اینٹی کرپشن بیورو میں آصف شیخ کی شکایت ، سروے نمبر 120،117 اور 121 میں قبرستان کیلئے مختص زمین کی غیر قانونی خرید و فروخت
لاکھوں روپے خرد برد کا امکان ، اب تک کارروائی کیوں نہیں؟کہیں سرکاری انتظامیہ ملوث تو نہیں؟
وزارت اقلیتی امور و شہری ترقیات کے چیف سیکرٹری کو مکتوب روانہ ،کارروائی کا مطالبہ
مالیگاؤں : 30 جنوری (بیباک نیوز اپڈیٹ) مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے سمکسیر سروے نمبر 117 ،120 و 121 کی سائٹ نمبر 378 کی زمین مالیگاؤں شہری ترقیاتی منصوبے میں مسلمانوں کے قبرستان کے لیے مختص ہے۔ کچھ سماجی کارکن اور سیاسی لوگ اس زمین کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کر خرید و فروخت کر رہے ہیں، اس کے متعلق ایک شکایت مالیگاؤں کارپوریشن کوبھی دی گئی ہے ۔لیکن اب تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔؟ جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بڑے پیمانے پر لاکھوں روپے کا خرد برد ہوا ہے۔اس زمین کی خرید و فروخت میں شامل افراد لاکھوں روپے کما کر عوام کیساتھ دھوکہ دہی کررہے ہیں لہذا اس جانب خصوصی توجہ دیکر مسلم قبرستان کیلئے مختص جگہ پر ہورہے ناجائز قبضہ جات و خرید و فروخت پر روک لگاتے ہوئے کارروائی کریں ۔اسطرح کی اپیل ناسک ضلع اینٹی کرپشن بیورو کو آصف شیخ نے ایک مکتوب پیش کرتے ہوئے کیا ہے ۔آصف شیخ نے اینٹی کرپشن بیورو کو تفصیلات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے شہری ترقیاتی منصوبے (ڈیولپمینٹ پلان) میں سروے نمبر 117، 120 اور 121 ریزرویشن نمبر۔ 378 مسلم قبرستانوں کے لیے مختص دکھائے گئے ہیں۔ میونسپل کارپوریشن نے اس اراضی کو حاصل کرنے کے لیے مہاسبھا کی قرارداد منظور کی ہے۔جس میں ہیرا پورہ، گلشن معصوم،گلشن یاسین، روی وار وارڈ، رسول پورہ، بوہرہ باغ جھوپڑ پٹی، گلشن مالک، گلشیر نگر، چندن پوری روڈ سے آگرہ روڈ، مالدہ شیوار جیسے بڑے شہری علاقے شامل ہیں۔ ان بستیوں کی آبادی تقریباً 3 لاکھ ہے، اس لیے اس علاقے میں مسلمانوں کا قبرستان ہونا بہت ضروری ہے ۔اگر ایسا ہی ہوتا رہا تو مستقبل میں مسلم قبرستان کیلئے جگہ ملنے کا امکان بہت کم ہے۔
آصف شیخ نے بتایا کہ اس زمین پر 30x12 فٹ کے چھوٹے پلاٹ تقسیم کر7/12 اتارا کے ساتھ زمین عوام کے نام پر منتقل کرنے کا جھوٹا وعدہ کر فروخت کیا جارہا ہے ۔مذکورہ معاملے میں سٹی انجینئر، حکومت اور انتظامیہ کے افسر نے اس کام کو روکنے کے بجائے اس کی حوصلہ افزائی کی ہے کیونکہ قبرستان کی زمین کے ملحقہ علاقے میں کارپوریشن سے بغیر اجازت گٹروں کی تعمیر کو غیر قانونی طور بنایا جا رہا ہے جب کہ میونسپل کارپوریشن اسطرح کے کسی بھی کام کو کرنے کی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی اس زمین کا لے آؤٹ منظور ہے اس پر بھی قانونی کارروائی کی ضرورت ہے۔ ریزرویشن اراضی کو غیر قانونی طور پر فروخت کیا جا رہا ہے۔ایسے غیر قانونی کام کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے تاکہ شہری ترقیاتی منصوبے کی خلاف ورزی نہ ہو۔ ہمیں خدشہ ہے کہ اس میں میونسپل کارپوریشن کے افسران کی ملی بھگت سے بڑے پیمانے پر لاکھوں روپے کا کرپشن ہوا ہے اور آفیسران کی ملی بھگت سے غیر قانونی خرید و فروخت کی جارہی ہے. لہٰذا انسداد رشوت ستانی محکمہ سے اپیل ہے کہ وہ سرکاری افسران و زمین مافیا کے خلاف انکوائری کر کے مقدمہ درج کریں ۔اس مکتوب کی ایک کاپی نائب وزیر اعلی و اقلیتی امور کے وزیر دیویندر فرنویس کے علاوہ پرنسپل سکریٹری محکمہ شہری ترقیات ، پرنسپل سکریٹری، اقلیتی محکمہ، کمشنر و ایڈمنسٹریٹر مالیگاؤں کارپوریشن ، نگر رچناکر ، مالیگاؤں کارپوریشن کو بھی دی گئی ہے ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com