اومیکرون کے مریضوں میں اضافہ سے تشویش ، مرکز کی 14 ریاستوں کو ہدایت ، نائٹ کرفیو و جزوی لاک ڈاؤن لگانے کی صلاح
جمعرات کو وزیر اعظم نریندر مودی کی اومیکرون کو لیکر جائزہ میٹنگ
نئی دہلی : 22 دسمبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) ہندوستان میں بڑھتے ہوئے اومیکرون کے مریضوں سے تشویش پائی جارہی ہیں ۔مرکزی ہیلتھ سکریٹری راجیش بھوشن نے محکمہ صحت کی طرف سے پہلے ہی دی گئی ہدایات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اب مرکزی حکومت نے نئی اور اہم ہدایات جاری کی ہیں۔جو پابندیوں کے کردار کو بھی واضح کرتی ہیں۔ مرکزی ہیلتھ سیکرٹری نے کہا کہ اگر مقامی سطح پر انفیکشن کو روکا جاتا ہے تو صورتحال قابو میں رہے گی، انہوں نے مزید کہا کہ باخبر رہنے کی مزید کی ضرورت ہے۔ اومیکرون ویرینٹ ڈیلٹا ویرینٹ سے تین گنا زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہمیں مقامی اور ضلعی سطح پر تندہی سے کام کرنا ہوگا۔جاری کردہ خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈیٹا کا تجزیہ ، فوری ایکشن اور انفیکشن کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔ ہیلتھ سیکرٹری نے کہا کہ حالات پر قابو پانے کے لیے رات کا کرفیو نافذ کیا جائے۔ خط میں بڑے ہجوم پر پابندی، شادیوں اور جنازوں میں شرکت پر پابندی کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ دفاتر، کمپنیوں، صنعتوں اور پبلک ٹرانسپورٹ سروسز میں حاضری کو کم کرنے کی بھی تجویز مرکزی ہیلتھ سیکرٹری نے جاری کی ہے ۔ تاہم یہ واضح کیا گیا ہے کہ یہ فیصلہ صورتحال کے مطابق کیا جانا چاہیے۔ دریں اثنا، اومیکرون ملک کی 14 ریاستوں میں پھیل چکا ہے۔ مریضوں کی کل تعداد 220 تک پہنچ گئی ہے اور مہاراشٹر میں سب سے زیادہ 65 مریض پائے گئے ہیں۔ اس کے بعد دہلی میں 57 اور تلنگانہ میں 24 مریض، کرناٹک میں 19، راجستھان میں 18، کیرالہ میں 15، گجرات میں 14، جموں و کشمیر میں تین کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان کے علاوہ اڑیشہ اور اتر پردیش میں دو دو، آندھرا پردیش، چندی گڑھ، لداخ، تمل ناڈو اور مغربی بنگال میں ایک ایک کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ پائے گئے ہیں۔
ملک میں اومیکرون کے تشویشناک حد تک اضافہ کے پیش نظر وزیر اعظم نریندر مودی جمعرات کو ایک جائزہ میٹنگ کر سکتے ہیں۔اسکے علاوہ ہندوستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے کل 6,317 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان حالات میں مرکزی حکومت نے 14 ریاستوں کو حالات کا جائزہ لیکر نائٹ کرفیو اور جزوی لاک ڈاؤن لگانے کی صلاح دی ہے ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com