گٹکا کی نقل و حمل کرنے کی اجازت دینے کیلئے 10-10 ہزار روپے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں دو پولس ملازمین گرفتار
پالگھر :28 نومبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) مہاراشٹر حکومت کی جانب سے ممنوعہ گٹکے کی نقل و حمل کو جاری رکھنے کے لئے پالگھر لوہمرگ پولس اسٹیشن کے دو پولیس اہلکار کو ماہانہ 10 ہزار روپے رشوت لینے کے الزام میں تھانہ کے انسداد بدعنوانی محکمہ نے رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا۔ تھانہ اے سی بی کی ٹیم نے 28 نومبر بروز پیر کے روز دہانو ریلوے اسٹیشن پر شام تقریباً 5 بجے یہ کارروائی کی۔
پولیس نائیک عقیل جمال پٹھان (عمر-32) اور پولیس کانسٹیبل سدھن سیشراؤ نرواڈے (عمر 37) ان دو پولیس اہلکاروں کے نام ہیں جو رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں۔اس معاملے میں ایک 37 سالہ شخص نے تھانے کے محکمہ انسداد بدعنوانی میں شکایت درج کرائی ہے۔
شکایت کنندہ کو پٹھان اور نرواڑے نے گٹکھا لے جاتے ہوئے پکڑا تھا، جس پر مہاراشٹر حکومت نے پابندی لگا دی تھی۔ ان دونوں نے شکایت کنندہ سے 10,000 روپے ماہانہ رشوت طلب کی تاکہ کوئی کارروائی نہ کی جائے اور اسے ریل کے ذریعے غیر قانونی گٹکا لے جانے کا کاروبار کرنے دیا جائے۔ چونکہ شکایت کنندہ رشوت دینے پر راضی نہیں ہوا، اس نے تھانہ اے سی بی میں شکایت درج کرائی۔
اسی کے مطابق تھانہ یونٹ نے پیر 28 نومبر ) رشوت کی مانگ کی تصدیق کی۔ معلوم ہوا کہ دونوں ملزمان نے ایک ساتھ دس دس ہزار روپے رشوت طلب کی تھی۔ شام 5 بجے کے قریب دہانو ریلوے اسٹیشن پر جال بچھا دیا گیا۔ عقیل پٹھان شکایت کنندہ سے 10,000 روپے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ دونوں ملزمان کو رشوت لیتے ہوئے حراست میں لے لیا گیا۔
یہ کارروائی پولیس سپرنٹنڈنٹ سنیل لوکھنڈے، ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس انیل گرڈیکر نے کی۔ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نوناتھ جگتاپ کی رہنمائی میں پولس انسپکٹر سواپن بسواس پولس کانسٹیبل امیت چوان، ولاس بھوئے، نتن پگدھرے، نشا منجریکر، دیپک سمڈا، نوناتھ بھگت اور پولس نائک سکھرام ڈوڈے اور سواتی تروی نے یہ کام کیا۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com