اردو زبان میں مطالعہ کے رجحان کو فروغ دینے کے لیے سائنسی اور تکنیکی طریقہ اختیار کرنا ہو گا


اردو زبان میں مطالعہ کے رجحان کو فروغ دینے کے لیے سائنسی اور تکنیکی طریقہ اختیار کرنا ہو گا

صرف حکومت کی طرف دیکھنے سے ہمارے مسائل حل نہیں ہو ں گے، ہمیں اپنی مدد خود کرنی ہوگی

ہمیں طویل مدتی منصوبے بنانے کی ضرورت ہے، اردو لرننگ کورس سے طویل مدتی سفر کا آغاز کرنا چاہئے: مولانا احمد ولی فیصل رحمانی 

 

پٹنہ :12 جون (پریس ریلیز) اردو کارواں کے عہدہ داروں کی ایک نشست امیر شریعت بہار،اڈیشہ و جھارکھنڈ حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی سر پرست اردو کارواں کی صدارت میں مورخہ 10اور 11جون 2022کو مرکزی دفتر امارت شرعیہ میں منعقد ہوئی، اس نشست میں حضرت امیر شریعت کے علاوہ نائب امیر شریعت بہار،ا ڈیشہ وجھارکھنڈ حضرت مولانا محمد شمشاد رحمانی قاسمی ، صدر اردو کارواں ڈاکٹر اعجاز علی ارشد، نائب صدور پروفیسر صفدر امام قادری اور مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی، جنرل سکریٹری ڈاکٹر ریحان غنی، سکریٹری ڈاکٹر انوار الہدیٰ اورامارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب شریک تھے۔

حضرت امیر شریعت نے اپنی گفتگو میں فرمایا کہ سرکار سے جو کام کروانے کے ہیں اس کے لیے اردو کارواں کے ذریعہ مضبوط مطالبات وزیرا علیٰ، وزیر تعلیم اور متعلقہ وزارتوں کے سامنے رکھے جائیں گے، لیکن ساتھ ہی ہم اردو والے بھی اپنی ذمہ داری نبھائیں،صرف حکومت کی طرف دیکھنے سے ہمارے مسائل حل نہیں ہوں گے، ہمیں اپنی مدد خود کرنی ہو گی، اس کے لیے ہمیں طویل مدتی منصوبے بنانے کی ضرورت ہے، اردو لرننگ کورس سے طویل مدتی سفر کا آغاز کرنا چاہئے۔اردو زبان میں مطالعہ کے رجحان کو فروغ دینے کے لیے سائنسی اور تکنیکی طریقہ اختیار کرنا ہو گا۔ اردو کے سلسلہ میں کئی مسائل رکھے گئے ہیں، جو سب اہم ہیں، اردو کارواں کی مرکزی کمیٹی ان تمام مسائل کو جمع کر کے ترجیحات طے کر کے پروجیکٹ بنا کر کام کریگی۔

 اردو صرف ہماری زبان نہیں؟بلکہ ہمارا تہذیبی ورثہ اور ہماری ملی و قومی شناخت ہے، اس شناخت اور ثقافت کو قائم رکھنے کے لیے ہمیں اپنے گھروں میں اردو کی آبیاری کرنی ہوگی، اردو کے مطالعہ کو رواج دینا ہوگا۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اردو کارواں کے ذریعہ ہم پورے صوبے میں اردو کی ایسی شمع روشن کرنے میں کامیاب ہوں گے جس کے اثرات پورے ملک میں محسوس کئے جائیں گے۔دو نشستوں میں چلی اس میٹنگ میں اردو زبان کی ترویج و اشاعت سے متعلق تفصیلی گفتگو کے تناظر میں مندرجہ ذیل اہم تجاویز منظور ہوئیں۔

۱۔ بہار اردو اکیڈمی، اردو مشارتی کمیٹی بہار، گورنمنٹ اردو لائبریری کافی دنوں سے التوا میں پڑی ہوئی ہے انکی از سر نوتشکیل بہت ضروری ہے، اس سلسلہ میں حکو مت بہار کو بھیجے گئے پچھلے خط کی روشنی میں ایک تازہ خط ارسال کیا جائے۔

۲۔مرکزی اور ضلعی سطح پر اردو لرننگ کورس شروع کیا جائے، جس میں اٹھارہ برس سے زیادہ کی عمر کے تمام لوگوں کو جو اردو سیکھنا چاہیں انہیں بلا امتیاز مذہب و مسلک اردو زبان و ادب کی تعلیم دی جائے۔اس کا نصاب اردو کارواں تیار کرے گا۔ نصاب کی تیاری میں اس بات کا خیال رکھا جائے کہ وہ دلچسپ نثری و منظوم مواد پر مشتمل ہو جس سے سیکھنے والوں کی دلچسپی برقرار رہے۔

۳۔ نئی نسل میں اردو کے مطالعہ کارجحان بڑھانے کے لیے اور ان کے اندر اردو پڑھنے کی ثقافت قائم کرنے کے لیے کتب بینی کا انعامی مقابلہ، کوئیز کے پروگرام وغیرہ مرتب کیے جائیں۔اس میں سال بھر مطالعہ کا ٹاسک دیا جائے اوراعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کو گراں قدر انعام دیا جائے۔اس طرح کے پروگراموں کو مرتب کرنے میں بڑا مالی صرفہ ہوگا، اس سلسلہ میں مالی معاونت حاصل کرنے کے ذرائع پر غور کیا جائے۔

۴۔ دوسری زبانوں کی اہم اور مفید کتابیں جو عصر حاضر میں معنویت کی حامل ہیں ان کا اردو میں ترجمہ کراکر شائع کیا جائے۔

۵۔ ہر سال اردو کے ایسے اساتذہ جنہوں نے سال بھر اختراعی و تجدیدی صلاحیتوں کا بہترین مظاہرہ کیا ہو ان میں سے دس اعلیٰ ترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کو بطور حوصلہ افزائی انعام سے نوازا جائے۔

آخر میں حضرت امیر شریعت کی دعا پر مجلس کا اختتام ہوا۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے