مالیگاؤں:بوگس ٹیچر بھرتی معاملہ میں سابق ڈپٹی ڈائریکٹر آف ایجوکیشن نتن اپاسنی گرفتار، سنیچر کو مالیگاؤں کورٹ میں ہوگی پیشی
مالیگاؤں : 30 اکتوبر (بیباک نیوز اپڈیٹ)مالیگاؤں سمیت مہاراشٹر بھر میں سرخیوں میں رہنے والے شالارتھ آئی ڈی گھوٹالہ معاملے میں پولیس کارروائیوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔اس مبینہ گھوٹالے کی تحقیقات کے دوران ہر روز نئے انکشافات سامنے آرہے ہیں۔ ایک جانب جہاں خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) اور اکنامک آفینس ونگ (EOW) مختلف زاویوں سے تحقیقات میں مصروف ہیں، وہیں دوسری جانب مقامی پولیس اسٹیشنوں میں درج مقدمات کی بنیاد پر بھی مشتبہ ملزمین کے خلاف کارروائی تیز کردی گئی ہے۔
اسی سلسلے میں ناسک ضلع کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر آف ایجوکیشن نتن اپاسنی کو چھاؤنی پولیس اسٹیشن نے گرفتار کرلیا ہے۔ موصولہ تفصیلات کے مطابق یہ کارروائی مالیگاؤں کے تعلیمی ادارے مہاتما پھولے ایجوکیشن انسٹی ٹیوٹ، سنگمیشور کے زیر انتظام چلنے والے ساوتری بائی پھولے پرائمری اسکول میں مبینہ بوگس اساتذہ کی بھرتی کے معاملے میں کی گئی ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ اس معاملے میں نتن اپاسنی پر اسکول کی ملازمہ سوورنا دلیپ اہیرے کی مبینہ جعلی اسکول آئی ڈی تیار کرکے فراہم کرنے کا الزام ہے۔ اس سلسلے میں چھاؤنی پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس کا کرائم نمبر 21/2026 بتایا جارہا ہے۔ اسی مقدمے کی تحقیقات کے دوران پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ نتن اپاسنی کو آج گرفتار کرلیا۔خیال رہے کہ نتن اپاسنی پہلے سے ناسک سینٹرل جیل میں قید ہیں ۔انہیں آج چھاؤنی پولس نے اپنے تابع میں لیا ہے تاکہ مزید جانچ پڑتال کی جاسکے ۔
ذرائع کے مطابق گرفتار سابق ایجوکیشن افسر کو کل مالیگاؤں کی عدالت میں پیش کیا جائے گا، جہاں پولیس ان کی تحویل حاصل کرنے کی درخواست کرسکتی ہے۔ اس پیشی کے دوران یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ تفتیش میں کون سے نئے حقائق سامنے آتے ہیں اور مبینہ جعلی آئی ڈی کی تیاری و منظوری کے معاملے میں مزید کن افراد کے نام سامنے آتے ہیں۔
واضح رہے کہ شالارتھ آئی ڈی گھوٹالہ صرف مالیگاؤں تک محدود نہیں بلکہ مہاراشٹر کے مختلف اضلاع میں اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ تعلیمی نظام میں مبینہ فرضی تقرریوں، جعلی دستاویزات اور شالارتھ آئی ڈی کے ذریعے سرکاری تنخواہوں کے حصول جیسے الزامات نے محکمہ تعلیم کی کارکردگی اور نگرانی کے نظام پر بھی کئی سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ نتن اپاسنی کی گرفتاری کو اسی سلسلے کی ایک اہم کارروائی قرار دیا جارہا ہے۔ اب عوامی و تعلیمی حلقوں کی نظریں کل ہونے والی عدالتی پیشی اور پولیس تفتیش کے اگلے مراحل پر مرکوز ہیں۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com