تکارام سوپے کے قبضہ سے آج مزید 33 لاکھ برآمد ، ٹی ای ٹی گھپلہ میں اب تک 3 کروڑ 88 لاکھ روپے ضبط ، پولس کارروائی جاری

تکارام سوپے کے قبضہ سے آج مزید 33 لاکھ برآمد ، ٹی ای ٹی گھپلہ میں اب تک 3 کروڑ 88 لاکھ روپے ضبط ، پولس کارروائی جاری 



پونہ : 24 دسمبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) امتحانی کونسل کے کمشنر تکارام سوپے، جنہیں پیپر لیک معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ایک معاملہ ہے جو ختم نہیں ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ مہاراشٹرا اسٹیٹ ایجوکیشن کونسل کے معطل کئے گئے کمشنر تکارام سوپے سے آج مزید 33 لاکھ روپے ضبط کیے گئے۔ اب تک، پونہ پولیس نے تکارام سوپے سے 3 کروڑ 88 لاکھ روپے کی نقدی اور زیورات ضبط کیے ہیں۔ تکارام سوپے نے 2018 اور 2019 کے ٹی ای ٹی امتحانات میں دھوکہ دہی کے ذریعے یہ رقم جمع کی ہے۔ جب پولیس نے کارروائی شروع کی تو سوپے نے رقم اپنے مختلف رشتہ داروں کے گھروں پر چھپا دی۔ لیکن جیسے ہی پولس نے ٹریلر دکھایا تب سوپے کی طرف سے چھپائی گئی رقم باہر آ رہی ہے۔ تعلیم کے شعبے میں تکارام سوپے کا کیریئر پہلے ہی متنازعہ رہا ہے۔

 22 دسمبر کو تکارام سوپے کے قبضے سے 10 لاکھ روپے نقد ملے تھے۔ سوپے نے جو نقدی کسی قریبی شخص کو دی تھی۔ اس شخص نے آج وہی نقدی پولیس کے حوالے کی۔ اس سے قبل سوپے کے گھر سے 1.58 کروڑ روپے کی نقدی اور سونے کے زیورات ضبط کیے گئے تھے۔ پہلے چھاپے میں پولیس نے 90 لاکھ روپے ضبط کیے تھے۔ لیکن پولیس کے ایک اور چھاپے کے خوف سے سوپے کی بیوی اور بہنوئی نے رقم اور زیورات کو کہیں اور چھپا دیا۔ لیکن پولیس کی طرف سے مکمل چھان بین کے بعد نقدی سمیت حاصل ہوئی رقم پولیس کے حوالے کر دی گئی۔
مہاڈا پیپر لیک کیس کی جاری تحقیقات نے کئی چونکا دینے والے حقائق اور دیگر امتحانات میں گھپلوں کا پردہ فاش کیا ہے۔ یہ بات سامنے آئی ہے کہ بہت سے لوگوں نے پیسے لے کر ٹیچر اہلیتی امتحان پاس کیا ہے۔

 پونہ کے پولیس کمشنر امیتابھ گپتا نے کہا تھا کہ پیپر لیک کے دو معاملات کی تحقیقات جاری ہے۔ ایم ایچ اے ڈی اے پیپر لیک کی جانچ میں پتہ چلا کہ ٹی ای ٹی میں بھی گڑبڑ ہوئی ہے ۔ اس سلسلے میں گزشتہ رات کیس درج کرکے دونوں کو گرفتار کرلیا گیا تھا ان میں سوپے اور ساوریکر شامل ہیں۔اب تک پولس نے اتر پردیش، کرناٹک اور مہاراشٹر سے چھ افراد کو گرفتار کیا ہے اور مزید جانچ جاری ہے ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے