صفائی ٹیکس کے نام پر جبری وصولی ہرگز برداشت نہیں ، شیخ رشید کی قیادت میں کمشنر کی حکم شاہی کیخلاف بیداری مہم و مورچہ


صفائی ٹیکس کے نام پر جبری وصولی ہرگز برداشت نہیں ، شیخ رشید کی قیادت میں کمشنر کی حکم شاہی کیخلاف بیداری مہم 



دکانوں ،مکانوں اور کارخانوں سے 600 روپیہ صفائی ٹیکس کا فیصلہ کارپوریشن واپس لے ، شہیدوں کی یادگار سے کارپوریشن تک راشٹروادی کا عوامی مورچہ



مالیگاؤں : 27 اکتوبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) مکانوں ، دکانوں اور کارخانوں کے علاوہ ہر قسم کا چھوٹا موٹا کاروبار کرنے والوں سے کچرے کے نام پر  ماہانہ 50 روپیہ اور سالانہ 600 روپیہ صفائی ٹیکس وصول کرنے کمشنر کا فیصلہ حکم شاہی کے مترادف ہے ۔ میونسپل کمشنر آئندہ سال یکم اپریل سے اس ٹیکس کو نافذ کرنے کے کوشش کررہے ہیں ۔جو شہر کے ہر مکان، چاہے وہ کچے ہو یا پکے ان سے صفائی ٹیکس وصول کیا جائے گا جو کہ شہریان کیلئے بہت بڑے خسارے کا سبب ہے اور کمشنر کا یہ فیصلہ آنے والے دنوں میں مالیگاؤں شہر کی عوام کیلئے تکالیف کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر آج ہم نہیں جاگے تو شہر کو بڑی مصیبت کا سامنا کرنا پڑے گا ۔اسطرح کا اظہار آج ہزار کھولی میں واقع رابطہ آفس پر منعقدہ این سی پی لیڈر شیخ رشید نے کیا ۔
شیخ رشید نے کارپوریشن کمشنر کی دفتر شاہی اور حکم شاہی کیخلاف عوامی بیداری شروع کرنے اور مورچہ نکالنے کا اعلان کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ شہر کے ہر علاقے میں عوامی بیداری شروع کی جائے، چکری بھوک ہڑتال شروع کرنے کیلئے تیار رہا جائے ۔اسی طرح 9 نومبر کو دوپہر تین بجے شہیدوں کی یادگار کے پاس سے کارپوریشن تک ایک مہا مورچہ کا انعقاد کیا جائے گا ۔شیخ رشید نے کہا کہ میونسپل کمشنر نے صفائی ٹیکس وصول کرنے کا جو فیصلہ لیا ہے وہ شہریان کے حق میں نہیں ہے۔ ہم اس فیصلے کی مذمت اور شدید مخالفت کرتے ہیں، ہم میونسپل کمشنر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ صفائی کے نام پر جبری ٹیکس وصولی کا فیصلہ واپس لے ۔شیخ رشید نے کہا کہ شہریان کو قبل از وقت بیدار رہنا ضروری ہوگا ۔اگر کارپوریشن پر عوامی حکومت ہوتی تو ہم کارپوریشن کمشنر کے اس فیصلے کو جنرل بورڈ میں منظور ہی نہیں کرتے لیکن کمشنر آج اکیلا راجا ہے جو اپنی من مانی چلا رہا ہے ہم اسکی پر زور مخالفت کرتے ہیں اور شہریان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس مورچہ میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں شرکت کرتے ہوئے اپنی ناراضگی کا اظہار کریں ۔

اس میٹنگ میں اسلم انصاری نے کہا کہ کمشنر نے یہ بھی منصوبہ بنایا ہے کہ آنے والے دنوں میں شہریان سے بوگس نل کنکشن کے نام پر مع جرمانہ دس ہزار اور فٹنگ چارج ڈھائی ہزار اس طرح ساڑھے بارہ ہزار روپے سے زائد وصول کرنے والے ہیں جو کہ شہریان ادا نہیں کرسکتے۔ لہٰذا ہمیں آج سے ہی کارپوریشن کمشنر کے فیصلے کیخلاف تحریک کا راستہ اپنانا ہوگا ۔اسکے علاوہ شکیل جانی بیگ نے اغراض و مقاصد بیان کئے جبکہ ابوذر کانڈی والا، ریاض علی ،عادل پٹھان وغیرہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔اس میٹنگ میں راشٹروادی کانگریس پارٹی کے سابق کارپوریٹرس اور خواہش مند امیدواروں سمیت این سی پی کے درجنوں عہدیداران اور ورکرس موجود تھے ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے