکورہ اعلان/یقین دہانی کے مطابق ریاست میں پاور لوم مالکان کے مسائل کا مطالعہ کرنے اور انکے حل کا منصوبہ تیار کرنے کے لیے عوامی نمائندوں کی ایک کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ حکومت کے زیر غور تھا۔ریاست میں پاور لوم مالکان کے مسائل کا مطالعہ کرنے اور ان کے حل کا منصوبہ تجویز کرنے کے لیے عوامی نمائندوں کی ایک کمیٹی تشکیل دی ہے اس میں مالیگاؤں آؤٹر کے رکن اسمبلی و مہاراشٹر کے وزیر دادا جی بھوسے کو صدر بنایا گیا ہے ۔اس کے علاوہ اس کمیٹی میں بطور رکن پرکاش آوڑے، سابق وزیر، سبھاش دیشمکھ، سابق وزیر . رئیس شیخ رکن اسمبلی، انیل بابر، پروین ڈٹکے، منیجنگ ڈائریکٹر، مہاراشٹر اسٹیٹ مشینری، ممبر سیکرٹری پاورلوم کارپوریشن ہونگے ۔
مذکورہ کمیٹی ریاست کے پاور لوم سینٹرس کا براہ راست معائنہ کرے گی اور 30 دنوں کے اندر حکومت کو واضح سفارشات اور اسکیم کے تفصیلی خاکہ کے ساتھ رپورٹ پیش کرے گی۔مذکورہ کمیٹی کا ورکنگ کمیٹی کا اجلاس بھی ہوگا ۔کمیٹی کے اخراجات کو اسکیم کی فراہمی سے 2852-0505 ہیڈ کے تحت ٹیکسٹائل انڈسٹری کے مختلف یونٹس کے منصوبوں کا مطالعہ اور معائنہ کرنے کے لیے طلب کیا جائے۔ریاست کے ٹیکسٹائل انڈسٹری کے علاقے میں پاور لوم تنظیموں کے بیانات کے مطابق ان کے مسائل کا مطالعہ کیا جائے گا ۔بنکروں کی مختلف تنظیموں اور ریاست کے سینٹرس کے مسائل کے بارے میں فیڈریشن کے ساتھ بات چیت کرنا ،پاور لوم مسائل کا مطالعہ کرنا اور حکومت کو حل کا منصوبہ پیش کرنا۔ٹیکسٹائل پروجیکٹس کے لیے پاور سبسڈی اسکیم کے تحت لوم مالکان کی آن لائن رجسٹریشن اور درپیش مسائل کا حل تجویز کرنا، بیک لاگ اجزاء کے لیے قلیل مدتی حل تجویز کرنا۔ریاستی حکومت کی مشینری کے لیے موجودہ اسکیموں میں ممکنہ تبدیلیاں تجویز کرنا، ریاست میں اس ڈویژن کے متعلقہ علاقائی ڈپٹی کمشنر (ٹیکسٹائل انڈسٹری) جہاں کمیٹی دورہ کرے گی کوآرڈینیٹر کے طور پر کام کرے گی۔اس حکومتی فیصلے کی تصدیق ڈیجیٹل دستخط سے مہاراشٹر کے گورنر کے نام سے کرشنا پوار ڈپٹی سکریٹری، حکومت مہاراشٹر نے جاری کی ہے ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مالیگاؤں مہاراشٹر میں ایک بڑا پاورلوم مرکز ہے ۔یہاں سے ایک بار پھر رکن اسمبلی مفتی اسماعیل کو نظر انداز کردیا گیا ہے یا پھر مفتی اسمٰعیل قاسمی نے کوئی جدوجہد نہیں کی، کیا موجودہ قیادت کے چلتے شہر کا دبدبہ کم ہوگیا ہے؟ مالیگاؤں سینٹرل اسمبلی حلقہ میں آؤٹر کی بہ نسبت لاکھوں پاورلوم کارخانے ہیں، ہزاروں کی تعداد میں بنکر اور لاکھوں کی تعداد میں مزدور رہتے ہیں ٹیکسٹائل سٹی آف مالیگاؤں سے جانے پہچانے والے اس شہر کو ایک بار پھر نمائندگی سے محروم ہونا پڑا ۔اس تعلق سے رکن اسمبلی مفتی اسماعیل قاسمی کی گرفت کمزور نظر آرہی ہیں یا پھر انہیں نظر انداز کیا جارہا ہے ۔حالانکہ اس کمیٹی کے صدر مالیگاؤں آؤٹر کے رکن اسمبلی و وزیر دادا بھسے ہیں ۔پاورلوم صنعت کے مسائل و حل پر تشکیل دی گئی سرکاری کمیٹی میں مالیگاؤں سے نمائندگی نہ ہونا قابل افسوس بتایا جارہا ہے ۔اس بارے میں بنکروں کو سوچنا چاہیے ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com