مہاوکاس اگھاڑی کے منظور شدہ کاموں کو روک کر سرکار تعمیر و ترقی کی دشمن ہے اپوزیشن ایوان میں کی ہنگامہ آرائی
نائب وزیر اعلیٰ فرنویس کا تیقن ، 70 فیصد کاموں کو دوبارہ منظوری دی گئی اور تمام کاموں کو منظور کیا جائے گا
ناگپور :20 دسمبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) اس وقت ریاست کا سرمائی اجلاس ناگپور میں جاری ہے اور اپوزیشن مختلف مسائل پر حکمراں شندے-فرنویس حکومت کو گھیرے ہوئے نظر آرہی ہے۔ پیر کو اپوزیشن نے کرناٹک سرحد کے معاملے پر موجودہ حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔ لیکن کرناٹک سرحدی مسئلہ پر فرنویس کے جواب پر اپوزیشن کو تھوڑا سا بیک فٹ پر دیکھا گیا۔ سرمائی اجلاس کا آج منگل کو دوسرا دن ہے اور اپوزیشن صبح سے ہی جارحانہ انداز میں نظر آرہی ہے۔
مظاہرین نے ودھان بھون کی سیڑھیوں پر احتجاج کیا۔ اس دوران اپوزیشن نے نعرے لکھے ہوئے پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے۔ مہاوکاس اگھاڑی کے دورانِ حکومت میں منظور کئے گئے ترقیاتی کاموں کو اپوزیشن نے منسوخ کرنے کی کیا وجہ ہے؟ اسطرح کا سوال پوچھا۔اور اس موقع پر ودھان بھون کی سیڑھیوں پر نعرے لگاتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت ترقیاتی کاموں کی مخالف ہے کیونکہ ہمارے دور میں منظور شدہ کاموں کی منسوخی کی وجہ سے یہ حکومت ملیدہ کھانے میں ہی آگے ہے۔ اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دیں، پلاٹ کا شریکھنڈ کھانے والے وزیر اعلیٰ کو جانے استعفیٰ دینا چاہیے جیسے نعرے لگاتے ہوئے اپوزیشن نے حکمراں شندے فرنویس حکومت کی سخت مذمت کی۔
اس کے بعد نائب وزیر اعلی دیویندر فرنویس اس معاملے پر اپوزیشن کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہوئے نظر آئے۔ فرنویس نے کہا کہ منسوخ کاموں میں سے 70 فیصد کو دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے اور نائب وزیر اعلیٰ نے مشتعل اپوزیشن ایم ایل اے کو یقین دلایا کہ باقی کاموں کے بارے میں بھی سوچ بچار کے بعد کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔
مہاوکاس اگھاڑی کے ایم ایل اے کی میٹنگ آج ختم ہونے کے بعد اپوزیشن لیڈران نے کانگریس دفتر سے ودھان بھون تک مارچ نکالا۔ اس وقت لیڈروں نے گاندھی ٹوپیاں پہنی تھیں جس میں لکھا تھا کہ بیلگام، نیپانی اور مہاراشٹر کو متحد ہونا چاہیے۔ آمریت نہیں چلے گی، شندے فرنویس حکومت پر لعنت ہو، پچاس کھولے ایکدم اوکے، اس حکومت کا کیا کرنا ہے سر نیچے.. پاؤں اوپر ہے۔جیسے نعرے بھی لگائے گئے ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com