مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی شیخ رشید کے استعفیٰ پر سنجیدگی سے غور کر کوئی فیصلہ کریں ، مالیگاؤں میں کانگریس ہمدردوں میں کشمکش کا ماحول
کانگریس ترجمان صابر گوہر بھی کانگریس صدارت کے دعویدار لیکن ۔۔۔۔۔۔۔
شیخ رشید کا استعفیٰ واپس لینے کو ترجیح
مالیگاؤں : 27 اکتوبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) مالیگاؤں شہر (ضلع) کانگریس کے صدر شیخ رشید شیخ شفیع کی غلط فہمی دور کر کے پارٹی کو مضبوط کرنے کی راہ نکالیں، بصورت دیگر صدر کے عہدے کے لیے درخواست گزاروں کےامیدواروں پر غور کیا جائے۔اسطرح کا ایک مکتوب نانا پٹولے مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کےریاستی صدر کو ممبئی کے ریاستی دفتر کاکا صاحب گاڈگل مارگ، تلک بھون،
دادر میں مالیگاؤں کانگریس پارٹی کے سیکرٹری و ترجمان صابر گوہر نے روانہ کیا ہے ۔ موصوف نے اپنے مکتوب میں لکھا ہے کہ مالیگاؤں شہر (ضلع) کانگریس صدر شیخ رشید شیخ شفیع سے کانگریس پارٹی کے وفادار کارکن ہیں اور 1985 سے 2002 تک کانگریس پارٹی کے تین بار کارپوریٹر رہے ہیں۔ وہ 1994 سے 1996 تک اس وقت کے مالیگاؤں میونسپلٹی کے 'صدر بلدیہ' بھی رہے۔ ستمبر 1999 سے 2009 تک وہ مالیگاؤں اسمبلی حلقہ کے دو بار ایم ایل اے (ممبر قانون ساز اسمبلی) کی حیثیت سے قیادت کر چکے ہیں اور مہاراشٹر پاورلوم کارپوریشن کے چیئرمین (وز یر مملکت) کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
شیخ رشید کی قیادت میں ان کے بیٹے آصف شیخ رشید فروری 2005 سے جون 2007 تک مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے "میئر" بنے، جس کے بعد وہ 2014-2019 میں مالیگاؤں (سینٹرل ) اسمبلی حلقہ سے ایم ایل اے رہے۔
شیخ رشید کی اہلیہ محترمہ طاہرہ شیخ رشید جون 2012 سے دسمبر 2014 تک اور دسمبر 2019 سے اب تک دو بار کونسلر اور میئر رہ چکی ہیں۔ کانگریس صدر شیخ رشید خود 2017 سے دوبارہ کارپوریٹر اور میئر بن چکے ہیں۔
1985 سے آج تک شیخ رشید کانگریس پارٹی کے وفادار رہے اور پارٹی کی مضبوطی کے لیے انتھک محنت کی اور کارکنوں کے ساتھ مل کر اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔
لیکن 13 اکتوبر کو انہوں نے پارٹی کے سینئر رہنماؤں سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اس بات سے انکار نہیں کہ شیخ رشید کا استعفیٰ مالیگاؤں کی سیاست اور کانگریس پارٹی میں ہلچل کا باعث بنے گا۔
صابر گوہر نے مزید لکھا ہے کہ میں محمد صابر محمد صادق گوہر کانگریس پارٹی کا ایک نوجوان اور عام کارکن ہونےکیساتھ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ جناب شیخ رشید نے پارٹی کی تعمیر کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ انہوں نے کانگریس کارکنوں کو اتحاد کے ساتھ سنبھالا اور مالیگاؤں اور ملحقہ علاقوں میں بغیر کسی گروپ بندی کے کانگریس پارٹی کو مضبوط کیا۔ آج تک انہوں نے کانگریس پارٹی کے سینئر لیڈروں کے حکم پر عمل کیا ہے۔ انہوں نے استعفیٰ کیوں دیا اور کس بات پر ناراض ہیں اس پر ہمدردانہ غور و فکر کے ساتھ درست فیصلہ کیا جانا چاہئے۔ کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے، پارٹی کے مبصرین کو احتیاطی اقدام کے طور پر مالیگاؤں بھیجنا چاہیے اور مالیگاؤں شہر کی سیاست، سیاسی درجہ حرارت کے ساتھ ساتھ کانگریس کارکنوں کی مرضی کو جاننا چاہیے۔
اس کے علاوہ، اگر کانگریس صدر جناب شیخ رشید اپنا استعفیٰ واپس نہیں لیتے ہیں یا اگر مہاراشٹر پردیش کانگریس استعفیٰ منظور کرنے کی تیاری ظاہر کرتی ہے، تو ایک عام اور وفادار کارکن کی حیثیت سے میں محمد صابر گوہر آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ جو لوگ کانگریس سے پاک (مکت) مالیگاﺅں ہونے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ ان کے خواب چکنا چور ہو گئے ، میں ان کارکنوں کی مدد سے کانگریس پارٹی کو مضبوط کرنے کے لیے تیار ہوں جو ہمیشہ پارٹی کے لیے اپنا وقت دیتے ہیں۔ کیونکہ میں 25 سال سے زیادہ عرصے سے کانگریس پارٹی کے وفادار کارکن کے طور پر سرگرم عمل رہا ہوں۔ صابر گوہر نے لکھا ہے کہ میں نے 1997 - 2004 مالیگاؤں یوتھ کانگریس کے تقریباً 8 سال صدر اور 2004 سے آج تک کانگریس پارٹی کے جنرل سکریٹری اور مقامی ترجمان کے علاوہ انڈین نیشنل کانگریس کے قومی صدر سیتارام کیسری، اس وقت کی محترمہ سونیا جی گاندھی اور راہول جی گاندھی، ریاستی صدر جناب رنجیت دیشمکھ، گووند راؤ جی ادک، شریمتی پربھا راؤ، مانیکاراوجی ٹھاکرے، اشوکراوجی چوان اور ریاستی یوتھ صدر انیس احمد، سید مظفر حسین اور جناب شرد آہر کی قیادت میں اور تمام سینئرز کے حکم پر عمل کرتے ہوئے ہر تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
1999 میں جب شرد پوار نے محترمہ سونیا گاندھی پر اعتراض کیا اور غیر ملکی نژاد کا مسئلہ اٹھایا تو میں نے سب سے پہلے مالیگاؤں یوتھ کانگریس کی جانب سے 29 مئی 1999 کو ایک سائیکل ریلی نکالی اور محترمہ سونیا گاندھی کی حمایت کا اظہار کیا۔ ایک کارکن کے طور پر میں نے پارٹی کیلئے فعال خدمات پیش کی ہیں ۔
اس ضمن میں صابر گوہر نے گذارش کرتے ہوئےکہا کہ مذکورہ بالا معاملہ میں ارسال کردہ مکتوب پر ہمدردی سے غور کرتے ہوئے ٹھوس فیصلہ کریں۔
واضح رہے کہ انہوں نے اپنی صدارت کے مطالبہ پر شیخ رشید کا استعفیٰ منظور نہ کرنے کو ترجیح دی ہے۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com