چار رکنی پینل سسٹم سے ہونگے کارپوریشن چناؤ ، کارپوریٹرس کی تعداد میں اضافہ نہیں ، تعداد جوں کی توں برقرار!
2011 کی مردم شماری اور 2017 کی وارڈ رچنا کے مطابق وارڈوں کی تعداد متعین ، مالیگاؤں کارپوریشن چناؤ میں 84 کارپوریٹرس ہی منتخب ہونگے!
ممبئی : 23 نومبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) مہاراشٹر کارپوریشن چناؤ کو لیکر ابھی بھی مطع صاف نہیں ہوا ہے سیاسی جماعتوں میں تذبذب قائم ہیں ۔میونسپل کارپوریشنوں میں ایڈمنسٹریٹر کی تقرری بھی زیادہ دنوں تک فائدہ مند نہیں ہے خود اسطرح کا اظہار الیکشن کمیشن نے کیا ہے لیکن اب الیکشن کو لیکر ایک طرف سرکار کاغذی کاروائی کررہی ہیں تو دوسری طرف معاملہ کورٹ میں زیر سماعت ہیں ۔ایسے میں اب مہاراشٹر کے محکمہ شہری ترقیات نے نئی وارڈ رچنا کرنے کا حکمنامہ جاری کیا ہے جسے ہم نے انہیں صفحات پر شامل اشاعت کیا تھا ۔
آج اس ضمن میں نمائندہ بیباک کو منترالیہ سے موصول تفصیلات کے مطابق مہاراشٹر کارپوریشن چناؤ 2017 کی وارڈ رچنا کے مطابق اور 2011 کی مردم شماری کے مطابق منعقد ہونگے ۔ممبئی میونسپل کارپوریشن میں وارڈ سنگل رہیں گے بقیہ پورے مہاراشٹر کی کارپوریشنوں میں چار کے پینل سسٹم سے چناؤ ہونگے ۔مثال کے طور پر مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن میں 2017 کے کارپوریشن چناؤ میں چار وارڈوں کا ایک پینل متعین کیا گیا تھا اور ایک وارڈ سے چار کارپوریٹرس منتخب ہوئے تھے ۔2011 کی مردم شماری کے مطابق مالیگاؤں کارپوریشن چناؤ میں ٹوٹل کارپوریٹرس کی تعداد 84 منتخب کی گئی تھی ۔بالکل اسی طرح مالیگاؤں کارپوریشن میں 2011 کی مردم شماری کے مطابق اور 2017 کے کارپوریشن چناؤ کی وارڈ رچنا کی کے مطابق ہی آئندہ کارپوریشن چناؤ ہونگے ۔ نمائندہ بیباک کو موصول تفصیلات کے مطابق مہاراشٹر کے وزارت شہری ترقیات نے جو حکمنامہ جاری کرتے ہوئے نئے سرے سے وارڈ رچنا کا فرمان جاری کیا ہے اب وہ کس طرح ہوگی اسکا خلاصہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آئندہ کارپوریشن چناؤ کی وارڈ رچنا چار وارڈوں پر مشتمل پینل سسٹم کے مطابق ہونگی اور مالیگاؤں کارپوریشن میں سابقہ کی طرح 21 وارڈ ہونگے جس میں 84 نمائندے منتخب ہونگے ۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کا اختیار الیکشن لینا ہوتا ہے لیکن پینل سسٹم یا سنگل وارڈ کا اختیار حکومت کو ہوتا ہے اور اسی لیے مہاراشٹر حکومت نے وارڈ رچنا رچنا کیلئے نیا فرمان جاری کیا ہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ وارڈ کس طرح بنتے ہیں؟
دوسری جانب او بی سی ریزرویشن اور وارڈوں کی تعداد، سنگل، پینل سسٹم کو لیکر ایک عرضداشت سپریم کورٹ میں دائر ہیں جس پر سماعت جاری ہیں اور آئندہ 28 نومبر کو سپریم کورٹ میں اس معاملے میں سماعت ہوگی ۔اس جانب سے کیا فیصلہ آتا ہے اس پر بھی نظریں لگی ہوئی ہیں لیکن مہاراشٹر حکومت نے اپنے اختیارات سے چار کا پینل سسٹم منظور کیا ہے اور اسی کے مطابق وارڈ رچنا کرنے کا فرمان بھی جاری کردیا گیا ہے ۔
خیال رہے کہ مہاراشٹر میں 2014 سے 2019 تک بھارتیہ جنتا پارٹی و شیو سینا کی حکومت نے اپنے فائدے کیلئے ممبئی کو چھوڑ کر پورے مہاراشٹر میں چار وارڈ کے پینل سسٹم کو نافذ کیا تھا اور اسی کے مطابق 2017 کے کارپوریشن چناؤ چار کے پینل سسٹم سے منعقد ہوئے تھے ۔ 2019 میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد مہاوکاس اگھاڑی سرکار کے نے اس فیصلے کو تبدیل کرتے ہوئے 3 رکنی پینل سسٹم کو منظوری دی تھی اور وارڈوں کی تعداد میں اضافہ بھی کیا تھا لیکن پھر اقتدار کی تبدیلی ہوئی اور شندے فرنویس سرکار نے سابقہ پینل سسٹم کو نافذ کرنے کیلئے کابینہ میں منظوری دیکر الیکشن کمیشن کو عمل آوری کیلئے روانہ کیا ہے اسی کے مطابق ممبئی کارپوریشن میں سنگل جبکہ ریاست کی دیگر میونسپل کارپوریشنوں میں چار رکنی پینل سسٹم کے مطابق الیکشن ہونگے ۔سیاسی جماعتیں اپنے اپنے ووٹ بینک اور حکمت عملی کے مطابق من موافق فیصلہ کر اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہیں ۔پھر بھی اب الیکشن کمیشن کس طرح وارڈ رچنا کرتا ہے اسکی روپ ریکھا کیا ہوگی؟ اس پر نظریں لگی ہوئی ہیں لیکن یہ طئے ہے کہ کارپوریشن چناؤ چار کے پینل سسٹم سے ہونگے اور کارپوریٹرس کی تعداد میں اضافہ بھی نہیں ہوگا ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com