گِٹ ہب نامی ایپ پر مشہور مسلم خواتین کو فروخت کرنے اور تصاویر پر نازیبا تبصرہ اپلوڈ کرنے پر مہاراشٹر میں مقدمہ درج شیو سینا رکن پارلیمنٹ پرینکا چترویدی کی شکایت


گِٹ ہب نامی ایپ پر مشہور مسلم خواتین کو فروخت کرنے اور تصاویر پر نازیبا تبصرہ اپلوڈ کرنے پر مہاراشٹر میں مقدمہ درج 


 شیو سینا رکن پارلیمنٹ پرینکا چترویدی کی شکایت ، ریاستی خواتین کمیشن کی چیئرمین روپالی چاکنکر نے سائبر پولس کو کارروائی کا حکم دیا 



 ممبئی: 2 جنوری (بیباک نیوز اپڈیٹ) اب مشہور مسلم خواتین کو بدنام کرنے کی ایک سنسنی خیز خبر سامنے آئی ہے۔ انٹرنیٹ پر مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی نامور مسلم خواتین کو بدنام کیا جا رہا ہے۔ GitHub نامی آن لائن ایپ اور بُلیّ بائی نامی ٹویٹر ہینڈلر پر ایک مسلمان خاتون کی تصویر نازیبا تبصرہ کے ساتھ اپ لوڈ کی گئی ہے جس نے ملک بھر میں ہلچل مچا دی ہے۔اس ضمن میں شیوسینا کی رکن پارلیمنٹ پرینکا چترویدی نے میں ممبئی پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔ انہوں نے ملزمان کی فوری گرفتاری کا بھی مطالبہ کیا۔چترویدی نے الزام لگایا کہ مرکزی انفارمیشن اینڈ ٹکنالوجی کے وزیر اشونی وشنو سے شکایت درج کروائی گئی لیکن انہوں نے اس پر توجہ نہیں دی ۔


 تفصیلات کے مطابق دہلی کی ایک خاتون نے ٹوئٹر پر ایسی ہی شائع شدہ تصویر شیئر کی۔ اس کے بعد یہ معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس معاملے کو پرینک چترویدی نے اٹھاتے ہوئے ممبئی پولیس اور سائبر سیل میں شکایت بھی درج کرائی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ خواتین کی تصاویر کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔

    اس سلسلے میں اے بی پی ماجھا اور شیام مراٹھی نامی ٹی وی چینل نے پرینکا چترویدی سے رابطہ کیا۔تب انہوں نے کہا کہ مسلم خواتین کی تصاویر کو گٹ ہب ایپ پر پوسٹ کرکے ان کی توہین کی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں قانونی کارروائی کی ضرورت ہے۔ چترویدی نے یہ بھی کہا کہ کچھ ملزمین کا تعلق ممبئی سے بھی ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دہلی میں شکایت درج ہونے کے باوجود دہلی پولیس نے اس معاملے میں کوئی تحقیقات شروع نہیں کی اور وہ اس مسئلے کو حل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ اس لیے میں نے ممبئی پولیس سے معاملے کی تحقیقات کرنے اور کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ چترویدی نے کہا کہ خواتین کا احترام ضروری ہے۔ چاہے وہ کوئی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔انہوں نے کہا کہ شیوسینا ہمیشہ خواتین کے ساتھ کھڑی رہی ہے جو بھی ان کے خلاف بولتا ہے۔ خواتین کی تصاویر ان کی اجازت کے بغیر کیسے شائع کی جاتی ہیں۔اس پر دھیان دینا ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ آج مسلم خواتین کی توہین کی جارہی ہیں کل ہندو خواتین کو بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے اس لئے عورتوں کی عزت کا خیال رکھنا سرکار کی اوّلین ترجیح ہے ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ مرکزی انفارمیشن اینڈ ٹکنالوجی کے وزیر اشونی وشنو کو اس بارے میں بتایا گیا لیکن وہ محتاط رہے اور کہا کہ کارروائی کی جائے گی۔ تاہم، ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
دوسری جانب مہاراشٹر سرکار نے مسلم خواتین کی توہین کے معاملہ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے کارروائی کا حکم دیا ہے ۔ریاست کی خواتین کمیشن کی چیئرپرسن روپالی تائی چاکنکر نے سائبر پولس کو ہدایات جاری کی ہے کہ معاملہ کی تحقیقات کی جائیں اور خاطیوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ مسلم خواتین کو بدنام کرنے والوں پر سرکار قانونی شکنجہ کسنے کیلئے پوری طرح سے تیار ہے۔ ممبئی پولس میں ویسٹ ریجن سائبر پولیس اسٹیشن، ممبئی نے کیس رجسٹرڈ نمبر 01/2022، U/S 153(A)، 153(B)، 295(A)، 354D، 509، 500 IPC r/w درج کیا ہے۔ مذکورہ ٹویٹر ہینڈل ہولڈرز اور گٹ ہب ایپ پر 'بلی بائی' ایپ ڈویلپر کے خلاف 67 آئی ٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔اس متنازع سائٹ پر کارروائی کرتے ہوئے اسکے بلاک کردیا گیا ۔

اس سلسلے میں سماجی کارکن انجم انعام دار اور حمید دھابولکر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے خاطیوں پر پولس کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے