بی جے پی کی جانب سے کئے گئے امراوتی بند کے دوران تشد د، کرفیو کا نفاذ ، حالات کشیدہ
وزیر داخلہ دلیپ ولسے پاٹل اور اقلیتی وزیر نواب ملک کی عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل
امراوتی : 13 نومبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) امراوتی میں گزشتہ کل جمعہ کو بند کے دوران جو تشدد پھوٹ پڑا اسے قابو میں کرلیا گیا تھا لیکن آج بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے دوبارہ امراوتی بند کا اعلان کیا گیا لیکن اس دوران بی جے پی مظاہرین نے عوام کی دکانوں کی توڑ پھوڑ کی اور پتھراؤ بازی کیا جس کے سبب پولس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا ۔حالات پر تشدد ہونے کی وجہ سے پولس نے کرفیو کا نفاذ کردیا ہے ۔اس ہنگامہ آرائی پر ریاست مہاراشٹر کے وزیر داخلہ دلیپ ولسے پاٹل نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ریاست کی عوام سے اپیل کی کہ امن برقرار رکھیں ۔قانون ہاتھ میں نہ لیں ۔موصوف نے اپوزیشن اور برسرِ اقتدار جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ریاست کے امن و امان کی برقراری کیلئے آگے آئیں ۔موصوف نے پولس انتظامیہ کو حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی طرح سے حالات کو پر امن بنانے کی کوشش کریں ۔حفظ ماتقدم کے طور پر پولس نے امراوتی میں کرفیو نافذ کردیا ہے ۔دلیپ ولسے پاٹل نے بتایا کہ مالیگاؤں ناندیڑ میں حالات بہتر ہیں ۔ان شہروں میں پولس کی بھاری جمعیت تعینات ہیں ۔شہریان امن و امان کے ساتھ اپنی روز مرہ زندگی گزار رہے ہیں ۔ریاست کی عوام کسی بھی افواہ کا شکار نہ ہو اور پولس انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں ۔اسی طرح ریاست کے وزیر اقلیتی امور نواب ملک نے مالیگاؤں ،امراوتی اور ناندیڑ کے واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ناندیڑ اور مالیگاؤں میں حالات بہتر ہیں ۔لیکن امراوتی میں آج بی جے پی کی جانب سے بند کے دوران تشدد پھوٹ پڑا ۔تشدد کے واقعات سے ہمارا ہی نقصان ہوتا ہے ۔ریاست مہاراشٹر کے امن و امان میں سدھار لانے کیلئے امراوتی کے ہندو مسلم جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھیں ۔انہوں نے وسیم رضوی کی کتاب پر حکومت ہند سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کتاب پر پابندی لگائی جائے آور فوری طور پر اسے گرفتار کیا جائے ۔نواب ملک نے مہاراشٹر کی عوام سے امن کی اپیل کی ہے ۔وہیں امراوتی تشدد پر ریاستی وزیر بچو کڑو نے بھی امن کی اپیل کی ہے ۔امراوتی تشدد پر ریاست کے اپوزیشن لیڈر و بی جے پی کے سابق وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے ریاستی سرکار کو آگاہ کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ تری پورہ کے معاملہ میں مہاراشٹر میں جلوس نکال کر احتجاج کرتے ہوئے مسلمان ہندو بھائیوں کی دکانوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں یہ مناسب نہیں ہے اس پر روک لگائی جائے ۔موصوف نے کہا کہ اگر اس واقعہ سے ماحول خراب ہوتا ہے تو اسکی ذمہ داری سرکار پر عائد ہوگی. دیوندر فرنویس نے ہندو مسلم بھائیوں سے امن کی اپیل کی ہے ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com