*یوگی حکومت برخاست کر صدر راج نافذ کیا جائے ، بابری مسجد اراضی کی نگرانی سپریم کورٹ فوج سے کرے*
*بابری مسجد۔ رام جنم بھومی تنازعہ پر حالات خراب کرنے والے وزراء کی رکنیت باطل کر توہین عدالت کا مقدمہ درج کیا جائے*
مالیگاؤں (زاہد بیباک ) ایودھیا میں بابری مسجد تھی، بابری مسجد ہے اور بابری مسجد تا قیامت رہیگی اس لئے کہ مساجد تا قیامت مساجد ہی ہوتیں ہیں مساجد اللہ کی ملکیت ہوتی ہے یہ کسی انسان یا اقوام کی نہیں ہوتی اسطرح کا اظہار آج مالیگاؤں میں منعقدہ ایودھیا کانفرنس سے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سیکرٹری مولانا عمرین رحمانی نے کیا موصوف نے کہا کہ بابری مسجد۔رام جنم بھومی تنازعہ پر ملک میں حالات جان بوجھ کر پراگندہ کرنے کی ایکس سوچی سمجھی سازش ہے یہ منظم و منصوبہ بند پروگرام ہے فرقہ پرست عناصر بابری مسجد معاملہ میں جملوں کی دہشت گردی کررہے ہیں آئین کا مذاق اڑایا جارہا ہے حکومتوں میں شامل وزراء کے بے تکے و اشتعال انگیز بیانات کے خلاف مسلمانوں کے ساتھ ہندو بھائیوں کو بھی آواز بلند کرنا چاہئے کیونکہ یہ ملک کی سالمیت کام معاملہ ہے مولانا عمرین نے کہا کہ بابری مسجد کا معاملہ آستھا و عقیدت کی بنیاد پر نہیں بلکہ کاغذی ثبوت اور ملکیت پر ہونا چاہئے انہوں نے ملک کے مسلمانوں سے اپیل کی ہے غیر ضروری بیان سے پرہیز کریں صبر اور حکمت سے کام لیں، مسمان مسلم پرسنل لاء بورڈ پر مکمل یقین رکھیں بورڈ کورٹ میں مضبوطی سے لڑائی لڑ رہا ہے انہوں نے کہا کہ بورڈ نے کہا کہ ہم زندگی کی آخری سانس تک لڑائی لڑینگے بابری مسجد سے دستبردار نہیں ہونگے اسکے علاوہ انسانیت بچاؤ سنگھرش سمیتی کے صدر و ایودھیا کانفرنس کے کنوینر رکن اسمبلی آصف شیخ نے کہا کہ ملک میں 1992 جیسے حالات بنائے جارہے ہیں ملک کے مسلمانوں کو ہوش سے کام لینے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ مرکزی وزراء و ریاستی وزراء اقتدار حاصل کرتے وقت قسم کھاتے ہیں کہ ہم بھارت کے آئین کو مانتے ہوئے سب کو ساتھ لیکر حکومت کرینگے سب کے ساتھ انصاف کرینگے لیکن وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ، مرکزی وزیر گری راج کشور، اوما بھارتی جیسے وزراء قانون و سپریم کورٹ کی دھجیاں اڑا رہے ہیں سپریم کورٹ پر دباؤ بنا رہے ہیں ملک بھر میں خوف کا ماحول بنا رہے ہیں ایسے میں مسلمان حکمت عملی کام لیں انہوں نے تجویز پیش کی کہ صدر جمہوریہ ہند رام ناتھ کوند کو ایک محضر نامہ دیا جائے کہ ایسے وزراء جو سپریم کورٹ کے خلاف بیان بازی کررہے ہیں انہیں معطل کردیا جائے اور یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ کی حکومت کو برخاست کر صدر راج نافذ کیا جائے اسی طرح ایک میمورنڈم سپریم کورٹ کے معزز جج کو آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ایڈووکیٹ ظفر یاب جیلانی کے ذریعے ایک قانونی تحریر پیش کی جائے کہ کورٹ کی توہین کرنے والے وزراء پر توہین عدالت کا مقدمہ درج کیا جائے وہیں ایودھیا میں بابری مسجد کی مکمل اراضی کو سپریم کورٹ کی نگرانی میں فوج کے حوالے کیا جائے تاکہ کوئی بھی شخص یہاں نہ جانے پائے اس ایودھیا کانفرنس میں ایڈووکیٹ نہال انصاری، ایوب قاسمی، شفیق رانا، سلیم منا، کانفرنس کے صدر عبدل مجید صدیقی، سمیت اللہ انصاری، ساجد بیسٹ، قاری مختار، ہدایت وکیل، شیدا میرٹھی سمیت سرکردہ مذہبی و ملی شخصیات نے تجویز پیش کی اس کانفرنس میں شکیل فیضی، ڈاکٹر افتخار، غفران انصاری سر، عبدالخالق فارقلیط، آصف علی ڈرائیور عبدالحمید جمالی وغیرہ سمیت سینکڑوں افراد شریک رہے
پیش کی گئی تجاویز
* صدر جمہوریہ ہند کو میمورنڈم دیا جائے کہ وہ یوگی حکومت برخاست کریں مرکزی و ریاستی وزراء کی رکنیت باطل کرے
*سپریم کورٹ اپنی نگرانی میں بابری مسجد قطعہ اراضی پر فوج کی پہرے داری لگائے، غلط بیانی و قانون کے خلاف آواز بلند کرنے والوں پر توہین عدالت کا مقدمہ درج کرے
*ظفر یاب جیلانی سے انسانیت بچاؤ سنگھرش سمیتی کا وفد ملاقات کرتے ہوئے قانونی مدد میں معاون بنے
*رجسٹرڈ اداروں کے لیٹر پیڈ پر صدر جمہوریہ مکتوب روانہ کیا جائے کہ ملک میں بابری مسجد ۔رام جنم بھومی تنازعہ پر حالات خراب کرنے والے وزراء کی رکنیت باطل اور یوگی سرکار کو برخاست کردیا جائے
*اقوام متحدہ کو ایک لیٹر دیا جائے گا کہ بھارت میں چل رہے بابری مسجد معاملہ پر نظر رکھیں اور مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی نہ ہونے پائے



0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com