شیو سینا اور تیر کمان پر الیکشن کمیشن آف انڈیا کا فیصلہ ، شندے گروپ میں خوشی کا ماحول
نئی دہلی :17 فروری(بیباک نیوز اپڈیٹ) مرکزی الیکشن کمیشن نے آج شیوسینا کے نام اور پارٹی کے نشان تیرکمان کو لے کر بڑا فیصلہ سنایا ہے۔ ایکناتھ شندے کی قیادت والے گروپ کو شیو سینا کا نام اور تیر کمان کا نشان دیا گیا ہے۔ جو ٹھاکرے گروپ کیلئے کسی بڑے جھٹکے سے کم نہیں ۔
شندے اور ٹھاکرے گروپ نے شیوسینا کے نام اور تیر کمان کے نشان کے تنازع پر تحریری شکل میں مرکزی الیکشن کمیشن کو اپنی عرضیاں پیش کی ہیں۔ اس کے مطابق، ادھو ٹھاکرے اور ایکناتھ شندے کی قیادت میں دونوں گروپوں نے اپنے وکلاء کے ذریعے کمیشن کے سامنے یہ تحریری حلف نامہ جمع کرایا ہے۔ شندے اور ٹھاکرے دونوں گروپوں نے الیکشن کمیشن کے سامنے مضبوط دعوے بھی کئے۔
شندے نے اپنے تحریری دستاویزات کے ذریعے دعویٰ کیا ہے کہ شیوسینا کے 40 لیڈر، 6 ڈپٹی لیڈر، 13 ایم پی، 40 ایم ایل اے، 49 ضلعی سربراہان، 87 محکمہ کے سربراہان اور ایوان نمائندگان کے کل 282 ارکان میں سے 199 ان کی حمایتی ہیں ۔ اس حوالے سے ان کی طرف سے جمع کرائی گئی دستاویز میں یہ سب کچھ بتایا گیا ہے۔
ٹھاکرے گروپ کی طرف سے 112 صفحات پر مشتمل تحریری دلائل اور 124 صفحات پر مشتمل شندے گروپ نے الیکشن کمیشن کے سامنے اپنی دلیل پیش کیا تھا۔ اس دلیل میں ٹھاکرے گروپ نے کہا ہے کہ ان لوگوں نے 10ویں شیڈول کے مطابق پارٹی چھوڑی، اس لیے وہ پارٹی کے نشان پر دعویٰ نہیں کر سکتے۔ انہیں یہ حق نہیں مل سکتا ۔ چنانچہ شندے گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹھاکرے گروپ کا تنظیمی جماعت کا دعویٰ غلط ہے۔ کیونکہ ان کا انتخاب جمہوریت پر مبنی نہیں ہے۔اس لیے شندے گروپ نے ادھو ٹھاکرے کے پارٹی سربراہ کے عہدے کو چیلنج کیا تھا۔ اب کمیشن نے ایکناتھ شندے کی قیادت والے گروپ کو شیو سینا کا نام اور تیر کمان کا نشان دیا ہے۔اس موقع پر وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے فیصلے کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں کیونکہ ہمارے لاس اکثریت ہے اور جمہوریت میں اکثریت پر ہیں فیصلے ہوتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جیت کسی ایک کی نہیں بلکہ مہاراشٹر کے ہزاروں لاکھوں ورکروں اور بالا صاحب کی شیو سینا پارٹی کی ہے ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com