میڈیکل اسٹاف ، طبی لوازمات اور بیڈ کی کمی کا عذر پیش کر جنرل اسپتال انتظامیہ نے دھرنا اندولن نہ کرنے کی اپیل کی لیکن
جنرل اسپتال کا عذر ہمیں منظور نہیں ، پہلے حاملہ خواتین کیلئے ہر ممکن سہولیات کا نظم کیا جائے، ورنہ متاثرین کے ساتھ دھرنا اندولن اٹل : شیخ آصف
مالیگاؤں : 10 نومبر (پریس ریلیز) جنرل اسپتال انتظامیہ کی جانب سے موصول خط میں انکشاف ہوا ہے کہ جنرل اسپتال میں کووڈ 19 کیلئے 100 بستروں پر ڈی سی ایچ اور 20 بستروں پر مشتمل آئی سی سی ہو سینٹر کا نظم مالیگاؤں جاری ہے۔ تاہم فی الحال مالیگاؤں شہر سمیت پوری ریاست میں کورونا وبا کے واقعات بہت کم ہیں۔ اسی لیے حکومت نے کئی طرح کی کورونا شرائط کو منسوخ کر دیا ہے۔ مالیگاؤں جنرل اسپتال میں ماہر افرادی قوت اور دیگر سہولیات کی عدم دستیابی سے متعلق اسپتال انتظامیہ نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ ہمارے یہاں میڈیکل اسٹاف کی کمی ہیں ۔جو عذر جنرل اسپتال نے ہمیں پیش کیا ہے وہ کمرہ قطعی طور پر قابل قبول نہیں ہیں اور اس سے متفق نہیں ہیں۔ مہاراشٹر کی حکومت اپنے شہریوں کی صحت پر پوری توجہ دیتی ہے اور کسی بھی حالت میں اپنے شہریوں کی صحت پر سمجھوتہ نہیں کرتی ہے۔ اس لیے جنرل اسپتال کے خط میں ماہر افرادی قوت (میڈیکل اسٹاف) کی کمی اور دیگر انتظامات کے حوالے سے کیا گیا تبصرہ غلط ثابت ہو رہا ہے۔ اسطرح کا جوابی مکتوب این سی پی لیڈر آصف شیخ نے جنرل اسپتال کے موصول لیٹر کے جواب میں دیا ہے ۔شیخ آصف نے کہا کہ شہریوں کو خاص طور پر حاملہ خواتین کو مناسب طبی سہولیات فراہم کرنا جنرل اسپتال انتظامیہ کا فرض ہے، جنرل اسپتال مالیگاؤں شہر میں حاملہ خواتین کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ جنرل اسپتال کام کرنا نہیں چاہتا اور یہی وجہ ہے کہ انتظامیہ بغیر کسی وجہ کے کووڈ-19 کے لیے 100 بیڈ اور 20 بستروں پر مشتمل ICU بہانہ بتا رہے ہیں۔ جنرل اسپتال انتظامیہ اسپتال کے اوپری حصّہ میں 100 بستروں پر مشتمل NGCH اور 20 بستروں پر مشتمل Covid-19 ICU استعمال کر سکتے ہیں۔ لیکن آپ اپنے ہسپتال میں آنے والی حاملہ خواتین کے لیے طبی انتظامات میں کوئی کمی نہیں کر سکتے ہیں۔ یہ معاملہ آپکے دائرہ اختیار میں ہیں ۔اس لئے اس پر توجہ دی جائے اور اسپتال میں حاملہ خواتین کو ہر ممکن طبیعت سہولیات فراہم کی جائے ورنہ ہم آپکے جواب سے مطمئن نہیں ہیں ۔اگر ہمارے مطالبات مانے نہیں گئے تو ہمیں متاثرین کے ساتھ جنرل اسپتال کے مین گیٹ پر دھرنا دیا جائے گا ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com