جنتا بینک کے سی ای او اور ہیڈ کیشیئر کیخلاف لاکھوں روپے مالی بدعنوانی کا الزام، پولس میں مقدمہ درج


جنتا بینک کے سی ای او اور ہیڈ کیشیئر کیخلاف لاکھوں روپے مالی بدعنوانی کا الزام ، پولس میں مقدمہ درج 




مالیگاؤں : 31 جنوری (بیباک نیوز اپڈیٹ) مالیگاؤں شہر کی جنتا کو آپریٹیو بینک میں ہوئی مالی بدعنوانی کا معاملہ میں بالآخر آج سٹی پولس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق گناہ رجسٹرڈ نمبر 18 /2023 ، تعزیرات ہند کی دفعات 420،434 اور 34 کے تحت انصاری امتیاز احمد احمد اللہ (62) سی ای او جنتا بینک مالیگاؤں، جاوید اختر صدیق احمد (31) ملازمت کیشیئر جنتا کو آپریٹیو بینک قدوائی روڈ مالیگاؤں پر مالی بدعنوانی کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ۔اس ضمن میں جنتا بینک کی ہیڈ برانچ میں مینجر جنید احمد اقبال احمد (42) ساکن گھر نمبر 671 روی وار وارڈ، رسول پورہ  نے بطور فریادی شکایت درج کی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق مورخہ 3 جنوری کی شام چھ بجے سے مورخہ 23 جنوری کی شام چھ بجے کے درمیان اسلام پورہ وارڈ میں واقع جنتا کوآپریٹو بینک کے سٹرانگ روم میں رکھی نقد رقم 28 لاکھ 80 روپیہ غائب ہوگئی ۔مذکورہ تاریخ اور وقت اور مقام پر جنتا کو آپریٹیو بینک لمیٹڈ ، ہیڈ آفس ، انڈسٹریل کمپاؤنڈ قدوائی روڈ پر بینک کے سٹرانگ روم میں رکھی گودریج کمپنی کی لوہے کی محفوظ سیف (کباٹ) میں رکھے ہوئے روپیہ کا معائنہ کرنے کیلئے آر بی آئی کے نگران افسر چرنجیو پلاو کے ذریعہ انفرادی طور پر تصدیق کی گئی۔ جس میں فرق پایا گیا ۔چیف ایگزیکٹو آفیسر انصاری امتیاز احمد احمد اللہ نے جو بنڈل 500 کے نوٹوں کے بنڈل دیئے اسکے نچلے حصے میں 20 روپے مالیت کے نوٹوں کے بنڈل پائے گئے ۔اور کیش بک میں درج کیش (نقد رقم) میں 28 لاکھ 80 ہزار روپے کم نظر آئے ۔جس کی بناء پر چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO)انصاری امتیاز احمد احمد اللہ اور بینک کے خزانچی جاوید اختر صدیق احمد عمر 31 سال پر نقد رقم میں مالی دھوکہ دہی کے مرتکب ہونے کا الزام عائد ہے ۔جس کی بناء پر مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے