زمین کو ٹرپل سیاروں کی ہنگامی صورتحال کا سامنا،منفرد اور خوبصورت سیارے کی حفاظت کیلئے ماحولیات کا تحفظ ضروری :ضیاء الرحمن زری والا مالیگاؤں سنیئر کالج میں عالمی یوم ماحولیات پر پلاسٹک مخالف بیداری و شجر کاری پروگرام کا انعقاد


زمین کو ٹرپل سیاروں کی ہنگامی صورتحال کا سامنا،منفرد اور خوبصورت سیارے کی حفاظت کیلئے ماحولیات کا تحفظ ضروری :ضیاء الرحمن زری والا 


مالیگاؤں سنیئر کالج میں عالمی یوم ماحولیات پر پلاسٹک مخالف بیداری و شجر کاری پروگرام کا انعقاد 


 

مالیگاؤں : 5 جون (پریس ریلیز) مالیگاؤں سینیئر کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس واقع رونق آباد اے ایم ٹی کیمپس میں عالمی یوم ماحولیات پر ایک بامقصد پروگرام کا انعقاد کیا گیا ۔جس میں پلاسٹک کا استعمال سے ہمارے ماحول پر پڑنے والے مضر اثرات پر مقررین نے روشنی ڈالی، وہیں کالج ہٰذا کے ایکٹنگ پرنسپل ضیاء الرحمن زری والا کی صدارت میں شجر کاری مہم کا آغاز کرتے ہوئے کالج کے وسیع میدان میں ترتیب وار پلانٹیشن کیا گیا جس میں طلباء و طالبات نے کثیر تعداد میں حصہ لیا ۔یہاں ضیاء الرحمن زری والا نے ماحولیات کی حفاظت کیلئے کی جانے والی کوششوں پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں پلاسٹک کے استعمال سے بچنا چاہئے،ہم ذمہ دار شہری بنے اور زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں، ہمیں گرین گراس اور پلانٹیشن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔موصوف نے کہا کہ فضائی آلودگی کی روک تھام کیلئے ہمیں جدوجہد کرنا ضروری ہے اور پلاسٹک کے استعمال پر روک لگانا بھی انتہائی ضروری ہے ۔موصوف نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کی زیر قیادت اور 1973 سے ہر سال 5 جون کو منایا جاتا ہے۔ عالمی یوم ماحولیات ماحولیاتی عوامی رسائی کا سب سے بڑا عالمی پلیٹ فارم ہے اور اسے دنیا بھر میں لاکھوں لوگ مناتے ہیں۔ اس سال اس کی میزبانی سویڈن کر رہا ہے۔
 

انہوں نے کہا کہ وقت ختم ہو رہا ہے، اور فطرت ہنگامی حالت میں ہے۔ اس صدی میں گلوبل وارمنگ کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم رکھنے کے لیے، ہمیں 2030 تک سالانہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو نصف کر دینا چاہیے۔ بغیر کسی کارروائی کے، محفوظ رہنما خطوط سے ہٹ کر فضائی آلودگی کی نمائش ایک دہائی کے اندر 50 فیصد تک بڑھ جائے گی اور آبی ماحولیاتی نظاموں میں بہنے والا پلاسٹک کا فضلہ 2040 تک تقریباً تین گنا بڑھ جائے گا۔ ہمیں ان اہم مسائل کو حل کرنے کے لیے فوری اقدام کی ضرورت ہے، جس سے "صرف ایک زمین" اور اس کی توجہ فطرت کے ساتھ ہم آہنگی میں پائیدار زندگی گزارنے پر ہے۔

 پائیدار زندگی کیلئے صحیح معنوں میں تبدیلی کے اختیارات دستیاب، سستی اور لوگوں کے لیے روزمرہ کے بہتر فیصلے کرنے کے لیے پرکشش ہونے کی ضرورت ہے۔ تبدیلی کے کلیدی شعبوں میں یہ شامل ہے کہ ہم اپنے گھروں، شہروں اور کام کی جگہوں اور عبادت گاہوں میں کیسے تعمیر اور رہتے ہیں، ہمارے پیسے کیسے اور کہاں لگائے جاتے ہیں، اور ہم تفریح ​​کے لیے کیا کرتے ہیں۔  لیکن اس سے بڑی وسعت والے دیگر میں یہ بھی شامل ہیں توانائی، پیداواری نظام، عالمی تجارت اور نقل و حمل کے نظام، اور حیاتیاتی تنوع کا تحفظ۔

 

 بہر حال، افراد اور سول سوسائٹی اہم اور بیداری پیدا کرنے والے اور معاون ہیں۔ ہم جتنا زیادہ اپنی آواز بلند کریں گے، اس بات پر زور دیں گے کہ کیا کرنے کی ضرورت ہے اور اس بات کی نشاندہی کریں گے کہ ذمہ دار کون ہے، اتنی ہی تیزی سے تبدیلی آئے گی۔اور شہر میں گرین ماحول نظر آئے گا ۔ عالمی یوم ماحولیات 2022 اور گرین گراس آیند پلانٹیشن مہم کی حمایت کرکے ہم سب اس منفرد اور خوبصورت سیارے کو انسانیت کے لیے آرام دہ گھر بنانے میں مدد کر سکتے ہیں۔

 آب و ہوا بہت تیزی سے گرم ہو رہی ہے۔رہائش کے نقصان اور دیگر دباؤ کا مطلب ہے کہ ایک اندازے کے مطابق 1 ملین جانداروں کو معدوم ہونے کا خطرہ ہے۔ آلودگی ہماری ہوا، زمین اور پانی کو زہر آلود کر رہی ہے۔ اس مخمصے سے نکلنے کا راستہ یہ ہے کہ ہم اپنی معیشتوں اور معاشروں کو جامع، منصفانہ اور فطرت سے زیادہ مربوط بنانے کے لیے تبدیل کریں۔  ہمیں سیارے کو نقصان پہنچانے سے اس کے علاج کی طرف منتقل ہونا چاہئے۔

 اس سے قبل کالج ہٰذا میں  ماحولیات پر منعقدہ گیسٹ لیکچر پر AIT نائٹ کالج کے معروف پروفیسر محمد فاروق شبیر احمد (جغرافیہ ڈپارٹمنٹ) نے ماحولیات پر گراں قدر معلومات سے نوازتے ہوئے طلباء کو ماحولیاتی آلودگی سے بچنے اور درخت کی حفاظت کو یقینی بنانے کی اپیل کی ۔
مالیگاؤں سینیئر کالج میں عالمی یوم ماحولیات کا انعقاد جغرافیہ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے پرنسپل ضیاء الرحمن زری والا کی صدارت میں کیا گیا جبکہ شجر کاری کا انعقاد کالج کے باٹنی ڈپارٹمنٹ کی جانب سے کیا گیا ۔اس موقع پر مالیگاؤں سینیئر کالج NNS پروگرام کے آفیسر پروفیسر مبشرہ کوثر( ہیڈ آف جغرافیہ ڈپارٹمنٹ )اور پروفیسر ثناء شیخ (ہیڈ آف باٹنی ڈپارٹمنٹ) سمیت تمام ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ کے پروفیسر، اسٹوڈنٹس و دیگر اسٹاف شریک رہیں ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے