کسانوں کے لانگ مارچ سے مہاراشٹر حکومت نے لیا اہم فیصلہ ، کئی مطالبات منظور لانگ مارچ کررہے کسانوں میں سے ایک کسان کی موت، وزیر اعلیٰ نے لانگ مارچ ملتوی کرنے کی اپیل کی


کسانوں کے لانگ مارچ سے مہاراشٹر حکومت نے لیا اہم فیصلہ ، کئی مطالبات منظور 


لانگ مارچ کررہے کسانوں میں سے ایک کسان کی موت، وزیر اعلیٰ نے لانگ مارچ ملتوی کرنے کی اپیل کی 



ممبئی : 17 مارچ (بیباک نیوز اپڈیٹ) احتجاج کرنے والے کسانوں کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے ۔تفصیلات کے مطابق ناسک سے ممبئی تک لانگ مارچ کرنے والے کسانوں کے تقریباً تمام مطالبات کو اصولی طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔باقی مطالبات کے لیے وزراء اور ایم ایل اے کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ اسطرح کا اعلان آج چیف منسٹر ایکناتھ شندے نے قانون ساز اسمبلی میں کیا ۔وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے کہا کہ یہ کمیٹی اگلے مہینے میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔


 وزیر اعلیٰ نے کسانوں سے احتجاج واپس لینے کی اپیل بھی کی۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ 4 ہیکٹر تک جنگلاتی اراضی قبائلیوں کو دی جائے گی، دیوستھان، گیاران کی زمین گیران زمین کے مالکان کو دی جائے گی اور گیران زمین پر مکانات کو باقاعدہ بنایا جائے گا۔اسی طرح پیاز پر 300 سے 350 روپے تک سبسڈی دی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے قانون ساز اسمبلی میں اس کا اعلان کیا ہے۔ لال پیاز پر 300 روپے سبسڈی کا اعلان پہلے ہی کیا جا چکا ہے۔ لیکن پیاز پیدا کرنے والے اور اپوزیشن پارٹی سبسڈی بڑھانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔اس کے بعد ایکناتھ شندے نے کہا ہے کہ یہ سبسڈی 300 سے بڑھا کر 350 روپے کر دی گئی ہے۔

ادھر سابق ایم ایل اے کامریڈ جیوا پانڈو گاوت کی قیادت میں ناسک کے ڈنڈوری سے نکلا لانگ مارچ ممبئی پہنچنے کے دروازے پر ہیں اور اسی بیچ ایک کسان کی موت کی خبر بھی سامنے آئی ہے ۔کسانوں میں اپنے مطالبات کو لیکر جوش و خروش پایا جارہا ہے ۔اس درمیان مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے ایوان میں اعلان کیا آور ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ طلب کر مزید مطالبات کو منظور کرنے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے