گجرات اسمبلی الیکشن کا اعلان ، یکم اور پانچ دسمبر کو ووٹنگ، 8 کو نتائج کا اعلان
روپے کی تقسیم اور دیگر اخراجات پر کمیشن کی کڑی نگرانی ،C-Vigil ایپ پر آن لائن کمپلین کی سہولت
نئی دہلی : 3 نومبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) الیکشن کمیشن نے بالآخر آج گجرات اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کر دیا ہے۔ پہلے مرحلے کی ووٹنگ یکم دسمبر اور دوسرے مرحلے کی ووٹنگ 5 دسمبر کو ہوگی۔ اس کے بعد انتخابی نتائج کا اعلان 8 دسمبر کو کیا جائے گا۔ ہماچل پردیش کے انتخابی نتائج کا بھی اسی دن اعلان کیا جائے گا، جہاں 12 نومبر کو ایک ہی راؤنڈ میں ووٹنگ ہوگی۔
گجرات میں 2007 سے انتخابات صرف دسمبر میں ہوتے ہیں اور دو راؤنڈ میں ووٹ ڈالنے کی روایت ہے۔ الیکشن کا اعلان ہوتے ہی گجرات میں ضابطہ اخلاق نافذ ہو گیا ہے۔ امیدوار 14 نومبر تک درخواست دے سکتے ہیں اور امیدواری واپس لینے کی آخری تاریخ 17 نومبر ہے۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ گجرات قانون ساز اسمبلی کی میعاد 18 فروری کو ختم ہو رہی ہے جس میں تقریباً 100 دن باقی ہیں۔ ریاست میں ووٹر لسٹیں 10 اکتوبر 2022 کو شائع کی گئی ہیں۔ اس بار گجرات انتخابات میں 4.9 کروڑ ووٹر ووٹ ڈالیں گے۔ یکم اکتوبر 2022 تک 18 سال کے ہونے والے نوجوانوں کو بھی ووٹ ڈالنے کا موقع دیا جا رہا ہے۔ کل 4.6 لاکھ ووٹر پہلی بار اپنے ووٹ کا استعمال کریں گے۔ ریاست میں ووٹنگ کے لیے کل 51 ہزار 782 مراکز قائم کیے جائیں گے۔ پولنگ سٹیشنوں پر پینے کا پانی فراہم کیا جائے گا اور بزرگوں کے آرام کے لیے ویٹنگ زون بھی تیار کیے جائیں گے۔
ووٹر کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے ریاست میں 142 ماڈل پولنگ اسٹیشن قائم کیے جائیں گے۔اس کے علاوہ 1,274 پولنگ اسٹیشنوں پر صرف خواتین عملہ اور سیکورٹی اہلکار تعینات ہوں گے۔ ہر ضلع میں بوتھ ہوں گے جہاں بہت نوجوان انتخابی کارکن تعینات ہوں گے۔ ہم نے یہ فیصلہ نوجوانوں کو ووٹ دینے کی ترغیب دینے کے لیے کیا ہے۔ ریاست میں معذور افراد کے لیے کل 182 خصوصی پولنگ اسٹیشن ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی پولنگ سٹیشن ایسا ہو گا جہاں صرف ایک ووٹر ہو لیکن 15 ملازمین کی ٹیم ووٹ ڈالنے جائے گی۔ 80 سال سے زیادہ عمر کے بزرگ شہری اور 40 فیصد سے زیادہ معذوری والے افراد گھر بیٹھے بیلٹ پیپر کے ذریعے ووٹ ڈال سکیں گے۔ اس کے لیے انہیں فارم 12D بھرنا ہوگا۔
گجرات میں تقریباً 9 لاکھ 80 ہزار ووٹر ہیں جن کی عمر 80 سال سے زیادہ ہے۔ ووٹرز اگر پیسے کی طاقت کا کوئی استعمال دیکھتے ہیں تو وہ C-Vigil ایپ پر شکایت دے سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن 100 منٹ میں شکایت کا جواب دے گا۔ اگر کسی امیدوار کا مجرمانہ پس منظر ہے تو پارٹیوں کو یہ بتانا ہوگا کہ وہ امیدوار کو ترجیح کیوں دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ امیدوار کو اپنی معلومات علاقائی اور قومی سطح کے میڈیا میں شائع کرنی ہوں گی۔اسطرح کی تفصیلات بھی کمیشن نے واضح کیا ہے۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com