وزیر اعلیٰ پر زمین گھوٹالہ کا الزام ، اپوزیشن نے ایوان میں شندے کے استعفیٰ کا مطالبہ کردیا


وزیر اعلیٰ پر زمین گھوٹالہ کا الزام ، اپوزیشن نے ایوان میں شندے کے استعفیٰ کا مطالبہ کردیا 



86 کروڑ روپے کی زمین صرف 2 کروڑ روپے میں فروخت کردی گئی، اپوزیشن نے اسمبلی اجلاس میں وزیر اعلیٰ کو گھیرا



مالیگاؤں : 20 دسمبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) ناگپور میں جاری مہاراشٹر کے سرمائی اجلاس میں کرناٹک سرحد کے مسئلہ پر گرما گرم بحث ہوئی، موجودہ حکومت کے ذریعہ مہاوکاس اگھاڑی کے ذریعہ منظور شدہ کاموں کی منسوخی پر بھی اپوزیشن نے سرکار کو گھیرا ۔ دریں اثناء اپوزیشن اب ریاست کے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے سے زمین گھوٹالے میں استعفیٰ کا مطالبہ کر رہی ہے۔لیکن وزیراعلیٰ نے ایوان میں اپوزیشن کو منہ توڑ جواب دیا ہے۔ اس موقع پر نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے بھی وزیر اعلیٰ کی حمایت کی۔

تفصیلات کے مطابق ٹھاکرے حکومت کے دوران موجودہ وزیر اعلیٰ شہری ترقی کے وزیر تھے۔ اس دوران این سی پی کے ایم ایل اے جتیندر اواد نے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے پر 86 کروڑ کی زمین صرف 2 کروڑ میں دینے کا الزام لگایا ہے۔ شندے کے اس فیصلے کے بعد عدالت نے شندے پر ڈور کھینچی۔ اس لیے اپوزیشن نے اس معاملے پر شندے کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔
استعفیٰ کے مطالبہ پر جواب دیتے ہوئے ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ فرنویس نے وزیر اعلیٰ شندے کی تائید کی اور کہا کہ یہ کوئی زمین پلاٹ کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ گنٹھے واری کا ہے۔ یہ فیصلہ ولاس راؤ دیشمکھ نے 17 جولائی 2007 کو لیا تھا۔ 49 حصوں میں سے 16 باقی رہے گئے تھے ۔اس سلسلے میں فرنویس نے دعویٰ کیا کہ 2009 اور 2010 میں بھی حکومتی احکامات جاری کیے گئے تھے۔

 فرنویس نے کہا کہ اس دوران عدالت میں مفاد عامہ کی عرضی بھی دائر کی گئی۔ عدالت نے اس پر ایک کمیٹی تشکیل دی۔ لیکن اس بار وزیر کو عدالتی حقائق یاد دلانا چاہیے تھے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا اور فیصلہ سنا دیا۔ اور یوں عدالت نے اس کیس میں اپنا آبزرویشن ریکارڈ کیا۔

  انہوں نے کہا کہ اگر اخبار میں چھپنے والی خبریں درست ہیں تو صورتحال کو 'جیسے ہے' برقرار رکھا جائے۔ 16 پلاٹوں کی ریگولرائزیشن منسوخ کر کے اس کی رپورٹ عدالت میں پیش کر دی گئی ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ فڑنویس نے یہ بھی کہا کہ عدالت کی طرف سے دی گئی کارروائی مکمل ہو گئی ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے