مہاراشٹر کی سیاست میں ایکبار پھر اتھل پتھل کے اشارے ، شندے گروپ کے ایم پیز اور ایم ایل ایز کی سیکورٹی میں اضافہ


مہاراشٹر کی سیاست میں ایکبار پھر اتھل پتھل کے اشارے ،  شندے گروپ کے ایم پیز اور ایم ایل ایز کی سیکورٹی میں اضافہ

  




  ممبئی : 2 اکتوبر (بیباک نیوز اپڈیٹ)برسرِ اقتدار میں جہاں ایم ایل اے روی رانا اور ایم ایل اے بچو کڑو کے مابین الزامات دت الزامات کا سلسلہ دراز ہے وہیں  شندے فڑنویس حکومت کو آئندہ کابینہ کی توسیع کو لے کر ریاست میں زبردست سیاسی چیلنج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔  پردے پر نظر آنے والے ردعمل سے ایک دوسرے کے تئیں غصہ، ناراضگی دیکھی جا رہی ہیں۔  لیکن ذرائع نے بتایا ہے کہ پردے کے پیچھے بھی کافی سیاسی ہلچل چل رہی ہے۔ اسی ضمن میں آج ایک اور پیش رفت یہ سامنے آئی ہے کہ شندے گروپ کے ایم ایل ایز اور ایم پیز کی سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

 شندے گروپ کے ایم ایل ایز اور ایم پیز کو X سے Y+ لیول تک سیکورٹی فراہم کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ نائب وزیر اعلی دیویندر فڑنویس کی اہلیہ امریتا فڑنویس کی سیکورٹی میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔

  یہ سیکورٹی مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت فراہم کرتی ہے۔تفصیلات کے مطابق راہول شیوالے سمیت 11 ایم پیز اور 41 ایم ایل ایز کو پولس اہلکاروں اور پولیس وین کی اضافی سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔

  ان سیاسی اتھل پتھل میں ایکناتھ شندے گروپ کے ایم ایل اے ایک بار پھر گوہاٹی جانے کی تیاری کررہے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ کچھ لوگ ایودھیا بھی جائیں گے۔

  ریاستی حکومت کی طرف سے گزشتہ کچھ دنوں سے مہاوکاس اگھاڑی کے کئی اہم لیڈروں کی سیکورٹی میں کمی کر دی گئی ہے۔ اس میں ادھو ٹھاکرے گروپ کے ایم ایل اے، کانگریس اور این سی پی کے ایم ایل ایز بھی شامل ہیں۔  لیکن اب حکمراں شندے گروپ کے رہنماؤں کی سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

بی جے پی ایم ایل اے روی رانا نے شندے گروپ کے ایم ایل اے پر پیسے لینے کا الزام لگایا ہے۔  اس کی وجہ سے شندے گروپ کے حامی ایم ایل اے بچو کڑو نے روی رانا کے کیساتھ فرنویس کو چیلنج کیا ہے۔ بچو کڑو نے بیان دیا ہے کہ اگر ثابت ہو جائے کہ ہم نے پیسے لیے ہیں تو استعفیٰ دے دیں گے۔اب سوال یہ پیدا ہورہا ہے کہ شندے گروپ کے ایم ایل ایز اور ایم ہیز کی سیکورٹی کیوں بڑھائی گئی؟ 


 
 پیشین گوئی کی جا رہی ہے کہ آئندہ کابینہ کی توسیع میں بچو کڑو کو مطلوبہ عہدہ مل جائے گا۔دوسری طرف شندے گروپ کے ایم ایل اے کی سکیورٹی میں اضافہ ایک بار پھر اس بات کا اشارہ دے رہا ہے کہ سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔جو یقیناً مہاراشٹر کی سیاست میں اتھل پتھل کے اشارے دے رہے ہیں ۔این سی پی لیڈران کیساتھ ہی شیوسینا اور کانگریس نے بھی مہاراشٹر کی شندے فرنویس حکومت کو اقتدار سے بے دخل ہونا پڑے گا اور ایکبار پھر نئی حکومت مہاراشٹر میں قائم ہوگی یا پھر صدر راج کا نفاذ کیا جائے گا ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے