گجرات میں 140 سالہ تاریخی پل منہدم ، 400 مسافروں کے ندی میں ڈوبنے کی اطلاع ، 60 سے زائد ہلاک


گجرات میں 140 سالہ تاریخی پل منہدم ، 400 مسافروں کے ندی میں ڈوبنے کی اطلاع ، 60 سے زائد ہلاک 


ندی سے زخمیوں اور لاشوں کو نکالنے کیساتھ ہی بچاؤ کام تیزی سے جاری ، وزیر اعظم مودی نے دو ۔ دو لاکھ معاوضہ کا اعلان کیا 





گجرات : 30 اکتوبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) گجرات کے موربی میں اتوار کی شام سات بجے ایک بڑا حادثہ ہوا۔ یہاں کیبل برج (سسپشن پل) گرنے سے تقریباً 400 افراد ماچو ندی میں گر گئے ہیں۔اس حادثے میں اب تک 60 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 10 سے زائد بچے بھی شامل ہیں۔ لاشوں کو پانی سے نکالنے کا کام جاری ہے۔ 70 کے قریب زخمیوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

یہ پل گزشتہ چھ ماہ سے بند تھا۔ اسے اسی مہینے یعنی دیوالی کے ایک دن بعد یعنی 25 اکتوبر کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا تھا۔ اس پل کے منہدم ہونے سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ایک ہیلپ لائن نمبر (02822243300) کا اعلان کیا گیا ہے۔ پل کی گنجائش تقریباً 100 افراد کی ہے لیکن اتوار کو چھٹی کا دن ہونے کی وجہ سے پل پر 500 کے قریب لوگ جمع ہوئے۔ یہ حادثہ کی وجہ بتائی جا رہی ہے۔


حال ہی میں دو کروڑ کی لاگت سے تزئین و آرائش کی گئی۔

یہ پل گزشتہ 6 ماہ سے بند تھا۔ اس پل کی مرمت کا کام تقریباً دو کروڑ کے فنڈ سے مکمل ہوا اور اسے دیوالی کے ایک دن بعد 25 اکتوبر کو عام لوگوں کے لیے کھول دیا گیا۔

پی ایم مودی کی امداد ، سی ایم نے کہا - ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے مرنے والوں کے لواحقین کو 2 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50 ہزار روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے چیف منسٹر بھوپیندر پٹیل سے بات چیت کی اور بچاؤ آپریشن کے بارے میں معلومات لی۔ سی ایم پٹیل نے کہا کہ راحت اور بچاؤ کارروائیاں جاری ہیں۔ زخمیوں کے فوری علاج کے انتظامات کرنے کی ہدایات دی گئیں۔ میں اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ سے مسلسل رابطے میں ہوں۔

یہ پل 140 سال سے زیادہ پرانا ہے

 موربی کا سسپنشن پل 140 سال سے زیادہ پرانا ہے اور اس کی لمبائی تقریباً 765 فٹ ہے۔ یہ معلق پل نہ صرف گجرات کے موربی بلکہ پورے ملک کا تاریخی ورثہ سمجھا جاتا تھا۔ اس پل کا افتتاح 20 فروری 1879 کو بمبئی کے گورنر رچرڈ ٹیمپل نے کیا تھا۔ یہ پل 1880 میں تقریباً 3.5 لاکھ کی لاگت سے بنایا گیا تھا۔ اس وقت اس پل کو بنانے کا تمام سامان انگلینڈ سے درآمد کیا گیا تھا۔

ریسکیو آپریشن میں سینکڑوں مقامی لوگ شامل تھے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حادثے میں کئی افراد ہلاک ہو سکتے ہیں۔ امدادی کام جاری ہے۔ ریسکیو ٹیم کے ساتھ سینکڑوں مقامی لوگوں نے بھی ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا۔ لوگوں کو دریا سے نکالا جا رہا ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے