آئندہ 48 گھنٹوں میں بجلی بحران کا امکان ،ریاست میں لوڈشیڈنگ کا خدشہ ، کول انڈیا کمپنی کے ملازمین کی ہڑتال سے مہاراشٹر میں بجلی کی پیداوار متاثر
ناگپور : 28 مارچ (بیباک نیوز اپڈیٹ) مہاراشٹر کی سرکاری بجلی کمپنی میں کام کرنے والے انجینئرز، ٹیکنیشنز، ملازمین اور کنٹریکٹ بیس کے ملازمین ایک طرف ہڑتال پر چلے گئے ہیں تو دوسری طرف یہ سمجھا جا رہا ہے کہ مہاراشٹر میں 48 کے بعد لوڈ شیڈنگ کا بڑا بحران پیدا ہو جائے گا۔ چونکہ کوئلہ کمپنی میں کام کرنے والے مزدوروں کی یونین آف کول انڈیا 2 دن کی ہڑتال پر ہے۔جس کے سبب کوئلے کی سپلائی مکمل طور پر ٹھپ ہو جائے گی۔ اس لیے لوڈ شیڈنگ کا امکان ہے۔ یہاں اندازہ لگایا جارہا ہے کہ 48 گھنٹے بعد مہاراشٹر میں لوڈ شیڈنگ کا بڑا بحران پیدا ہوسکتا ہے ۔
خیال رہے کہ ہڑتال 28 اور 29 مارچ کہ مزدور ہڑتال ریاست کے مختلف حصوں کو متاثر کرے گی کیونکہ مہاراشٹر میں سرکاری بجلی کمپنیوں کے ملازمین دو دن تک ہڑتال پر چلے گئے ہیں ۔
کول انڈیا یونین کے دو روزہ ہڑتال پر جانے کی وجہ سے دو دن تک کوئلے کی سپلائی بھی مکمل طور پر منقطع رہے گی۔ اس دوران پارس، ناسک اور بھساول میں بجلی کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
اس کے علاوہ کوراڑی، کھاپرکھیڑا اور چندر پور کے بجلی پیدا کرنے والے یونٹ متاثر ہوں گے۔ جس کے نتیجے میں ریاست میں 48 گھنٹے بعد لوڈ شیڈنگ کا قوی امکان ہے۔
دریں اثنا، مہانرمتی، مہاوترن اور مہاپریشن جیسی سرکاری بجلی کمپنیوں کے عہدیداروں اور ملازمین کی خدمات ضروری خدمات ہیں اور حکومت مہاراشٹر ضروری خدمات بحالی قانون کو نافذ کرکے انہیں ہڑتال پر جانے سے روک رہی ہے۔ حکومت) نے آج یہ اعلان کرتے ہوئے اپنا حکمنامہ جاری کیا ۔ تاہم ریاستی حکومت کے محکمہ توانائی نتن راؤت نے مرکزی حکومت کی طرف سے بجلی کی نجکاری کی کوششوں کی سخت مخالفت کی ہے۔ وزیر توانائی راوت پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ ریاست میں کسی بھی حالت میں بجلی کمپنیوں کی نجکاری نہیں کی جائے گی۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com