مفتی اسماعیل کی پریس کانفرنس ، دو سالوں میں تین کروڑ روپے کے تعمیری کاموں کی تفصیلات اجاگر
کانگریس میئر ایک ہزار کروڑ کا حساب دے، رابطہ وزیر چھگن بھجبل اور شیخ آصف پر مفتی اسماعیل کا الزام
ایم ایل اے فنڈ کے علاوہ بھی میں تعمیری کام کرنا چاہا رہا ہوں لیکن مجھے کام کرنے نہیں دیا جارہا ہے
مالیگاؤں: 24 اکتوبر (بیباک نیوز اپڈیٹ ) ہمیں کام کرنے کا طریقہ آتا ہے اپوزیشن کا الزام بالکل بے بنیاد ہے کہ ان دو سالوں میں ایم ایل اے نے کوئی کام نہیں کیا جبکہ ہم نے پچاس لاکھ روپے کے ایم ایل اے فنڈ سے شہر کے تین مقامات پر سمینٹ روڈ کی تعمیر کی جن میں ڈاکٹر خالد کے وارڈ میں مسجد حسن سے لگ کر دس لاکھ تخمینہ سے روڈ تعمیر کیا، اور وارڈ نمبر 16 میں اعجاز بیگ کے مکان کے پاس دس لاکھ کے تخمینہ سے سمینٹ روڈ تعمیر کروائی اسی طرح اسلامپورہ میں دس لاکھ روپے کے فنڈ سے چکی والی گلی میں روڈ تعمیر کروائی۔ اس کے علاوہ 30 لاکھ روپے سے درے گاؤں عبدالمطلب پیٹرول پمپ کے پاس پاورلوم اسٹرکچر کا سرکل تعمیر کررہے ہیں۔جس کی کاغذی کارروائی مکمل ہوگئی ہے اس طرح کی معلومات ایم ایل اے مفتی محمد اسمعیل نے آج 24 اکتوبر کو اپنی دو سالہ ایم ایل اے شپ کی کارکردگی کا حساب دیتے ہوئے اردو میڈیا سینٹرمیں منعقد پریس کانفرنس میں دیا۔ موصوف نے بتایا کہ 24 اکتوبر 2019 کو اسمبلی انتخابات میں شہر کی عوام نے ایک لاکھ 17 ہزار ووٹ دے کر مجھے ایم ایل اے بنایا جو شہر کی تاریخ میں اتنی ساری ووٹ لینے کا پہلا ریکارڈ بنا۔ہم عوام کے شکر گزار ہیں۔مفتی اسمعیل نے کہا کہ ایم ایل اے بننے کے بعد دو ماہ تک سرکار نہیں بنی، اس کے بعد کورونا وبا کا دور شروع ہوگیااور تمام معاملات متاثر ہوگئے۔موصوف نے کہا کہ کورونا ایام میں مالیگاؤں کے تمام سیاسی لیڈران گھروں میں تھے اور ہم ہر کووڈ سینٹرز میں پہنچ کر عوام کی مدد کررہے تھے مفتی اسمعیل نے کہا کہ جمعیت کے بینر تلے ہم نے کورنٹائن سینٹر میں عوام کو کھانا دیا پھر اس کے بعد جمعیت کا بنایا ہوا کاڑھا تقسیم کیا اور بالاخر چند دنوں کی افراتفری کے بعد راحت نصیب ہوئی۔موصوف نے کہا کہ پوری دنیا کورونا سے متاثر تھی۔سرکار کے پاس بھی بجٹ نہی تھا سرکار نے صاف طور پر تمام ایم ایل ایز کو اپنا ایم ایل سے فنڈ کورونا سے نمٹنے کیلئے اسپتالوں میں دینے کا پابند کیا تھا۔اسلئے ہم نے پہلے مرحلہ میں 50 لاکھ اور دسرے مرحلہ میں ایک کروڑ روپیہ سول اسپتال میں ادویات کی فراہمی کیلئے دیا۔ انہوں ے کہا کہ 2020 اور 2021 کا 3 کروڑ ایم ایل اے فنڈ سے دیڑھ کروڑ سرکاری گائیڈ لائن کے حساب سے کرونا میں دیا اور بقیہ 50 لاکھ روپے کے سڑکوں کی تعمیر میں استعمال کیا گیا اور بقیہ ایک کروڑ کے کام کاغذی مراحل سے گزر رہے ہیں۔ موصوف نے کہا کہ جاری مالیاتی سال کا ام ایل اے فنڈ بھی استعمال کیا جارہا ہے اور اس کی تفصیلات بھی عوام کے سامنے پیش کی جائے گی اس کے علاوہ مہیلا بال کلیان اسپتال کی تعمیر سول اسپتال کی زمین پر کرنے کیلئے ہم نے مرکزی حکومت سے منظوری حاصل کی اور تقریبا 36 کروڑ روپے پہلے مرحلہ میں منظور کروایا اس ضمن میں موصوف نے مقامی سیا ست پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اس اسپتال کو شہر کے مغربی حصہ میں لے جانے کی کوشش کی جارہی تھی لیکن ہم نے اسے سول اسپتال کی زمین پر ہی بنانے پر زور دیا۔ مفتی محمد اسمعیل قاسمی نے کہا کہ ہم نے دو سال کے تین کروڑ ایم ایل اے فنڈ کا حساب دیا ہے اب کارپوریشن میں برسر اقتدار حکمراں جماعت اور کانگریس پارٹی کے میئر اپنا حساب دیں ۔موصوف نے تجزیہ کرتے یوئے کہا کہ بنیادی سہولیات کیلئے دو سو کروڑ سالانہ بجٹ کارپوریشن مختص کرتی ہے کارپوریشن پر حکمراں جماعت کانگریس کا پانچ سال سے اقتدار ہے۔ کانگریس نے پانچ سال میں ایک ہزار کروڑ روپے کا حساب پیش کرنا چاہیے اسی طرح میئر کے خصوصی اختیارات کے 10 کروڑ سالانہ بجٹ ہوا کرتا ہے تو انہیں ان پانچ سالوں میں 50 کروڑ بجٹ کا حساب بھی پیش کرنا ہوگا ۔ مفتی اسماعیل نے کہا عوام کے خون پسینے کی کمائی سے ادا کیا جانے والا ٹیکس کو برسراقتدار لوٹ رہا ہے۔سابق میئر شیخ رشید پر الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وارڈ 20 میں زمین پر تعمیری کام کرنے کی بجائے کاغذ پر کام بتا کر بل نکالا جارہا ہے۔اس کے علاوہ مفتی اسماعیل نے کہا کہ آگرہ روڈ کو شیواجی پتلا سے درے گاؤں تک ہاٹ مکس روڈ تعمیر کرنے اور دونوں جانب آر سی سی گٹر بنانے کی ہم نے جدوجہد شروع کی لیکن اس میں بھی کانگریس نے رخنہ اندازی کی کوشش کی۔مفتی اسمعیل نے کہا کہ اس سے قبل بھی کانگریس نے میرے تعمیری کاموں میں روکاوٹ پیدا کرتے ہوئے مجھے کام نہیں کرنے دیا ۔تین کروڑ ایم ایل اے فنڈ کے علاوہ شہر میں دیگر تعمیری کام کیوں نہیں کئے جاسکے جبکہ دھولیہ کے ایم ایل اے فاروق شاہ نے ایم ا اے فنڈ کے علاوہ خصوصی گرانٹ سے 125 کروڑ کے تعمیری کام کیسے کرلئے؟ اس سوال کے جواب میں موصوف نے گول مول جواب دے کر کہا کہ لوک مت اخبار نے دھولیہ ضلع کے تمام ایم ایل ایز کے تفصیل کو شائع کیا ہے جس میں صاف ظاہر ہوگیا کہ کس نے کتنا کام کیا ہے۔اسی طرح ناسک ضلع کے رابطہ وزیر چھگن بھجبل پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ مجھ سے ذاتی عداوت رکھتے ہی یا پھر فرقہ پرستی کی ذہنیت کارفرما ہے۔میں جب 2014 کے الیکشن میں این سی پی سے امیدوار تھا تب بھجبل نے مجھ کو کامیاب کرنے کیلئے ایک روپے کی بھی مدد نہیں بلکہ اس کے الٹ ہرانے کیلئے مخالف امیدوار کو خطیر رقم فراہم کروائی اور یہی وجہ ہے کہ سنجے گاندی نرادھار یوجنا کی کمیٹی تشکیل کرتے وقت ایم ایل اے کی سفارش کو نظر انداز کر این سی پی کے لوگوں کو عہدہ دے دیا گیا۔ایک سوال کے جواب میں مفتی محمد اسمعیل قاسمی نے شیخ آصف پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جمعہ کے جلسے می شیخ آصف کی تقریر میں تخریبی سیاست اور انتقامی کارروائی نظر آتی ہے۔ مفتی محمد اسمعیل نے کہا کہ تعلیمی ادارےپہلے شیخ آصف کے خاص تھے اب وہ دشمن نظر آرہے ہیں وہیں کوآپریٹیو سوسائٹیز اورپاورلوم صنعت کو نقصان پہنچانے کیلئے شیخ آصف انتقامی کارروائی کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر انہیں ہار برداشت نہیں ہوتی تو سیاست سے کنارہ کرلینا چاہیے۔ آج کی پریس کانفرنس میں جنتادل اور مجلس کے ذمہ داران کے نظر نا آنے کے سوال پر مفتی محمد اسمعیل نے کہا کہ ہم دوست پارٹیوں کے تشخص اور وجود کو ختم نہیں کرسکتے اسلئے انہیں اپنے اپنے پلیٹ فارم سے سیاسی سرگرمیاں کرنت کی اجازت ہے۔کارپوریشن چناو میں ہم اتحاد کے ساتھ حصہ لیں گے۔ اس پریس کانفرنس می مفتی اسمعیل کے رلاوہ حافظ عبداللہ، اطہر حسین اشرفی۔،کلیم دلاور، راشد ایوب، ساجد رشید، آمین فاروق، مزمل بفاتی، ایاز ہلچل اور حسین انصاری، رمجو ممبر، امین اللہ پیر محمد وغیرہ شامل تھے۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com