موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس،شیخ خلیل دادا یتیموں، بیواؤں، غریبوں کے مسیحا تھے، مرحوم شیخ خلیل دادا کے انتقال پر تعزیتی اجلاس کا انعقاد
اپنی ایمانداری اور سخاوت سے لوگوں کے دلوں میں شیخ خلیل زندہ رہیں گے، شہر مالیگاؤں شیخ خلیل کو کبھی بھول نہیں پائے گا،دینی ملی، مذہبی، تعلیمی، سماجی ،معاشی ،سیاسی شخصیات کا اظہار تعزیت
مرحوم شیخ خلیل دادا کے نیک کاموں کو آگے بڑھائیں گے، تعزیتی اجلاس سے خانوادہ حاجی شیخ شفیع کا اظہار
مالیگاؤں : 18 جون (بیباک نیوز اپڈیٹ) اللہ کا ضابطہ ہے کہ موت ہر ذی روح کو آنی ہے اور اسے ایک دن یہ دنیا چھوڑ کر ہمشہ کیلئے اللہ کی طرف لوٹ جانا ہے ۔لیکن جب اپنے اہل خانہ میں کسی کو موت ائے تو وہ صبر کرے اور مرنے والے کے حق میں دعائیں کریں ۔ اسطرح کے جملوں کا اظہار قاری الطاف نے مرحوم شیخ خلیل دادا کے انتقال پر تعزیتی اجلاس سے کیا ۔موصوف نے کہا کہ مرحوم سے محبت کا تقاضہ ہے کہ اس کے حق میں نیک اعمال کیا جائے ،ایصال ثواب کیا جائے اسکی اچھائیوں کو اپنی زندگی میں اپنایا جائے، مرحوم کے روزے یا نماز قضا ہوئی ہوں تو نماز و روزہ کا فدیہ ادا کیا جائے ۔دعائے مغفرت کریں ۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ثم آمین ۔
اس موقع پر نورانی مسجد تبلیغی مرکز سے شوریٰ کے اراکین کی جانب سے تعزیت پیش کی گئی ۔یہاں مقررین نے کہا کہ خلیل دادا کردار کے اچھے انسان تھے کاروبار میں شفاف کردار تھا ۔زبان کے پابند، دل کے ملنسار تھے۔ شیخ خلیل کی صفات لوگوں کیلئے مشعل راہ ہے ۔انکی ایمانداری پر ہم تعزیت پیش کرتے ہیں ۔یہاں عرفان علی نے کہا کہ خلیل دادا خود مشک تھے جو کل انکے انتقال پر شہریان نے بتایا، انہوں نے کہا کہ خلیل دادا مخلص انسان تھے اور وہ غریبوں کے سچے خادم تھے ۔یہاں کارپوریٹر آمین فاروق نے کہا کہ خلیل دادا نے کئی خاندان کو اپنے پیروں پر کھڑا کیا ۔انہیں روزگار سے لگایا ۔معذوروں کی مدد کی ہے ۔اسکے علاوہ اس تعزیتی اجلاس سے قریشی حیدر ماسٹر نے بتایا کہ شہر کے کمزوروں اور غریبوں کا سہارا چلا گیا، محمود شاہ نے کہا کہ بیواؤں کی کفالت کرنے والے بہت کم لوگ ہوتے ہیں ان میں خلیل دادا بھی شامل ہیں جنہوں نے بیشمار بیواؤں کی امداد کی، انکے بچوں کو کی کفالت کی ۔عبدالرحمن شاہ نے کہا کہ شیخ خلیل نے شہر کو ایک جھٹکا دیکر چلا گیا ۔انہوں نے کہا کہ صدمہ اتنا ہوا ہے کہ لگتا نہیں ایسا ہی جائے گا لیکن مرضی مولا کے آگے سب بے بس ہے شیخ خلیل م دل کھول کر لوگوں کی امداد کرتے تھے، مخلص، سچائی، وعدہ وفا کرنے والا، بندوں کے حقوق ادا کرنے میں پوری ایمانداری کا مظاہرہ کیا ۔لوگوں کی خدمت، بیواؤں یتیموں غریبوں کی مدد، غمگساری کرنے والے کا نام شیخ خلیل دادا تھا جو ہم سے جدا ہوگیا ۔
موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس
یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کیلئے
عبداللہ حنیف قریشی نے کہا کہ زمین کے کاروبار میں اتنا شفاف آدمی میں نے کبھی نہیں دیکھا، کئی افراد کو انہوں نے صاحب حیثیت بنایا قوم کے سچے خادم تھے شیخ خلیل، مالیگاؤں شہر خلیل دادا کو کبھی بھول نہیں پائے گا کیونکہ ان میں اچھائی تھی۔اس موقع پر مہاڈا کے سابق نائب چیئرمین بھاؤسار نے کہا کہ شیخ خلیل برائی کیخلاف کرنے والے دادا تھے ۔ ہندو علاقوں میں بھی شیخ خلیل کے انتقال پر لوگ غمزدہ ہیں ۔مولانا عبدالعظیم فلاحی نے تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شیخ خلیل علم کا قدر دان تھا، مدارس کیلئے دل کھول کر امداد کیا کرتے تھے ۔شیخ خلیل مرد صالح تھے ،اللہ انکی مغفرت کرے ۔
اس موقع پر سابق ایم ایل اے شیخ رشید نے خانوادہ حاجی شیخ شفیع کی جانب سے تعزیت پیش کرنے آئے تمام دینی ملی، سماجی، تعلیمی ،ادبی، سیاسی اور مذہبی زمین کے کاروبار کرنے والے افراد کا شکریہ ادا اور ان سے شیخ خلیل دادا کے حق میں دعائے مغفرت کی درخواست کی ۔انہوں نے کہا کہ شیخ خلیل دادا کے انتقال کے بعد ہمیں پتہ چلا کہ مرحوم کردار کے اتنے اچھے آدمی تھے اور یہی وجہ ہے کہ رات کے چار بجے تک عوام اژدھام انکی تدفین میں شریک رہا ہر کسی کی آنکھیں نم تھی اللہ تعالیٰ شیخ خلیل دادا کی مغفرت فرمائے اور انکی قبر کو نور سے بھر دے، جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے آمین ثم آمین ۔انہوں نے کہا کہ ہم خاندان کی طرف سے شیخ خلیل کے اچھے کاموں کا سلسلہ دراز رکھیں گے انشاءاللہ ۔یہاں آصف شیخ نے مختصر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم شیخ خلیل نے اپنی حیاتی میں ہی ایک ٹرسٹ قائم کردیا تھا اور مسجد کیلئے الگ سے ایک وسیع زمین اکوائر لیا تھا اور کہا تھا کہ اس پر ایک مسجد تعمیر کی جائے گی آصف شیخ نے کہا کہ شیخ خلیل نے اسی ٹرسٹ کی معرفت پانچ ہزار اسکوائر فٹ جگہ لی اور کہا تھا کہ اس جگہ پر لڑکیوں کیلئے یتیم خانہ بنایا جائے گا اور اسکی پوری دیکھ بھال بھی گھر والوں کو ہی کرنا ہوگی ۔
آصف شیخ نے کہا کہ یہاں مقررین میں سب الگ الگ جماعتوں کے افراد موجود ہیں اور انہوں نے شیخ خلیل کی جو تعریف کی ہے وہ یقیناً انکے اچھے کردار کی وجہ سے کی ہیں ۔آصف شیخ نے کہا کہ شیخ خلیل کو بلا وجہ شہر میں بدنام کرنے کی کوشش کی گئی لیکن انکے انتقال کر جانے کے بعد شہریان نے بتایا کہ شیخ خلیل ایک مخلص اور اچھے آدمی تھے ۔وہ عوام کے دلوں میں دادا یعنی بڑے بھائی کے طور پر بستے تھے ۔آج ان پر لگا داغ عوام نے صاف کردیا ہے ۔
آصف شیخ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے ہر انسان کو ایک نہ ایک دن لوٹ کر اللہ کے پاس جانا ہے اور خلیل دادا بھی اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے قانون کے تحت اس دنیا سے رخصت کر گئے ۔اللہ تعالیٰ خلیل دادا کی مغفرت فرمائے آمین ثم آمین ۔
آج کی اس تعزیتی نشست میں میں ہم مرحوم شیخ خلیل دادا کے اچھے کاموں کو یاد کر انہیں اپنی دعاؤں میں یاد کر رہے ہیں ۔ مرحوم خلیل دادا نے مالیگاؤں شہر کے غریبوں کیلئے اپنا ہاتھ کھلا رکھا اور انکی امداد کی ۔رمضان المبارک ہو، عید، بقرعید ہو، لاک ڈاؤن ہو، فساد ہو یا کسی کی بیماری کا وقت ہو،آسمانی و سلطانی ہو ہر وقت خلیل دادا نے اللہ کے فضل و کرم سے لوگوں کی مدد کی اور آخر تک کرتے رہیں ۔
اتنا ہی نہیں خلیل دادا نے غریبوں پر کبھی ظلم نہیں کیا ۔ہر ظلم کے خلاف خلیل دادا نے آواز بلند کی ۔چوروں، ظالموں، بدمعاشوں کیخلاف خلیل دادا نے ہمت سے مقابلہ کیا اور انہیں شہر سے ختم کرنے کی کوشش کی اور ماشاءاللہ وہ کافی حد تک کامیاب بھی رہیں ۔
خلیل دادا نے زمین کے کاروبار میں بھی ایمانداری کو اولیت دی اور یہی وجہ ہے کہ آج مالیگاؤں شہر سمیت اطراف میں خلیل دادا کے کاروبار میں ایمانداری کا ثبوت نظر آتا ہے ۔ہر کوئی خلیل دادا سے کاروبار کرنے کا خواہش مند رہا کرتا تھا ۔زمین کے کاروبار میں بھی کچھ لوگوں نے شہر میں غیر قانونی کام کیا جسے خلیل دادا نے اپنی ایمانداری، بہادری سے ختم کر لوگوں کو انصاف دلایا ۔
خلیل دادا نے جس طرح شہر بھر میں اپنی بہادری اور ایمانداری سے کاروباری افراد میں اعلی مقام حاصل کیا اور خلیل دادا نے جس طرح غریبوں کی امداد کی ۔بے سہارا اور بے کسوں کی مدد کی، جس طرح مرحوم نے نوجوانوں کے دلوں میں پیار، محبت سے جگہ بنایا، جس طرح خلیل دادا نے ظالموں، بدمعاشوں کے دلوں میں ڈر و خوف پیدا کیا ۔انشاء اللہ ہم وہ سب برقرار رکھیں گے، شیخ خلیل دادا کے نیک کاموں کو آگے بڑھائیں گے ۔تاکہ شہر میں کسی کیساتھ ظلم و ناانصافی نہ ہو سکے ۔
اللہ تعالیٰ مرحوم شیخ خلیل دادا کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھیں، اللہ پاک ہمیں ہمت و حوصلہ دے اور ہم سے دین و دنیا کی خدمات لیتا رہے ۔آمین ثم آمین ۔
خلیل دادا کے غم میں شریک ہوئے تمام افراد کا ہم خاندان حاجی شیخ شفیع کیجانب سے شکریہ ادا کرتے ہیں اور آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ شیخ خلیل کو اپنی خصوصی دعاؤں میں یاد رکھیں ۔
اس تعزیتی اجلاس میں اسلم انصاری، سلیم رضوی، محمود شاہ، نسیم راکیل والے، شفیق رانا ،سید مسلم اعجاز عمر، میمن جماعت، عبداللہ قریشی، حافظ انیس اظہر سمیت شہر بھر سے سرکردہ شخصیات و دینی ملی، کاروباری تنظیموں کے افراد نے شرکت کر اظاہر تعزیت پیش کیا۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com