کمشنر راج میں بھی بنیادی سہولیات کا فقدان، بجٹ جلد ریلیز کیا جائے اور تلواڑہ تالاب سے نئی پائپ لائن کے ذریعے پانی فراہم کیا جائے
سینٹرل علاقے میں 80 کروڑ کا فنڈ دیا جانا چاہئے ، ہمارے مطالبات منظور نہیں کئے گئے تو جنتا دل سیکوار پر امن جمہوری احتجاج کی راہ اختیار کرے گی۔
مالیگاؤں : 21 دسمبر (پریس نوٹ) مالیگاؤں کارپوریشن پر عوامی اقتدار کی میعاد ختم ہونے کے بعد سے کمشنر کی بطور پرشاشک نامزدگی عمل میں آئی ہے تب سے شہر میں بنیادی سہولیات کے فقدان میں مسلسل اضافہ ہی ہوا ہے۔ پرشاشک کو شہریان کی تکالیف سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ کمشنر کارپوریشن میں صرف راؤ نڈ مارنے آتے ہیں۔ اب شہریان کے ایک طبقے کا یہ بھرم بھی ٹوٹ گیا کہ کارپوریشن پر پرشاشک راج ہونا چاہیئے۔ حالاں کہ مالیگاؤں شہر کی عوام اس بات کی بھی گواہ ہے کہ شیو سینا ( باغی ) سے اقتدار میں حصے داری کر کے کل کی کانگریس اور موجودہ راشٹر وادی پارٹی نے مالیگاؤں کو جو نقصان پہنچایا اسے شہر کی تاریخ کا سیاہ ترین باب مانا جائے گا۔
بجٹ پر اسٹے صرف سینٹرل کی عوام کے لئے :-
کارپوریشن کا 2022-23 کا بجٹ، میونسپل باڈی کی میعاد ختم ہوتے ہی کمشنر کے ذریعے (freeze) کر دیا۔ اخباری خبروں کے مطابق بجٹ ریلیز کیا گیا مگر خبروں میں شائع مواد کو مانا جائے تو کچھ ہی دنوں میں کمشنر (پرشاشک) نے دوبارہ اس پر اسے عائد کر دیا۔ بجٹ پر پرشاشک کے ذریعے عائد انے کے باوجود گزشتہ مہینے کارپوریشن کی جانب سے ہی ایک اشتہار ظاہر کیا جاتا ہے، جس میں تقریبا 20 کروڑ روپے کے جنرل فنڈ سے مختلف تعمیراتی کاموں کے لئے ٹینڈر طلب کئے جاتے ہیں اور قریب قریب یہ بھی تعمیراتی کام شہر کے مغربی حصے یعنی ندی کے اُس پار کئے جانے کا ذکر مزکورہ اشتہار میں ہے۔ مالیگاؤں سینٹرل کی عوام کو شیو سینا اور راشٹر وادی کانگریس نے پانچ سال تک جو زخم دیئے اُن پر موجودہ پر شاشک نمک پاشی کا کام کر رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے پر شاشک نے شہر کے مشرقی حصے کے کھنڈر کو مزید بد حال کرنے کی قسم کھائی ہے۔ مالیگاؤں شہر کی جو آبادی کا رپوریشن کو 80 فی صد ٹیکس ادا کرتی ہے، اسے بنیادی سہولیات تک سے مسلسل محروم کیا جارہا ہے اور جان بوجھ کر سینٹرل کی عوام کے بجائے مغربی علاقے میں بڑے بڑے تعمیراتی کام پاس کئے جاتے ہیں۔ جیسا کہ ہم پہلے سے کہتے آئے ہیں کہ اس شہر میں سیاسی دبدبے کو ختم کر دیا گیا ہے اور اس کا بھگتان شہر کی 80 فی صد عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ابھی ماضی قریب میں ہی ایک سو دس کروڑ روپے کے فنڈ میں بھی سینٹرل کی عوام کو صرف دس کروڑ کالالی پاپ دیا گیا۔ جب کہ ایک سو دس کروڑ میں سے کارپوریشن نے اپنے خزانے سے چالیس کروڑ سے زائد ادا کئے جو کہ تشویش ناک ہے۔ اس کے علاوہ بھی کارپوریشن کا فنڈ مغربی علاقے میں اتنی دیدہ دلیری سے بجٹ پر اور فنڈ بھی ریلیز کیا جارہا ہے، وہ بھی جنرل فنڈ ، اگر آپ غور کریں گے تو آپ کو چلے گا کہ پچھلے پانچ سالوں میں مغربی حصے میں جتنے کام جنرل فنڈ کی مد میں ہوئے ، اس کا پانچ فی صد بھی سینٹرل علاقے میں نہیں دیا، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ شہر کا سیاسی بدبہ ختم ہو چکا ہے۔ لیڈر اپنے فائدے کے لئے پورے مالیگاؤں سینٹرل کی عوام کو بنیادی سہولیات سے محروم کر رہے ہیں اور ترقی کا نعرہ بھی لگاتے ہیں۔
اس معاملے میں جنتادل سیکولر کا صاف مطالبہ ہے کہ کارپوریشن کمشنر فوری طور پر 2022-23 کا بجٹ ریلیز کریں ۔ ساتھ ہی مالیگاؤں شہر کے مغربی علاقے میں 80 کروڑ روپے کے تعمیراتی کام پاس کئے گئے ہیں تو حصے داری کی بنیاد پر سینٹرل علاقے میں 80 کروڑ کا فنڈ دیا جانا چاہئے ، جس سے شہر میں بنیادی کام کاج ہو سکیں۔ کارپوریشن کمشنر سے جنتا دل سیکوار وفد کی صورت میں ملاقات کر کے یہ مطالبہ ان کے روبرو رکھے گی۔ اگر کارپوریشن کمشنر(پرشاشک) نے ہمارا یہ مطالبہ منظور نہیں کیا تو جنتا دل سیکوار پر امن جمہوری احتجاج کی راہ اختیار کرے گی۔
تلواڑہ تالاب کا پانی شہریان کا حق :-
جنادل سیکولر تلواڑہ تالاب کے پانی کو لے کر کبھی سست نہیں رہی ہے۔ کارپوریشن کی ملکیت کے اس پانی پر فرقہ پرستوں کی بری نظر ہونے کے باوجود جنتا دل سیکولر نے عوامی طاقت کے بل پر اور اپنے لیڈران کے دبدبے کے چلتے اسے بچائے رکھا ہے۔ آج بھی کارپوریشن کا حکمہ آب رسانی ،شہر کی ضرورت کا صرف 20 فی صد پانی ہی تلواڑہ تالاب سے حاصل کرتا ہے۔ بقیہ 80 فی صد پانی گرنا ڈیم سے حاصل کیا جاتا ہے اور عذر یہ پیش کیا جاتا ہے کہ تلواڑہ سے مالیگاؤں تک جو پائپ لائن ہے وہ نہایت کمزور ہو گئی ہے۔ یہ پائپ لائن زیادہ پریشر برداشت نہیں کر سکتی اس لئے کم پریشر سے پانی حاصل کیا جاتا ہے جس پر جنتا دل سیکولر نے ہی یہ مطالبہ رکھا تھا کہ تلوار تالاب سے مالیگاؤں شہر تک پانی کی نئی پائپ لائن نصب کی جائے ۔ جنتا دل سیکولر کے اس مطالبے کا اثر رہا کہ 23 جولائی 2022 کو کار پوریشن کمشنر نے نئی پائپ لائن منصوبے پر عمل درآمد کے لئے ایک تخمینہ بھی تیار کروایا مگر اس پر بھی عمل آوری نہیں ہو رہی ہے۔ جنتادل سیکولر اس مدعے پر بھی برابر چوکس ہے۔ پارٹی کا دیرینہ اور واضح موقف ہے کہ تلواڑہ تالاب کا پانی نہ کسی دوسرے گاؤں ، دیہات کو دیا جائے نہ ہی سیاسی پشت پناہی میں پانی چوری کیا جائے ۔ تلواڑہ تالاب سے مالیگاؤں کے لئے بھر پور پانی حاصل کیا جائے ، اس کا حاصل یہی ہے کہ جلد از جلد تلواڑہ تالاب سے مالیگاؤں فلٹر پلانٹ تک نئی پائپ لائن نصب کر دی جائے۔ اس اہم موضوع پر بھی جنتا دل سیکولرکارپوریشن پر دباؤ بنا کر کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا عزم رکھتی ہے۔ کارپوریشن کمشنر(پرشاشک) یہ بات گانٹھ باندھ کر رکھ لیں کہ جنتادل سیکولر جو مطالبات کر رہی ہے، اسے پورا کرنے کے لئے جمہوری حقوق کا استعمال کرنا بھی خوب جانتی ہے۔ شہر کے حق میں کسی بھی سخت تحریک کا راستہ اپنانے میں جنتادل سیکولر کے جیالے ورکر پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ مالیگاؤں شہر سے قریب بوری امبید ری گاؤں میں کسانوں کے لاکھ احتجاج کے بعد بھی وہاں پائپ لائن بچھانے کا کام زبر دست پولس بندوبست میں بھی کیا جا رہا ہے اور مالیگاؤں کے شہریوں کے مطالبے کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ مطلب کہ جہاں ضرورت ہے وہاں کام نہ کرتے ہوئے جہاں کام کی مخالفت کی جارہی ہے وہاں کام کیا جارہا ہے۔ اس معاملے میں جنتادل سیکولر ریاستی وزیر آب پاشی گلاب راؤ پائل سے بھی نمائندگی کرنے کا عزم کئے ہوئے ہے۔ تلواڑہ تالاب کے پانی کو لے کر جنتادل سیکولر کسی طرح کےسمجھوتے کے موڈ میں نہیں ہے۔
جاری کرده
شان ہند نبال احمد (صدر جنتا دل سیکولر، مالیگاؤں)
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com