اورنگ آباد کا نام تبدیل کرنے پر این سی پی کا اعتراض سپریم کورٹ جانے اورنگ آباد کے مشتاق احمد کا بیان


اورنگ آباد کا نام تبدیل کرنے پر این سی پی کا اعتراض سپریم کورٹ جانے اورنگ آباد کے مشتاق احمد کا بیان 




اورنگ آباد :  30 جون (بیباک نیوز اپڈیٹ) موصولہ خبروں کے مطابق مہاراشٹر نام کرن سمیتی کے رکن و NCPلیڈر مشتاق احمد نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے ادھو کابینہ کے آخری فیصلے اورنگ آباد و عثمان آباد کے نام کی تبدیلی پر اعتراض جتاتے ہوئے کہا کہ دوپہر میں وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے سے شرد پوار نے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ کامن مینمم پروگرام کے مطابق آپ اورنگ آباد ، عثمان آباد کا نام تبدیل نہیں کر سکتے ، لیکن اُس کے باوجود بھی ادھو ٹھاکرے نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا ۔


اس پر راشٹر وادی کانگریس پارٹی سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائے گی ۔ مشتاق احمد نے بتایا کہ 1995ء میں شیوسینا حکومت نے اورنگ آباد کا نام تبدیل کر سمبھاجی نگر رکھنے کا حکم صادر کیا تھا ، جس کے خلاف ہم ممبئی ہائی کورٹ کے بعد سپریم کورٹ گئے اور سپریم کورٹ نے مہاراشٹر حکومت کو اپنا فیصلہ واپس لینے کا فیصلہ دیا تھا۔ 

1996ء میں ولاس رائو دیشمکھ نے سینا حکومت کے حکم نامہ کو ملتوی کردیا تھا ، سپریم کورٹ نے یہ بھی ریمارک دیا تھا کہ اورنگ آباد کا نام تبدیل نہیں کیا جاسکتااس لئے موجودہ مہا وکاس اگھاڑی کے آخری وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے جو اپنا من چاہا فیصلہ سناتے ہوئے اورنگ آباد اور عثمان آباد کا نام تبدیل کیا ہے وہ سپریم کورٹ کے حکم نامہ کی خلاف ورزی ہے۔ مشتاق احمد نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اطمینان رکھیں ، سپریم کورٹ میں اس معاملے کو دوبارہ لے جایا جائے گا اور اورنگ آباد کے نام کو برقرار رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ نے یہ بھی ہدایت دی تھی کہ سمبھاجی نام سے لگائو ہے تو اُن کے نام سے نیا گائوں بسا دیا جائے ، لیکن ادھو حکومت نے ایسا نہ کرتے ہوئے ہندوتوا کا کارڈ کھیلا۔



ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے