اگر میں نااہل ہوں تو میں شیو سینا صدر اور وزیر اعلیٰ عہدہ سے آج ہی استعفیٰ دے دوں، ادھو ٹھاکرے کا جذباتی خطاب شیو سینا اور ہندوتوا کا چولی دامن کا ساتھ



اگر میں نااہل ہوں تو میں شیو سینا صدر اور وزیر اعلیٰ عہدہ سے آج ہی استعفیٰ دے دوں، ادھو ٹھاکرے کا جذباتی خطاب

 

شیو سینا اور ہندوتوا کا چولی دامن کا ساتھ ، شیوسینا سے غداری ٹھیک نہیں ، جو ممبر اسمبلی چاہتے ہیں کہ میں استعفی دیدوں، وہ آئیں اور مجھ سے کہیں، میں استعفی دے دوں گا



ممبئی:22جون :(بیباک نیوز اپڈیٹ) ایکناتھ شندے کے حامی کی بغاوت کے بعد مہاراشٹر میں ادھو ٹھاکرے کی سرکار کو لے کر تذبذب لگاتار برقرار ہے ۔ تیزی سے بدلتے حالات کے درمیان ریاست کے وزیر اعلی ادھوٹھاکرےنے آج کی شام فیس بک پر لائیو خطاب کیا ۔  مہاراشٹر میں سیاسی حالات بگڑتے جارہے ہیں ایسے میں آج ریاست کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے لائیو خطاب کرتے ہوئے جذباتی اپیل کی ہے کہ میں آج کیا کہنے جا رہا ہوں؟  کس چیز نے مجھے اداس کیا؟  حیرت کیا تھی؟  آپ کو کیسا لگا؟  کانگریس اور این سی پی کا کہنا ہے کہ ادھو ٹھاکرے کو وزیر اعلیٰ ہونا چاہیے۔ ان کے خیال میں دونوں جماعتیں آزاد ہیں۔ ہم اقتدار کے لیے اکٹھے ہوئے۔ کمل ناتھ نے آج صبح فون کیا۔  پوار نے کل فون کیا۔  انہوں نے کہا ہم تمہارے ساتھ ہیں وہ مان گئے۔ لیکن میرے اپنے لوگ کہہ رہے ہیں کہ مجھے وزیر اعلیٰ نہیں چاہیے۔ پتہ نہیں وہ مجھے اپنا سمجھتے ہیں یا نہیں۔  تم یہاں آ کر بات کیوں نہیں کرتے؟ انہیں میرے سامنے بولنا چاہتا تھا۔  انہیں کہنا چاہیے تھا کہ میں بطور وزیر اعلیٰ نااہل ہوں۔ مجھے کسی بھی ایم ایل اے نے نہیں کہا کہ ہمیں وزیر اعلیٰ بننا ہے ۔اگر وہ وزیر اعلیٰ بننا چاہتے تو میں وزیر اعلیٰ سے استعفیٰ دے دے دوں گا۔  آج میں برسوں سے ماتوشری میں رہ رہا ہوں۔  مجھے اقتدار کی کوئی ہوس نہیں ہے۔  تم ایسا کیوں کر رہے ہو۔  کس کو نقصان پہنچانا ہے؟  یہ سارے سوالات ادھو ٹھاکرے نے انتہائی جذباتی انداز سے باغی ایم ایل ایز سے پوچھا۔

اس دوران انہوں نے کہا کہ شیوسینا اور ہندتوا میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ ہم نے بالا صاحب کے اصولوں کو نہیں چھوڑا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شیو سینا ہندتوا کے بغیر نہیں ہوسکتی ہے ۔ اور ہندوتوا شیو سینا کے بغیر نہیں ہوسکتا ۔بالا صاحب ٹھاکرے کی شیوسینا اور آج کی شیوسینا میں کیا فرق ہے ۔

 مشکل حالات میں ہم نے 2019 کا الیکشن لڑا تھا ۔ میں نے اپنی پوری ذمہ داری نبھائی ۔ ہندتوا کے بارے میں اسمبلی میں بات کرنے والا پہلا وزیر اعلیٰ ہوں ۔ ہم تو بالا صاحب کے نظریہ کو آگے لے جارہے ہیں ۔ یہ بالا صاحب والی ہی شیوسینا ہے ۔
ادھو ٹھاکرے نے مزید کہا کہ جب میرے اپنے لوگ مجھے اس عہدے پر نہیں چاہتے تو میں کیا کہوں؟ اگر ان کے پاس میرے خلاف کچھ تھا تو سورت میں یہ سب کہنے کی کیا ضرورت تھی، وہ یہاں آ کر میرے منہ پر کہہ سکتے تھے۔اگر انہیں وزیر اعلی بننا تھا تو میرے سامنے کہتے کہ ادھو تو قابل نہیں ہے اور مجھے وزیر اعلی بننا ہے ، اس کیلئے سورت جانے کی کیا ضرورت ہے ۔ میرے سامنے کہتے تو استعفی دیدیتا۔ شیوسینا سے غداری ٹھیک نہیں ہے ۔ جو ممبر اسمبلی چاہتے ہیں کہ میں استعفی دیدوں، وہ آئیں اور مجھ سے کہیں، میں استعفی دے دوں گا ۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں وزیر اعلی نہ رہوں تو ٹھیک ہے ۔ ممبران اسمبلی مجھ سے کہیں گے تو میں استعفی دے دوں گا ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے