مہاراشٹر کے وزیر چندرکانت دادا پاٹل پر سیاہی پھینکی گئی ، ایک شخص گرفتار
پمپری :10 دسمبر (بیباک نیوز اپڈیٹ)متنازعہ بیان معاملے میں مہاراشٹر کے اعلی اور تکنیکی تعلیم کے وزیر چندرکانت دادا پاٹل پر آج پمپری چنچوڑ میں سیاہی پھینکی گئی ۔موصوف ایک پروگرام سے نکل کر اپنی گاڑی کے پاس جارہے تھے کہ سیکورٹی کے بیچ ایک نامعلوم شخص نے ان پر سیاہی پھینک کر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا اور پاٹل کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے انکی مذمت کی ۔اس بیچ سیکورٹی اہلکاروں نے سیاہی پھینکے والے شخص کو گرفتار کر لیا ہے ۔گرفتار شخص کس تنظیم سے وابستہ ہے اور وہ کون ہے اسکی ابھی جانکاری باقی ہے ۔تاہم سیاہی پھینکنے والے شخص نے گرفتاری کے بعد بھی پاٹل کی مذمت میں نعرے لگائے ۔
خیال رہے کہ پاٹل نے جمعہ کو پیٹھن میں منعقدہ پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ کرماویر بھاؤ راؤ پاٹل، ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر اور مہاتما پھلے نے طلباء کے لیے اسکول شروع کیے تھے۔ اس وقت انہوں نے اسکول شروع کرنے کیلئے بھیک مانگی تھی۔ چندرکانت پاٹل نے اسکولوں کو دی جانے والی گرانٹس کے بارے میں عظیم شخصیات کا حوالہ دیتے ہوئے مذکورہ بیان دیا تھا ۔ چندرکانت پاٹل نے کہا، کرم ویر بھاؤ راؤ پاٹل نے اسکول شروع کیے تھے۔ ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر اور مہاتما جوتی راؤ پھلے نے بھی اسکول شروع کیے تھے۔ حکومت نے انہیں اسکول شروع کرنے کے لیے گرانٹ نہ دی تو انہوں نے عوام سے بھیک مانگی۔ ان دنوں لوگ 10 روپے دیتے تھے۔ اب ایسے لوگ ہیں جو 10-10 کروڑ روپے ادا کر رہے ہیں۔
اس پر این سی پی ایم ایل اے امول مٹکری نے چندرکانت دادا پاٹل کے 'بھیک مانگنے' کے الفاظ پر اعتراض کیا ہے۔ انہوں نے پاٹل کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ امول مٹکری نے کہا کہ چندرکانت پاٹل نے ایک بار پھر دکھایا ہے کہ بی جے پی میں باتونی ہیرو ہیں۔ کرماویر بھاؤ راؤ پاٹل، مہاتما پھلے ، ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر نے عوامی اندراج اور عوامی شرکت کے ذریعے اسکول قائم کیے تھے۔ ان عظیم انسانوں نے اسکولوں کے لیے بھی اپنا پیسہ خرچ کیا۔ انہوں نے کبھی بھیک نہیں مانگی۔ امول مٹکری نے کہا کہ چندرکانت پاٹل نے تینوں عظیم شخصیات کو بھکاری کہہ کر ان کی توہین کی ہے۔
حالانکہ چندر کانت دادا پاٹل نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ میرا مطلب مہان شخصیات کی توہین کرنا نہیں بلکہ انکے آدرش کو پیش کرنا تھا ۔انہوں نے کہا کہ میرے بیان کا غلط مطلب لیکر ماحول خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہیں
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com