بنکروں کا روپیہ کتنا محفوظ ؟، کوآپریٹو بینک میں لاکھوں کا خرد برد! ، ہیڈ کیشیئر کا سنسنی خیز انکشاف 28 لاکھ روپے کہاں گئے؟ مکمل جانچ کی جائے ، پولس انتظامیہ سے اپیل


بنکروں کا روپیہ کتنا محفوظ ؟، کوآپریٹو بینک میں لاکھوں کا خرد برد! ، ہیڈ کیشیئر کا سنسنی خیز انکشاف 28 لاکھ روپے کہاں گئے؟ مکمل جانچ کی جائے ، پولس انتظامیہ سے اپیل





مالیگاؤں : 29 جنوری (بیباک نیوز اپڈیٹ) گزشتہ دنوں سے شہر کی ایک نجی بینک میں خرد برد کی خبر منظر عام پر آئی ۔جس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ بنکروں کا روپیہ کتنا محفوظ ہے؟۔اس لئے کہ شہر کی ایک کوآپریٹو بینک میں لاکھوں کا خرد برد کا انکشاف ہیڈ کیشیئر نے ایک نجی یوٹیوب کو بیان دیتے ہوئے کیا ۔ہیڈ کیشیئر کی جانب سے یوٹیوب پر دی گئی تفصیلات کے مطابق بینک سے من مانے طریقہ سے پیسہ نکال لیا جاتا تھا اور اپنے استعمال میں لیا جاتا ہے اور مجھ پر دباؤ بنایا جاتا ہے کہ تونے کچھ بولا تو تجھکو سسپینڈ کردیا جائے گا ۔ہیڈ کیشیئر نے کہا کہ اس پورے معاملہ کی مکمل انکوائری کی جائے ۔انہوں نے کہا کہ اسٹرانگ روم کی چابی میرے پاس بھی رہتی ہیں اور انکے پاس بھی ۔ہیڈ کیشیئر نے کہا کہ بینک کے چیئرمین اپنے ایک ساتھی کو بچانا چاہتے ہیں ۔جتنا میں ذمہ دار ہوں اتنا ہی وہ بھی جواب دہ ہیں ۔انہوں نے بیان میں کہا کہ جس دن یہ واقعہ ہوا اسی دن یہ ایف آئی آر کیوں نہیں ہوئی؟پولس آتی اگر میں گنہگار ٹہرتا تو مجھ سے تفتیش کرتی ۔بینک کے سی سی ٹی وی کو چیک کرتی اور جو ذمہ دار ہوتا اس پر کارروائی کرتی ۔انہوں نے کہا کہ اتنا سب کچھ ہونے کے بعد معاملہ کو جان بوجھ کر طول دیا گیا ۔کیشیئر نے کہا کہ آر بی آئی اڈیٹر سینٹرل گورنمنٹ کا آفیسر ہے وہ کیوں رک گیا ۔انہوں نے کارروائی کیوں نہیں کی؟جب دوسرے دن مجھکو بینک کے چیئرمین طلب کر معلومات لیتے ہیں تو میں کہتا ہوں کہ سی سی ٹی وی چیک کریں لیکن چئیرمین صاحب کیمرہ چیک نہیں کرتے ۔کیشیئر نے کہا کہ چیئرمین سمیت سی ای او اور ڈائریکٹر وغیرہ بینک سے جب چاہے روپیہ لے جاتے تھے اور استعمال کرتے تھے اور پیسہ واپس لایا نہیں کرتے تھے ۔ کیشیئر نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ اس پورے معاملے کی انکوائری ہونا چاہئے ۔میں ایڈیشنل ایس پی، ضلع ایس پی اور ڈی وائے ایس پی سے اپیل کرتا ہوں کہ تحقیقات کی جائے ۔تاکہ پتہ چلے کہ بنکروں کا پیسہ کتنا محفوظ ہے؟

کیشیئر نے بتایا کہ 23 جنوری کو بینک میں اندرونی طور پر اڈیٹ کیا گیا ۔تو اس میں 28 لاکھ روپے کم پائے گئے ۔بینک میں 16 سے زائد کیمرہ لگا ہوا ہے لیکن آر بی آئی آڈیٹر نے صاف کہہ دیا کہ اس میں کچھ نوٹوں کے بنڈل تبدیل کئے گئے ۔ہیڈ کیشیئر نے کہا کہ جب 23 جنوری کو آر بی آئی آڈیٹر نے کیش کم پایا تو انہوں نے ان سی ای او سے سوال کیا کہ اس میں اتنا روپیہ کیوں کم ہے؟ جب جواب نہیں مل سکا تو آر بی آئی آڈیٹر نے کہا کہ فوری طور پر آپ ایف آئی آر کریں ورنہ میں کرتا ہوں ۔سی ای او نے آر بی آئی آڈیٹر کو سمجھا لیا ۔اور پولس کو آنے سے روکا گیا ۔لیکن جب مجھکو طلب کیا گیا تو میں نے جواب میں کہا کہ سی سی ٹی وی چیک کیا جائے ۔اور جانچ کی جائے ۔لیکن آر بی آئی اڈیٹر واپس چلے گئے ۔سی ای او نے کوئی کارروائی نہیں کی اور نہ ہی ایف آئی آر درج کی گئی بلکہ سب ملازمین کو اپنے اپنے گھر روانہ کردیا گیا ۔کیشیئر نے سوال اٹھایا کہ کیوں ایف آئی آر نہیں کی گئی؟ کیا کہیں کوئی سانٹھ گانٹھ تو نہیں ہے؟ چیئرمین، ڈائریکٹر، سی ای او نے مجھ پر مسلسل دباؤ بنانے کی کوشش کی اور مجھکو نکالنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن میں شفافیت کی بنا پر اپنی ڈیوٹی پر قائم رہا ۔کیشیئر نے کہا کہ کیش ڈپارٹمنٹ کی چابی صرف کیشیئر کے پاس نہیں رہتی بلکہ ایک چابی سی ای او کے پاس بھی رہتی ہیں ۔اس لئے پورے معاملے کی جانچ ہونا چاہیے ۔اسطرح کی مکمل تفصیل ہیڈ کیشیئر نے ایک یوٹیوب چینل کو دی ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اس معاملے میں کیا کارروائی ہوگی؟ اور بنکروں کے پیسہ کو محفوظ تسلیم کیا جائے گا یا نہیں؟ اس پر ابھی کہنا قبل از وقت ہوگا ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے