سری لنکا کے صدر فرار ، مشتعل مظاہرین نے صدارتی محل پر قبضہ کر لیا ، پرتشدد جھڑپ میں 100 سے زائد افراد زخمی
حکومت مخالف مظاہروں میں مذہبی رہنما، سیاسی جماعتیں،طلباء، اساتذہ، کسان، ڈاکٹر، ماہی گیر اور سماجی کارکن سمیت عوام سڑکوں پر نکل آئیں
کولمبو :9 جولائی (بیباک نیوز اپڈیٹ)حکومت کی غلط پالیسیوں سے جاری طویل معاشی بحران سے تنگ آکر سری لنکن مظاہرین نے آج صدر کی رہائش گاہ پر قبضہ کر لیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق لنکا کے صدر گوتابایا راجا پکسے اپنی رہائش گاہ سے فرار ہو گئے۔ دفاعی ذرائع نے صدر راجا پکسے کے فرار ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ مشہور جریدہ ڈیلی مرر کے مطابق پولیس نے سنیچر کی صبح مظاہرین کو صدارتی رہائش گاہ میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا اور پانی اور گولیاں چلائیں۔تاہم مظاہرین رکاوٹیں توڑ کر صدارتی رہائش گاہ میں داخل ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق کولمبو میں احتجاج شروع ہونے سے پہلے ہی صدر پکسے نے صدارتی احاطے کو خالی کر دیا تھا۔ ریلی کے دوران سری لنکا کی پولیس اور مظاہرین کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔ پرتشدد جھڑپوں میں 100 سے زائد مظاہرین کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ زخمیوں کو نیشنل ہسپتال کولمبو لے جایا گیا ہے۔اس کے علاوہ مظاہرین نے رکن پارلیمنٹ راجیتا سینارتنے کے گھر پر بھی حملہ کیا۔ بتادیں کہ اس سے قبل 11 مئی کو اس وقت کے وزیر اعظم مہندا راجا پکسے پورے خاندان کے ساتھ فرار ہو گئے تھے۔ایک مشتعل ہجوم نے کولمبو میں راجا پاکسے کی سرکاری رہائش گاہ کو گھیر لیا۔
دوسری جانب سری لنکا کے وزیر اعظم رانیل وکرما سنگھے نے پارٹی رہنماؤں کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے جس میں صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اور فوری حل تلاش کیا جائے گا۔ وزیر اعظم وکرما سنگھے نے اسپیکر سے پارلیمنٹ کا اجلاس بلانے کی اپیل کی ہے۔ ایک خط میں، سری لنکا پوڈوجانا پیرامونا (SLPP) کے 16 ایم پیز نے صدر گوتابایا راجا پاکسے سے فوری طور پر مستعفی ہونے پر زور دیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ کولمبو میں صدر کی رہائش گاہ کو مظاہرین نے دوپہر کو گھیرے میں لے لیا
اس کے بعد مظاہرین نے راجا پاکسے کی سرکاری رہائش گاہ پر بھی توڑ پھوڑ کی اور رہائش گاہ پر قبضہ کر لیا۔
بتا دیں کہ سری لنکا میں بگڑتے معاشی بحران کے درمیان صدر گوٹابایا راجا پکسے کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے آج ایک حکومتی احتجاجی ریلی جاری ہے۔سری لنکا میں جمعہ کو غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ فوج کو بھی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ پولیس چیف چندنا وکرمارتنے نے کہا کہ دارالحکومت اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں جمعہ کی رات 9 بجے سے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے حکومت مخالف ہزاروں مظاہرین جمعہ کو کولمبو میں داخل ہوئے جس کے بعد کرفیو کا فیصلہ کیا گیا۔جمع کو پولس نے کرفیو نافذ کرنے سے پہلے کولمبو میں طلباء مظاہرین کے خلاف آنسو گیس اور پانی کی توپیں چلائیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ حکومت مخالف مظاہروں میں مذہبی رہنما، سیاسی جماعتیں، اساتذہ، کسان، ڈاکٹر، ماہی گیر اور سماجی کارکن سمیت عوام سڑکوں پر نکل آئیں ہیں۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com