اسکولی نصاب میں کسی مذاہب کی تعلیمات کا شمار نہیں ، بی جے پی کے مذہبی اکائی کے سربراہ تشار بھونسلے کا گیتا پڑھانے کا مطالبہ مسترد : ورشا گائیکواڑ
ممبئی : 23 مارچ (بیباک نیوز اپڈیٹ) ریاست مہاراشٹر کی وزیر تعلیم برائے اسکول ورشا گائیکواڑ نے نصاب میں مذہبی تعلیم کے شمار کے امکان کو خارج کردیا ہے ۔ انہوں نے بھگواد گیتا کو اسکول کے نصاب میں شامل کرنے کے بی جے پی کے مطالبے کو مسترد کردیا۔ ورشا گائیکواڑ نے بی جے پی کے سیاسی مطالبے پر تنقید کی۔
بی جے پی کے مذہبی اکائی کے سربراہ تشار بھوسلے نے ریاست میں اسکولی تعلیم میں بھگوت گیتا اور سنت ادب کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم اس مطالبہ کو قبول نہ کرنے پر ورشا گائیکواڑ نے وضاحت پیش کی ہے ۔
بھگواد گیتا ایک مذہبی متن ہے۔ اگر ایک مذہب کے صحیفوں کو تعلیم میں شامل کیا جائے تو دوسرے مذاہب سے بھی یہی مطالبہ کیا جائے گا۔ ہندوستان کے آئین میں سیکولرازم کا اصول موجود ہے۔ یہ خیالات طالب علمی کے زمانے سے ہی بچوں کے ذہنوں میں ڈالے جائیں۔ ساتھ ہی یہ ریاستی حکومت کا کردار ہے کہ وہ بچوں میں سائنسی رویہ پیدا کرے۔ جس کے ایک پہلو کے طور پر ریاستی حکومت نے پونہ میں راجیو گاندھی سائنس سٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ورشا گائیکواڑ نے مزید کہا کہ اسکول کے نصاب کے ذریعے طلبہ کو کوئی مذہبی تعلیم نہیں پڑھائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی صحیفے گھر پر پڑھے جائیں اور انہیں اسکولی تعلیم میں شامل نہ کیا جائے۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com