کیا چینی حکومت کورونا مریضوں کی تعداد کو چُھپا رہی ہیں؟ چینی سرکار کے دستاویز لیک، سوشل میڈیا پر وائرل
خبر رساں ادارہ ریڈیو فری ایشیا کا سنسنی خیز دعوٰی ، 20 دنوں میں کورونا مریضوں کی تعداد 25 کروڑ ریکارڈ کی گئی
بیجنگ : 25 دسمبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) چین میں کورونا کی صحیح تعداد کیوں سامنے نہیں آرہی ہیں؟ کیا چینی حکومت کورونا مریضوں کی تعداد کو چھپا رہی ہیں؟ انٹرنیشنل میڈیا چین میں کورونا مریضوں کی تعداد کو کیوں زیادہ بتا رہا ہے؟ چین میں سب کچھ معمول پر ہیں یا نہیں؟ ان سب سوالوں کے درمیان کورونا وائرس کو لے کر ایک سنسنی خیز خبر سامنے آرہی ہے ۔بتایا جارہا ہے کہ چین میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد تقریبا 25 کروڑ تک پہنچ چکی ہیں اور یہ اعداد و شمار صرف 20 دنوں کے اندر ریکارڈ کئے گئے ہیں ۔ کورونا کی زیرو پالیسی ختم کرنے کے بعد متاثرین کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوا ہے ۔ اس طرح کا سنسنی خیز دعوٰی چین سرکار کے لیک دستاویز کی بنیاد پر ریڈیو فری ایشیا نے کیا ہے ۔ جو کہ چین کے سوشل میڈیا پر بھی یہ دستاویز وائرل ہورہے ہیں۔
ریڈیو فری ایشیا کا کہنا ہے کہ سرکار کے لیک ہوئے دستاویز میں متاثرین کی جو تعداد بتائی گئی ہے ، وہ حقیقی اعداد و شمار سے بالکل الگ ہے ۔ چین کے ایک سینئر صحافی جس نے ہیلتھ کمیشن کی میٹنگ میں حصہ لیا تھا نے ریڈیو فری ایشیا کو تایا کہ سرکار کے لیک ہوئے دستاویز صحیح اور درست ہیں۔ ، صحافی نے کہا کہ میں نے جان بوجھ کر مفاد عامہ میں یہ کام کیا ہے ۔
لیک ہوئے دستاویز کے مطابق چین کے محکمہ صحت کی میٹنگ میں پتہ چلا کہ ایک سے 20 دسمبر تک چین میں 24 کروڑ 80 لاکھ لوگ کورونا سے متاثر تھے ۔ یہ اعداد و شمار چین کی آبادی کا 17.65 فیصد ہے ۔ غور طلب ہے کہ سنیچر کو چین میں 3761 کورونا کے نئے معاملات سامنے آئے ۔ ان میں کسی کی موت نہیں ہوئی۔ریڈیو فری ایشیا کی یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب برطانیہ کی ہیلتھ ڈیٹا جمع کرنے والی فرم ایئرفنیٹی نے کہا ہے کہ چین میں ایک دن میں دس لاکھ کورونا کے مریض سامنے آئیں گے اور ایک دن میں پانچ ہزار اموات ہوں گی ۔
ایئرفنیٹی نے چین کے اندرونی اضلاع کے ڈیٹا کا مطالعہ کیا ہے ۔ فی الحال سامنے آئے حقائق اس بات کی جانب اشارہ کررہے ہیں کہ متاثرین کی تعداد تیزی سے بڑھے گی ۔ فی الحال بیجنگ اور گوانگ ڈونگ میں کورونا سے لوگوں کی حالت زیادہ خراب ہے۔اس چشم کشا حقیقت کو چینی حکومت تسلیم کریگی یا انٹرنیشنل میڈیا کا چین ٹرائل بن کر رہ جائے گا؟۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com