کارپوریشن تیرہواں شاپنگ سینٹر خالی کروائے، کورٹ کا فیصلہ صادر، جنتا دل سیکولر کی پریس کانفرنس کانفرنسہم پر بدعنوانی کے الزامات لگانا فضول ، ہماری بدولت بدعنوانی پر قدغن لگا

کارپوریشن تیرہواں شاپنگ سینٹر خالی کروائے، کورٹ کا فیصلہ صادر، جنتا دل سیکولر کی پریس کانفرنس کانفرنس


ہم پر بدعنوانی کے الزامات لگانا فضول ، ہماری بدولت بدعنوانی پر قدغن لگا 



        مالیگاؤں : 27 اکتوبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) مالیگاؤں شہر میں بدعنوانی کے خلاف سڑک سے لے کر کورٹ تک لڑنے کا کام صرف اور صرف جنتادل سیکولر ہی کرتی آئی ہے۔ جنتادل کی تحریکوں کا ہی اثر ہے کہ مالیگاؤں کارپوریشن میں بدعنوانیوں پر کافی حد تک قدغن لگایا گیا ہے۔ جنتادل سیکولر کے لیڈران پر بدعنوانی کا دور تک شائبہ بھی نہیں ہے اس لئے مخالفین جنتادل سیکولر پر بے بنیاد الزام لگاتے آئے ہیں جبکہ بارہا یہ ثابت ہوا ہے کہ جنتادل سیکولر نے جس بدعنوانی کے خلاف آواز بلند کی، اسے بخوبی انجام تک پہنچایا۔اسطرح کا اظہار جنتا دل کی صدر شان ہند نے اردو میڈیا سینٹر میں منعقدہ پریسیڈنٹ کانفرنس سے کیا ۔اس موقع پر مستقیم ڈگنیٹی نے بتایا کہ        بدعنوانی کے ایک بڑے معاملے کے طور پر اسکول نمبر ایک کے تیرہویں گالے کا معاملہ جنتادل سیکولر ہی نے اٹھایا جو شہر بھر میں موضوع بحث رہا۔ ساتھی بلند اقبال سے لے کر پارٹی سیکریٹری تک نے اس بدعنوانی کے خلاف عوامی تحریک سے عدالت تک کی لڑائی لڑی۔اس معاملے میں بھی جنتادل سیکولر کے لیڈروں اور ورکروں پر بے بنیاد الزام لگائے گئے مگر معاملہ کورٹ میں ہونے کی وجہ سے طویل ہوتا گیا جس کا فیصلہ پچھلے دنوں صادر کیا گیا کہ تمام قانونی نکات پورے کرتے ہوئے تیرہواں گالہ خالی کیا جائے۔ اس معاملے میں 20 اکتوبر کو کارپوریشن کے سرکاری وکیل نے میونسپل کمشنر کو ایک خط لکھا، جس میں انہوں نے کارپوریشن کو متنبہ کیا ہے کہ کسی بھی ملکیت کو خالی کروانے کیلئے کارپوریشن کے متعلقہ افسران قانونی پروسیجر کو فالو نہیں کرتے جس کی بنیاد پر غیر قانونی قبضہ دار کورٹ سے اسٹے حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ یہ کامیابی بھی جنتادل سیکولر کی بڑی عوامی جیت ہے۔  بلند اقبال ،شانِ ہند اور مستقیم ڈِگنیٹی سمیت پارٹی ورکروں کا ہی دباؤ رہا ہے کہ پچھلے چار سالوں میں برسر اقتدار پارٹی ایک بھی غیر قانونی شاپنگ گالہ فروخت کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔مستقیم ڈگنیٹی نے مزید کہا کہ اسی عرصے میں نمیرہ ہائیٹس سے متصل تیرہ غیر قانونی شاپنگ گالے سمیت شہر کے کئی علاقوں میں شاپنگ گالے جنتادل کے دباؤ میں توڑے گئے۔
      موصوف نے بتایا کہ اسی طرح عائشہ نگر سوئیپر کالونی کو توڑ کر وہاں برسراقتدار کانگریس روپئے کمانے کیلئے بی او ٹی طرز پر دینے کی راہ پر تھے۔جس کے خلاف جنتادل سیکولر نے سوئیپر کالونی کے مکینوں کے ساتھ تحریک کے ساتھ ساتھ کورٹ کا بھی رُخ کیا۔ عائشہ نگر سوئیپر کالونی کو خستہ حال ظاہر کرکے وہاں کے مکینوں کو بے گھر کرنے کے خلاف جاری اس لڑائی میں بھی جنتادل سیکولر کی جیت ہوئی اور کورٹ نے سوئیپر کالونی کے مکینوں کے حق میں اسٹے آرڈر جاری کیا۔ اس معاملے میں جنتادل سیکولر کا واضح موقف ہے کہ سوئیپر کالونی کو ریپئر کیا جائے اور وہاں رہنے والوں کا مالکانہ حق برقرار رکھا جائے کیوں کہ برسراقتدار کی منشاء اس معاملے میں خراب ہے.
           اس پریس کانفرنس میں شان ہند نے کہا کہ مالیگاؤں کارپوریشن کی اسٹینڈنگ کمیٹی میں سابقہ سالوں میں یہ روایت بن گئی تھی کہ یہاں پیش ہونے والی کسی بھی تجویز کی مخالفت نہیں کی جاتی تھی اور نہ ہی اسٹینڈنگ کمیٹی کے موضوعات شہریان کے روبرو آتے تھے مگر جب مستقیم ڈِگنیٹی رکن اسٹینڈنگ کمیٹی نامزد ہوئے تو یہاں بھی موصوف نے عوامی مفاد کے خلاف پیش ہونے والی تجاویز پر ببانگِ دہل نمائندگی کی. جیسا کہ اس سے پہلے بھی کہا گیا کہ شہر کے لیڈران اب کچرے میں پیسہ کمانے کی ترکیب نکالنے لگے ہیں. اسٹینڈنگ کمیٹی میں بائیو مائننگ کے نام پر پندرہ کروڑ روپیوں کا ٹھیکہ نکالا گیا جس کی مستقیم ڈِگنیٹی نے نہ صرف پُر زور مخالفت کی بلکہ اس کے خلاف ہائی کورٹ کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا. اس معاملے میں بھی جنتادل کو بڑی کامیابی ملی ہے. کورٹ کی لتاڑ کے ڈر سے خود اسٹینڈنگ کمیٹی میں مستقیم ڈِگنیٹی کی سوچنا نمبر 500 پر مذکورہ ٹھیکہ رَدّ کرنے کی تجویز پاس کی گئی اور کارپوریشن بھی ہائی کورٹ میں حلف نامہ داخل کرنے والی ہے کہ وہ بائیو مائننگ ٹھیکہ رَدّ کرنے جا رہی ہے. جنتادل سیکولر کے اس قدم کی وجہ سے عوامی خزانے کے 15 کروڑ روپئے بچائے گئے.
            ماضی قریب میں گرنا پمپنگ اسٹیشن کے چار پمپ کی ریپئرنگ کیلئے بھی برسراقتدار نے تین کروڑ روپئے کا ٹینڈر نکالا تھا جس کا صاف مقصد تھا کہ اپنی تجوریاں بھری جائیں۔ جنتادل سیکولر نے اس کے خلاف بھی سخت اقدام اٹھائے۔ عوام کے سامنے سچائی بتائی گئی کہ جتنا پیسہ چار پمپ کی ریپئرنگ میں لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اس سے کم پیسے یعنی دو کروڑ میں چار نئے پمپ خریدے جا سکتے ہیں. جنتادل سیکولر کے عوامی دباؤ کا نتیجہ ہے کہ پمپ ریپئرنگ کا ٹینڈر واپس لے لیا گیا ہے اور نئے پمپ کیلئے کوٹیشن منگوایا گیا ہے. یہ بھی بدعنوانی کے خلاف جنتادل سیکولر کی ایک بڑی جیت ہے جس میں عوامی خزانے کو بچانے کا کام کیا گیا ہے.
      مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ تفصیلات بتانے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جنتادل سیکولر بدعنوانی کے خلاف کوئی لڑائی لڑتی ہے تو اس میں نتیجے تک پہنچتی ہے اور عوامی خزانے کی حفاظت کی جاتی ہے. آگرہ روڑ پر آٹھ کروڑ کی جالی کے معاملے میں جنتادل سیکولر کی تحریک کے نتیجے میں بدعنوان ٹھیکیدار کا ساڑھے چار کروڑ کا بل روک دیا گیا. حج ٹریننگ سینٹر اور اردو میڈیا سینٹر کے ٹھیکیداروں کا بل بھی روکا گیا. طاہرہ شیخ رشید کے اسٹینڈنگ کمیٹی چیئرمین رہتے کارپوریشن کی 70 سے زائد اوپن اسپیس پر ریلائنس موبائل کے ٹاور برائے نام کرایے پر دینے کی جو تجویز پاس کی گئی اس کے خلاف بھی جنتادل سیکولر نے کامیابی حاصل کی اور آج تک ریلائنس کو کارپوریشن اوپن اسپیس نہیں دی جا سکی. یہ بھی عوامی خزانے (بشکلِ اوپن اسپیس) کی حفاظت ہی ہے.
       بدعنوانی کے خلاف جنتادل سیکولر کے علاوہ اس شہر میں کبھی کسی سیاسی پارٹی نے لڑائی نہیں لڑی. مالیگاؤں کارپوریشن کے عوامی خزانے کی سب سے زیادہ حفاظت جنتادل سیکولر نے ہی کی. ہمارا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اگر کسی سیاسی جماعت یا تنظیم نے ایماندارانہ طریقے سے بدعنوانی کے خلاف اقدام اٹھائے ہوں اور اس میں کامیابی حاصل کی ہو تو وہ کاغذی ثبوت کے ساتھ عوامی عدالت میں پیش کرے۔اسطرح کی پریس ریلیز جنتادل سیکولر، مالیگاؤں نے میڈیا نمائندوں کو پریس کانفرنس میں پیش کی ۔اس پریس کانفرنس میں جنتا شان ہند نہال احمد ،مستقیم ڈِگنیٹی،ایڈوکیٹ خلیل احمد انصاری، عبدالرشید سیٹھ ایولے والے، پروفیسر رضوان خان ، کلیم احمد بھیا لال شاہ، ناصر خان کرانہ والے، منصور شبیر احمد، عبدالباقی راشن والے، شیخ زاہد شیخ زاکر جمن، محمد رمضان رمضو ممبر، سید سلیم گیرج والے، تنویر زوالفقار، مسیح اللہ بیسٹ، یحییٰ عبدالجبار، خورشید کابل، عارف حسین پاپا، سہیل احمد عبدالکریم، افتخار راشن والے، شیخ جاوید شیخ انیس، شیخ انیس مستری، توحید انصاری، شیخ شاہد بھیکن، محمد واںٔرمین،ابوشعیب نہالی،ساجد بابو لعل، ابواللیث انصاری، سید لعل لالو بھائی، ہارون ڈراںٔیور، شیخ ماجد وغیرہ شریک تھے ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے