کرناٹک کے سرکاری کالج میں اردو ، سلام اور حجاب پر پابندی کا الزام ، مسلم طالبات کا احتجاج، ویڈیو وائرل



کرناٹک کے سرکاری کالج میں اردو ، سلام اور حجاب پر پابندی کا الزام ، مسلم طالبات کا احتجاج، ویڈیو وائرل 


کالج انتظامیہ نے کہا کہ کلاس روم میں یکسانیت کیلئے حجاب نکالنے کا حکم دیا گیا

 

بنگلور: 2 جنوری (ایجنسی / بیباک نیوز اپڈیٹ ) سرکاری پی یو کالج کے پرنسپل رودرا گوڑا نے ایک حکم نامہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ حجاب پہن کر آنے والوں کو کلاس روم میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا، یہی نہیں بلکہ پرنسپل نے کالج میں سلام کرنے، اردو اورعربی میں بات کرنے پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔ پرنسپل کے اس متنازعہ فیصلہ سے مسلم لڑکیاں پریشان ہیں ان میں 6 لڑکیوں نے پرنسپل کے متنازعہ فیصلہ کے خلاف آواز اٹھائی اور کلاسس کا بائیکاٹ کیا اور کلاس روم کے باہر احتجاج کیا اورپرنسپل کی اس حرکت سے والدین کو واقف کروایا۔جس پر ان لڑکیوں کے سرپرستوں نے پرنسپل سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن انھیں اس کی اجازت نہیں دی گئی۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب مقامی میڈیا کے نمائندوں کو اس سے واقف کروایا گیا۔ اس سلسلے میں لڑکیوں کے سرپرستوں نے فوری طور پر مسئلہ حل کرنے کے لیے پولیس سے شکایت بھی کی ہے۔


میڈیا ذرائع سے موصول تفصیلات کے مطابق ریاست کرناٹک کے اڈپی شہر میں واقع گورنمنٹ پی یو کالج کے پرنسپل نے مسلم لڑکیوں کے حجاب پہننے اورسلام کرنے پرپابندی عائد کردی ہے۔ پرنسپل کے اس متنازعہ فیصلہ کے خلاف چند دنوں سے کالج کی 6 لڑکیاں کلاسیس کا بائیکاٹ کرتے ہوئے احتجاج کررہی ہیں۔ اس سلسلے میں کالج انتظامیہ نے صفائی پیش کرتے ہوئے کہا کہ کالج میں طلباء کے درمیان یکسانیت کو برقرار رکھنے کیلئے کلاس روم میں حجاب نکالنا ضروری کیا گیا ہے ۔


کالج میں حجاب پر پابندی عائد کرنے کے بعد چند لڑکیوں کی جانب سے احتجاج کئے جانے کا معاملہ مقامی بی جے پی کے رکن اسمبلی رگھوپتی بھٹ سے رجوع ہوا اور انہوں نے بھی پرنسپل کے متنازعہ فیصلہ میں مداخلت کی۔ رکن اسمبلی نے چند مسلم طلباء تنظیموں کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگر کالج میں احتجاج کے بعد حجاب کی اجازت دی جاتی ہے تو ایسی صورت میں لڑکیاں دوسرے مسائل پر بھی احتجاج کریں گی۔اس سلسلے میں ان لڑکیوں کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل بھی ہورہا ہے جسے عوام کی معلومات کے لئے یہاں نشر کیا گیا ہے ۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے