موربی بریج حادثہ :مرنے والوں کی تعداد 147 تک پہنچی، جانچ کیلئے ایس آئی ٹی کی تشکیل ، 9 افراد گرفتار


موربی بریج حادثہ :مرنے والوں کی تعداد 147 تک پہنچی، جانچ کیلئے ایس آئی ٹی کی تشکیل ، 9 افراد گرفتار 




گجرات : 31 اکتوبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) دارالحکومت گاندھی نگر سے 300 کلومیٹر دور موربی میں دریائے ماچو پر بنایا گیا یہ پل گجرات کے موربی میں ایک حادثے کے بعد گر کر تباہ ہوگیا ہے ۔اس معاملے میں  پولس معاملے میں 9 لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔  میڈیا رپورٹس کے مطابق پولس ابھی تک حراست میں لیے گئے افراد سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ گجرات کے موربی قصبے میں ماچو ندی پر کیبل پل کے حادثے میں پیر کو مرنے والوں کی تعداد 147 تک پہنچ گئی ہے۔  گجرات پولس کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔  گجرات کے وزیر اعلی بھوپیندر پٹیل اور وزیر مملکت برائے داخلہ ہرش سنگھوی نے موربی میں رات بھر قیام کیا تاکہ کئی ایجنسیوں کی طرف سے چلائی جا رہی بچاؤ کارروائیوں کی نگرانی کی جا سکے۔  موربی حادثہ کے سلسلے میں مینٹیننس ایجنسی کے خلاف دفعہ 304، 308 اور 114 کے تحت فوجداری مقدمہ درج کیا گیا ہے۔  موربی سانحہ کے لیے ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے۔  ایس آئی ٹی نے بھی حادثے کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔


 اب کچھ میڈیا رپورٹس سے یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ پولیس نے اس حادثے کے سلسلے میں 9 لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔  اب تک موصول ہونے والی معلومات کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد میں پل کے مینیجر اور مینٹینینس سپروائزر بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پل کے انتظام سے متعلق تمام لوگوں سے بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔  بتایا جاتا ہے کہ اس پل کو ابھی تک فٹنس سرٹیفکیٹ نہیں ملا ہے۔  اس کے علاوہ اجازت لیے بغیر اسے عام لوگوں کے لیے کھول دیا گیا۔  جس کے بعد یہ بڑا حادثہ سامنے آیا ہے۔

 

  مرمت اور تزئین و آرائش کے کام کے بعد اسے پانچ روز قبل عوام کے لیے کھول دیا گیا تھا۔  یہ پل اتوار کی شام 6.30 بجے کے قریب گر گیا۔  راجکوٹ رینج کے انسپکٹر جنرل اشوک یادو نے کہا کہ پل گرنے سے مرنے والوں کی تعداد 147 تک پہنچ گئی ہے۔


 ریاستی محکمہ اطلاعات نے کہا کہ نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) کی پانچ ٹیمیں، ریاستی ڈیزاسٹر رسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) کی چھ ٹیمیں، ایک فضائیہ، فوج کی دو یونٹ اور ہندوستانی بحریہ کی دو یونٹوں کے علاوہ مقامی ریسکیو ٹیمیں سرچ آپریشن میں شامل  ہیں ۔ سرچ آپریشن رات بھر جاری رہا جو تاحال جاری ہے۔  یادو نے کہا کہ بچاؤ کا کام ابھی جاری ہے۔

حادثے کے بعد کئی عینی شاہدین نے بتایا کہ برطانوی دور کے 'ہنگنگ پل' پر کئی خواتین اور بچے موجود تھے جب یہ پل گرا تو لوگ ندی میں ڈوب گئے۔  پل ٹوٹنے کے وقت مقامی لوگوں کے علاوہ آس پاس کے قصبوں اور دیہاتوں کے لوگ بھی پل پر موجود تھے۔  دیوالی کی چھٹی اور اتوار ہونے کی وجہ سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بننے والے اس پل پر کافی بھیڑ تھی۔  حادثے کے بعد کئی ویڈیوز سامنے آ رہی ہیں۔  اس ویڈیو میں لوگ اپنی جان کی جنگ لڑتے نظر آ رہے ہیں۔


 ایک عینی شاہد نے بتایا کہ حادثے سے قبل کچھ لوگوں کو پل پر چھلانگ لگاتے اور اس کی بڑی تاریں کھینچتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔  انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ اس پر 'بہت زیادہ بھیڑ' کی وجہ سے پل گرا ہو۔  انہوں نے کہا کہ جب پل گرا تو لوگ ایک دوسرے کے اوپر گر گئے۔  کئی لوگوں کو دریا میں گرنے سے بچنے کے لیے پل کے ایک سرے سے لٹکتے دیکھا گیا۔  پل گرنے کے بعد اس کا کچھ حصہ دریا میں لٹک گیا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے