بدعنوانی اور فرقہ پرستی کیخلاف جنتادل سیکولر پرعزم ،پریس کانفرنس سے مخاطبت
مالیگاؤں (پریس نوٹ) فرقہ پرستی کے اس نئے چہرے نے شهر کے مشرقی حصے کو تعمیر و ترقی سے کسطرح محروم کرنے کی کوششیں کیں اسکا خلاصہ جنتادل سیکولر کی جانب سے کئی مواقع پر کیا گیا ۔ایک الرٹ اپوزیشن کا کردار بخوبی نبھاتے ہوئے اس سلسلے میں 16مئی کو پریس کانفرنس لیکر ہم نے اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ ریاستی حکومت سے مالیگاؤں شہر میں تعمیر و ترقی کے کاموں کے لیے جو 100 کروڑ روپئے منظور کئے گئے تھے۔اسمیں سے سینٹرل حلقے میں صرف 7 کروڑ کا کام ہوگا، ایسا فیصلہ کارپوریشن پر قابض کانگریس اور شیوسینا نے کیا ہے۔ ہم نے مطالبہ کیا تھا کہ سینٹرل حلقے کی عوام سے کارپوریشن کو 70 فیصد ٹیکس حاصل ہوتا ہے اسلیے 100 کروڑ فنڈ میں سے 70 کروڑ کے کام سینٹرل حلقے میں کیے جائیں۔ کارپوریشن کی معیاد 15 جون کو ختم ہوئی۔ برسراقتدار کی نیت صاف ہوتی تو وہ خصوصی جنرل بورڈ میٹنگ لیکر فیصلے میں بدلاؤ کرسکتا تھا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا اور ایک بار پھر شہر کے مشرقی حصے کو تعمیراتی کاموں سے محروم رکھنے کا گھنونا کام کیا گیا، دابھاڑی کو مالیگاؤں شہر کی ملکیت و حق کا پانی دینے کی مذموم شازش رچی اور عیدگاہ پر جاگنگ ٹریک کی تعمیر کی این او سی جاری کرنے جیسے غیر منصفانہ فیصلوں کے پیچھے کارفرما رہے۔
راشٹروادی اور شیوسینا کی مشرقی حصے کیساتھ کی جانے والی فرقہ پرستی اور بدعنوانی کو اجاگر کرتے ہوئے جنتادل سیکولر نے ماضی میں بتایا تھا کہ برسراقتدار نے نئے طرز پر عوامی خزانے کو لوٹنے کے کام شروع کیا ہے۔ اس نئی طرز کی بدعنوانی میں کارپوریشن طئے شدہ بجٹ سے زائد رقم خرچ کرتی ہے۔ اس بدعنوانی کا نمونہ 30 نومبر 2021 کو پاس ہوئے ٹھراؤ میں بھی صاف نظر آتا ہے۔ اس ٹھراؤ میں تقریباً 100 کروڑ کے تعمیراتی کام کے لیے 10 کروڑ زاہد رقم ادا کرنے کی بات درج ہے۔ یہ خطیر رقم کارپوریشن کے خزانے سے ادا کی جائیگی۔ لیکن اسی کارپوریشن کو جس سینٹرل حلقے سے 70 فیصد ٹیکس حاصل ہوتا ہے اس حصے میں محض 8-7 کروڑ کے کام ہونگے۔ یہ ناانصافی نہیں تو اور کیا ہے؟اس پریس کانفرنس میں برسراقتدار و انتظامیہ کے ایک اور غلط فیصلے سے پردہ اٹھانا چاہتے ہیں۔کارپوریشن پر برسراقتدار افراد نے رام سیتو پل، موسم پل اور سانڈوے پل کی ازسرنو تعمیر کی تجویز کو منظوری دی ہے۔ سانڈوے پل ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ اس پل سے شہریان کی یادیں وابستہ ہیں۔اسکی ازسرنو تعمیر شہر کی تاریخی وراثت کوختم کرنے کے مترادف ہے۔ دوسری وجہ یہ کہ سانڈوے پل کا استعمال شہریان براہ نام ہی کرتے ہیں۔ اسکے باوجود سانڈوے پل کی تعمیر کا منصوبہ بنایا جارہا ہے۔ لیکن عبدالحمید نعمانی پل جس پر سے ہزاروں افراد روزانہ گزرتے ہیں، اسکی ازسرنو تعمیر نہیں کی جارہی ہے۔ اب یہ پل فرقہ پرستی کا شکار ہوگیا ہے۔ عبدالحمید نعمانی پل شہر کی ایک معزز شخصیت کے نام سے موسوم ہے۔ اگر اس عوامی رائے کو کارپوریشن نظرانداز کرتی ہے تو جنتادل سیکولر کی جانب سے جمہوری طرز پر عوامی احتجاج کیا جائیگا۔ کچھ لوگ گھر پٹی میں اضافہ کے خلاف احتجاج کی بات کررہے ہیں۔ 17 جنوری 2019 کو ٹھراؤ نمبر 283 اور 6 اکتوبر 2020 میں ٹھراؤ نمبر 418 کے زریعے انہی افراد نے گھر پٹی میں اضافے کے سلسلے میں سروے کو منظوری دی ہیں ۔جب سے فرقہ پرست شیوسینا اور دادا بھسے سے ہاتھ ملاکر کارپوریشن پر قبضہ کرنے کی شروعات کی گئی ہے تب سے فرقہ پرستی کے اس نئے چہرے نے مسلسل شہر کے مشرقی حصے کو تعمیراتی کاموں سے محروم کرنے کا مجرمانہ کام انجام دیا ہے۔دادا بھسے کی سیاسی زندگی فرقہ پرستی کی ناپاک بنیادوں پر قائم ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ انھوں نے اپنے حلقے کے مسلم اکثریتی علاقوں جیسے رمضان پورہ اور دیانہ کو بھی مسلسل نظرانداز کیا ہے۔وہ اس ریاستی حکومت کا حصہ ہیں جسکی بنیاد ہی ہندوتوا کے مدعے پر قائم ہے، اب ایسی حکومت اور ایسے لیڈر سے اقلیتی فرقے کی عوام کیا امید کرسکتی ہے۔اسطرح کا تفصیلی پریس نوٹ جنتا دل سیکولر نے ایک پریس کانفرنس لیتے ہوئے میڈیا نمائندوں کو دیا ۔اس موقع پر شان ہند، مستقیم ڈگنیٹی و دیگر ذمہ داران موجود تھے ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com