کمشنر چور اور دادا بھسے کمیشن خور ہے، صفائی ٹیکس واپس نہیں لیا گیا تو کمشنر کا منہ کالا کیا جائے گا
مرکزی و ریاستی حکومت صفائی ٹیکس ادا کرے، عوام سے وصول نہ کیا جائے ورنہ سخت تحریک ، ہم ٹیکس نہیں ادا کریں گے
شیخ رشید کی قیادت میں صفائی ٹیکس کے خلاف پر ہجوم عوامی مورچہ ،کمشنر کیخلاف نعرے بازی
مالیگاؤں : 9 نومبر (بیباک نیوز اپڈیٹ)مالیگاؤں شہر کا کمشنر چور ہے ۔مہاراشٹر کے تمام شہروں میں و تعلقہ جات و دیہاتوں میں صفائی ٹیکس وصول کرنے کا فیصلہ ریاستی حکومت نے کیا ہے جو کہ ہمیں منظور نہیں ہے ۔ اب تک صفائی ٹیکس مرکزی حکومت ادا کرتی تھی ۔مودی حکومت نے ٹیکس کا بوجھ عوام پر ڈال دیا ہے اور ریاست مہاراشٹر کی شندے فرنویس حکومت جو پورے مہاراشٹر میں وصول کرنے کی تیاری کررہی ہیں نے اضافی طور پر 600 روپیہ ٹیکس لگایا ہے جس میں کمشنر نافذ کررہے ہیں جو کہ مالیگاؤں کیلئے مناسب نہیں ہیں۔ اگر کارپوریشن نے صفائی کے نام پر اضافی ٹیکس لگایا تو ہم ٹیکس نہیں بھریں گے ۔اسطرح کا اظہار شیخ رشید نے کیا ۔
موصوف نے مورچہ کی قیادت کرتے ہوئے کارپوریشن کمشنر کیخلاف تقریر کرتے ہوئے کہا کہ کمشنر کمیشن خور ہے اور دادا بھسے کی وجہ سے کمشنر کو مالیگاؤں تقرر کیا گیا ۔دادا بھسے بھی مہاراشٹر میں وزیر زراعت رہتے ہوئے کمیشن خور کا الزام پا چکے ہیں ۔شیخ رشید نے کہا کہ اگر اضافی ٹیکس لگایا گیا تو پھر پرشاشک کا منہ کلا کردیا جائے گا ۔شیخ رشید نے کمشنر کو چور کہتے ہوئے اسے بھگوڑا قرار دیا ۔اس موقع پر سیکڑوں خواتین نے جوش و خروش کیساتھ حصہ لیا ۔اس مورچہ میں نوجوانوں کیساتھ پارٹی ورکروں عہدیداروں اور خواہش مند امیدواروں کے علاوہ سابق و موجودہ کارپوریٹرس کثیر تعداد میں موجود تھے ۔شیخ رشید اور طاہرہ میڈیا نے میمورنڈم دیتے ہوئے لکھا ہے کہ مالیگاؤں شہر پاورلوم مزدوروں کا شہر ہے اور شہر کی کل آبادی میں سے زیادہ تر کچی آبادی میں رہ رہے ہیں، تقریباً 50 ہزار خاندان غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور 40 ہزار بیوہ سنجے گاندھی نرادھار یوجنا سے مستفید ہو رہی ہیں۔ لوگوں کی بڑی تعداد روزانہ کما کر اپنی زندگی گزار رہی ہے۔ نیز شہر مندی کے بحران سے گزر رہا ہے۔تقریباً ڈھائی سال کے لاک ڈاؤن کے بعد اب کاروباری صنعت تھوڑی راحت کی سانس لے رہی ہے۔ کووڈ-19 کی پابندیوں کی وجہ سے شہر کا پاورلوم سیکٹر تقریباً تباہ ہو چکا ہے۔لہٰذا شہر کی غریب عوام اس مورچہ دھرنا تحریک کے ذریعے اپنے شدید احتجاج کا اظہار کر رہے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ مذکورہ نوٹیفکیشن کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور میونسپل انتظامیہ مالیگاؤں شہر میں گھروں اور اداروں سے کچرا جمع کرے اور ٹیکس نہ لگایا جائے گا ورنہ جمہوری طریقے سے بڑے پیمانے پر عوامی تحریک شروع ہوگی اور اس کی وجہ سے اگر امن و امان خراب ہوا تو اس کی تمام تر ذمہ داری مہاراشٹر انتظامیہ اور منتظم اعلیٰ پر عائد ہوگی۔ کارپوریشن اسے نوٹ کرلیں ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com