مالیگاؤں سینئر کالج کا مولانا وستانوی کے دست دعا سے پر وقار افتتاح

مالیگاؤں سینئر کالج کا مولانا وستانوی کے دست دعا سے پر وقار افتتاح 


مالیگاؤں کے تعلیمی اداروں کو ہر ممکن تعاون دینے اعظم کیمپس و انجمن اسلام تیار 



مالیگاؤں : 23 اکتوبر (بیباک نیوز اپڈیٹ )والدین میں جذبہ ہونا چاہئے کہ اسکا بچہ یا بچی کلکٹر بنے، انجینئر بنے،ڈاکٹر بنے یہاں تک یہ جذبہ ہونا چاہئے کہ اسکا بیٹا سی ایم بنے اور کیوں نا بنے، کیوں کہ یہ سب تو انسان ہی بنتے ہیں نا ۔اسطرح کا اظہار ملک کی مایا ناز شخصیت اشاعت العلوم اکل کنواں کے بانی مولانا غلام محمد وستانوی نے کیا ۔موصوف نے انجمن معین الطلباء کے زیر اہتمام مالیگاؤں سینیئر کالج آف آرٹس سائنس اینڈ کامرس کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطبہ صدارت پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج جو کچھ دنیا میں ہورہا ہے وہ انسان ہی کررہا ہے اس لئے ہمیں اچھا اور عمدہ جذبہ رکھنا چاہیے تاکہ ہم اپنے بچوں کو صحیح تعلیم دینے میں کامیاب ہوسکے ۔مولانا نے کہا کہ ہمیں  اپنے بچوں کو عصری و دینی دونوں تعلیم دینے کی ضرورت ہے ۔اپنے بچوں کو پڑھانے اور آگے بڑھانے کیلئے والدین اپنے اندر جذبہ پیدا کریں ۔دسویں سے آگے اعلیٰ تعلیم تک بچوں کو تعلیم دیں ۔موصوف نے کہا کہ ہمیں ایک جامع لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے ۔اسکولوں کے ساتھ ساتھ مدارس اور مساجد کو بھی آباد رکھنے کی ضرورت پر موصوف نے زور دیا ۔مولانا نے کہا کہ غریب بچوں کی تعلیم کا بھی نظم کرنا ضروری ہے ۔مولانا کے دست دعا سے سینئرکالج کا افتتاح عمل میں آیا ۔ایڈوکیٹ یوسف مچھالہ کے ہاتھوں سینیئر کالج کی ویب /بقیہ اندرونی صفحہ سائٹ کا افتتاح کیا گیا ۔اس موقع پر ایڈوکیٹ یوسف مچھالہ نے کہا کہ سینیئر کالج اسحاق سیٹھ کی دس سالہ کاوشوں کا نتیجہ ہے ۔موصوف نے کہا کہ ہمیں اس بات پر بھی دھیان دینا ہے کہ تعلیم سے کوئی بھی محروم نہ رہیں کیونکہ آج بھی ایک بڑی آبادی کا طبقہ تعلیمی اداروں سے باہر ہیں ۔انکا بچپن خراب ہورہا ہے انہیں اسکولوں میں لاکر تعلیم دی جائیں ۔موصوف نے کہا کہ ہمیں ایسے طلبہ تیار کرنا ہے جو پڑھ لکھ کر یونیورسٹیز پر قبضہ کریں ۔ اس موقع پر ڈاکٹر عبدالقدیر شاہین گروپ کے چیئرمن نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تہذیب کی حفاظت کرنا ضروری ہے ۔ وہی قومیں زندہ رہ جاتی ہیں جو اپنی تہذیب کی حفاظت کرتی ہیں ۔ موصوف نے ملک بھر میں شاہین گروپ کی عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ دُنیا خصوصاً میڈیکل ایجوکیشن کیلئے دئیے جانے والے NEET امتحان کی کارکردگی پیش کی ۔ اس کے علاوہ پونہ سے تشریف لائے پی اے انعامدار نے کہا کہ ہمیں احساسِ کمتری کا شکار نہیں ہونا چاہئے ، ہماری قوم کے پاس روپیہ بہت ہے لیکن ایماندار لوگ کم ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمیں غریب اور ہونہار بچوں کو بھی انگریزی پڑھانا چاہئے ۔ پی اے انعامدار نے کہا کہ مالیگائوں شہر کی تمام اسکولوں کو ڈیجیٹل اور ٹیکنیکل تعلیم دینے کے لئے ہم تیار ہیں ۔ اسی طرح موصوف نے کہا کہ تعلیمی اداروں پر اُنگلیاں اُٹھتی ہیں اور اُٹھانے والے بھی اپنے ہی لوگ ہوتے ہیں ۔ موصوف نے تجربات کی روشنی میں کہا کہ ہمارے تعلیمی ادارے پر 22 کیس درج ہیں اور تمام کے تمام مسلمانوں نے لگائے ہیں ، لہٰذا اتنے بڑے تعلیمی ادارے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جائے گی لیکن جیت ہماری ہی ہوگی ، اس لئے اسحٰق سیٹھ کو مشورہ ہے کہ وہ لڑتے رہیں لیکن آگے بڑھتے رہیں ہم آپ کے ساتھ ہیں ۔ انجمن اسلام کے چیئرمن ڈاکٹر ظہیر قاضی نے سینئرکالج کے افتتاح کے موقع پر اسحٰق سیٹھ کی تعلیمی خدمات کو سراہتے ہوئے ’’ مالیگائوں کے سر سیّد ‘‘ کا خطاب دے دیا ۔ موصوف نے کہا کہ انجمن اسلام مالیگائوں سے رابطہ بڑھا کر تعلیمی سرکل کو مزید آگے بڑھائے گا اور ہم ہر ممکن تعائون دینے کے لئے تیار ہیں ۔ اسی طرح جلگائوں سے تشریف لائے اقراء ایجوکیشن سوسائٹی کے چیئرمن عبدالکریم سالار  نے کہا کہ مسلمانوں کی پسماندگی کی ذمہ دار حکومتیں ہیں انہوں نے کہا کہ پوری ریاست میں یہ 22 ویں سینئرکالج مسلمانوں کے حصے میں آئی ، میں اسحٰق سیٹھ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ اس موقع پر اسحٰق سیٹھ نے آئے ہوئے تمام ہی مہمانان کا شکریہ ادا کیا اور سینئرکالج کی حصولیابی کیلئے کی جانے والی شب و روز کی جدوجہد کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ کے بعد ہم نے سپریم کورٹ میں بھی کامیابی حاصل کی اور آج ہم اس کالج کی افتتاحی تقریب میں شامل ہیں ۔ انجمن معین الطلباء کے سکریٹری سراج دلارنے تعارف و اغراض ومقاصد پیش کیا ۔ مہمانان کااستقبال اراکین انجمن اور سینئرکالج کے پرنسپل ضیاء الرحمٰن زری والااور محفوظ زری والانے کیا ۔ اس تقریب میں شانِ ہند کا استقبال اسحٰق سیٹھ کی اہلیہ نے کیا جبکہ ایم ایل اے مفتی محمد اسمٰعیل کا استقبال اسحٰق زر والانے کیا ۔ تقریب میں شہر و بیرونِ شہر کی تعلیمی شخصیات موجود تھیں ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے