جامعہ انعام العلوم میں تقریب تکمیل حفظ قرآن کریم ، پہلے سیشن میں 18 حفاظ کرام حفظ کی سعادت سے سرفراز


جامعہ انعام العلوم میں تقریب تکمیل حفظ قرآن کریم ، پہلے سیشن میں 18 حفاظ کرام حفظ کی سعادت سے سرفراز



مالیگاؤں : یکم جنوری (بیباک نیوز اپڈیٹ) قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، اسے مکمل یاد کرنے کی توفیق ملنا، بڑی سعادت مندی ہے، حافظ قرآن کے بہت سارے فضائل احادیث میں وارد ہوئے ہیں، ہمیں اپنی اولاد میں سے کم از کم ایک کو حافظ قرآن اور عالم دین بنانا چاہیے' ان باتوں کا اظہار خیال علماء کرام نے جامعہ انعام العلوم سردار نگر میں منعقدہ تقریب تکمیل حفظ قرآن پاک سے کیا۔

مقررین نے کہا کہ 'حفظ قرآن اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے، جو ہر چاہنے والے کو نہیں ملتی ہے، حافظ قرآن کو بھی اپنی قدر کرنی چاہیے اور اہل خانہ کو بھی اس کی اہمیت سمجھنی چاہیے، یہاں کم و بیش 51 طلباء نے قرآن کریم جیسی عظیم کتاب یاد کرلی ہے جو انتہائی خوشی و مسرت کی بات ہے۔مقررین نے حفاظ کرام سے کہا کہ بات یاد رکھیے،  قرآن مجید کو ان شاءالله مرتے دم تک یاد رکھیں گے، اس کے لیے اساتذہ نے جو طریقہ بتایا ہوگا، اس پر عمل کریں، اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں کریں'۔

یکم جنوری کو دوپہر میں ڈھائی بجے نیا جنازہ ہال قبرستان میں واقع عمر بن خطاب مسجد میں اس مجلس کا انعقاد نہال احمد میاں جی کی صدارت میں کیا گیا ۔اس موقع پر مقرر خصوصی حضرت مولانا جمال عارف ندوی نے حفظ قرآن پاک پر تفصیلی خطاب کیا اور حفاظ کرام و انکے والدین کو مبارک باد پیش کی ۔اس مجلس کے پہلے سیشن میں 18 حفاظ کرام کی حفظ کی سعادت حاصل کی جبکہ جامعہ انعام العلوم کے 51 طلباء امسال حفظ کہ سعادت سے سرفراز ہورہے ہیں ۔اس مجلس میں حاجی افتخار احمد کے پوتے جمشید پترے والے کے بیٹے منصب بلال نے بھی حفظ قرآن پاک کی سعادت حاصل کر زمرہ حفاظ میں شمولیت اختیار کی ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے