جنتا بینک بنکروں کی دشمن، بینک کے چیئرمین پر ذاتی رنجش کا الزام، کئی کارخانے دار اپنا کاروبار اور گھر فروخت کر کرایہ کے مکان میں رہنے پر مجبور


جنتا بینک بنکروں کی دشمن، بینک کے چیئرمین پر ذاتی رنجش کا الزام، کئی کارخانے دار اپنا کاروبار اور گھر فروخت کر کرایہ کے مکان میں رہنے پر مجبور 



تعمیری محاذ کے تین بندر بنکروں سے دشمنی لینے پر آمادہ ، پریس کانفرنس کانفرنس میں سنگین الزامات



مالیگاؤں : 20 مارچ (بیباک نیوز اپڈیٹ)مرکزی حکومت کی پاورلوم گریڈیشن فنڈ اسکیم TUFF کے تحت مقامی بنکروں کو 2014 میں تقریباً 13 کروڑ روپے قرض جاری کیا گیا. اس قرض پر مرکزی حکومت کی وزارت ٹیکسٹائل کی جانب سے سود کی ادائیگی ہونی تھی. اس رقم پر سالانہ دو کروڑ روپے تک جنتا بینک کو سود اور سبسڈی کی رقم ملی جسے منافع بتا کر بینک نے متعدد بار ریاست گیر ایوارڈ حاصل کیا. بنکروں نے بتایا کہ جنتا بینک کو نوڈل ایجنسی بنایا گیا تھا جس کی رو سے سبسڈی حاصل کرنے کیلئے محکمہ ٹیکسٹائل ناگپور کو کاغذات مہیا کرانا بینک کی ذمہ داری تھی. جس میں بینک نے زبردست کوتاہی کی۔اور بنکروں کو مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ۔اس نقصان سے بنکر اپنے گھر و کاروبار فروخت کرنے پر مجبور ہوگئے ۔اس طرح کا اظہار اردو میڈیا سینٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے متاثرہ بنکروں نے کیا ۔جنتا کوآپریٹو بینک کے الیکشن میں برسراقتدار کے مظالم اور زیادتیوں اور استحصال کا پردہ فاش کرنے کیلئے آج بینک کے مظلوم متاثرہ بنکروں نے اردو میڈیا سینٹر میں پریس کانفرنس کے ذریعے مکمل روداد پیش کی۔


انہوں نے بتایا کہ دو تین سال تک سبسڈی کی رقم حکومت سے جاری نہیں ہوسکی نتیجے میں بنکروں پر تھک باقی اور سود در سود بڑھتا گیا. بنکر زبردست مالی بوجھ کا شکار ہوتے گئے. پریس کانفرنس میں جنتا بینک کے چیئرمین اور موجودہ سی ای او پر سنگین نوعیت کے الزامات اور متعصبانہ رویہ کا الزام عائد کیا. بنکروں نے بتایا کہ مہاراشٹر بینک اور دینا بینک کی معرفت ٹف کا قرض 9 فیصد شرح سود سے دیا گیا لیکن جنتا بینک نے ساڑھے 13 فیصد سود لگایا. حکومت سے حاصل ہونے والی سبسڈی میں بینک نے لاپرواہی کا مظاہرہ کیا جس کے نتیجے میں بنکروں پر تین گنا سود لاگو ہوگیا۔متاثرین نے بتایا کہ بنکروں کے خلاف کیس لڑنے والے قانونی مشیر کو گذشتہ پانچ سال میں بطور فیس 65 لاکھ روپے ادا کئے گئے۔


اس موقع پر موجودہ جنتا بینک کے چیئرمین پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے آصف فیبرکس کے مالک امتیاز احمد کانجی والے نے بتایا کہ میں نے بھی جنتا بینک سے ٹف اسکیم کے تحت لاکھوں روپے قرض لئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بینک کی شرح سود زیادہ ہونے کے سبب ان کی سود کی رقم میں اضافہ ہوتا گیا۔ لاک ڈاؤن کے سبب کاروبار کی حالت ابتر ہونے کے سبب ان کی معاشی حالت دگرگوں ہوگئی۔ بینک کی جانب سے ان حالات میں بھی ان کے ساتھ کسی طرح کی رعایت نہیں کی گئی۔ بالآخر انہیں اپنا کاروبار اور رہائشی مکان فروخت کرکے بینک کا قرض ادا کرنا پڑا۔ آج وہ کرایے کے مکان میں رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بینک سبسیڈی کیلئے کوشش کرتی تو یہ دن نہیں دیکھنا پڑتا ۔اس ضمن میں بار بار بینک کے چیئرمین سے گزارش کی گئی لیکن بینک کے چیئرمین نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ یہ بنکروں کی بینک نہیں ہے یہاں سے جو قرض لیا ہے اسے ادا کرو ۔


ایک دوسرے بنکر اور بینک کے قرض دار معین الدین نے بینک کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جن حالات میں بینک کو بنکروں کا ساتھ دینا چاہیے ان حالات میں بینک کے چیئرمین نے بنکروں سے ذاتی دشمنی نکالی۔ جنتا بینک کوآپریٹو بینک ہے اس لئے انہیں بنکروں کو راحت دینی چاہیے تھی لیکن بینک نے متعصبانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے متعدد بنکروں کو معاشی و ذہنی پریشانی میں مبتلا کردیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر بینکوں کے مقابلے جنتا کوآپریٹو بینک نے قرض داروں سے تقریباً دوگنا سود وصول کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ٹف اسکیم کے 13 بنکروں نے بینک کو دو کروڑ روپے ادا کئے ہیں اگر ہماری مدد بینک کرتی ہیں تو شہر کے دوسرے بنکر بھی ٹف اسکیم سے فائدہ اٹھاتے اور بینک کو دو نہیں بلکہ دو سو کروڑ روپے حاصل ہوسکتے تھے ۔


پریس کانفرنس میں موجود عرشین ٹیکسٹائل فرم کے بنکر یاسین باگلہ نے واضح طور پر کہا کہ تعمیری محاذ بنکر دشمن ہے۔ تعمیری محاذ کے ممبران میں نا کوئی بنکر ہے اور نا ہی کوئی بنکروں کا ہمدرد ہے. اس محاذ کو آئندہ انتخابات میں شکست سے دوچار کرنا نہایت ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ تعمیری محاذ کے تین بندر ڈاکٹر منظور حسن، رشید سیٹھ اور عزیز مقادم ہیں جو بینک کی معرفت بنکروں کو پریشان کررہے ہیں ۔

اسی طرح اتتھی ٹیکسٹائل کے الطاف احمد نے کہا کہ جنتا بینک کی موجودہ بورڈ آف ڈائریکٹرس اور چئیرمین کی پالیسی سے بنکروں کو نقصان ہورہا ہے ۔بنکر دشمنی میں بینک کے چیرمین بنکروں کو برباد کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ جنتا بینک بنکروں کو چوس رہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ گورنمنٹ کی سبسیڈی میں بھیانک بینک نے کوئی تعاون نہیں کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ میں نے 96 لاکھ قرض کیا تھا اور 80 لاکھ روپے ادا کرچکا ہوں لیکن اب بھی مجھ پر تقریباً ایک کروڑ روپیہ باقی بتایا جارہا ہے ۔اسی طرح سلیم ایس کے ٹیکسٹائل انڈسٹری کے مالک سلیم احمد نے بتایا کہ ایم آئی ڈی سی میں میری فرم جاری ہے اور کمرے ساتھ بھیا مذکورہ بالا معاملہ بینک نے اپنایا ۔اسی طرح ایک بنکر نے بتایا کہ بغیر اجازت کے میرے اکاؤنٹ میں بینک نے 70 لاکھ روپے کا لین دین کیا گیا ہے جو بینک کے خراب کردار کو واضح کرتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم آئندہ ہونے والے الیکشن میں عوام کی عدالت میں بنکروں کی دشمن بنیاد موجودہ بینک کے چیئرمین اور بورڈ آف ڈائریکٹرس کو بےنقاب کریں گے ۔اس پریس کانفرنس میں ایس کے سلیم فیبرکس سائنہ ایم آئی ڈی سی ،شکیل احمد اقراء فیبرکس مالدہ، الطاف احمد، اتتی ٹیکسٹائل، معین الدین نظام الدین یونائٹیڈ ٹیکسٹائل، یاسین باگلہ عرشین ٹیکسٹایل، خلیل الرحمٰن سونا موتی ٹیکسٹائل وغیرہ بنکر شریک تھے ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے