بریکنگ نیوز:غزالہ پروین کی دو سال بعد ممبئی ہائی کورٹ سے ضمانت منظور، لیکن فی الحال رہائی ممکن نہیں



بریکنگ نیوز:غزالہ پروین کی دو سال بعد ممبئی ہائی کورٹ سے ضمانت منظور، لیکن فی الحال رہائی ممکن نہیں 


غزالہ کے وکیل کی کامیاب پیروری، آصف شیخ و مستقیم ڈگنیٹی بھی کورٹ میں موجود رہے 


مالیگاؤں : 27 اکتوبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) جنم و اموات  معاملے میں ممبئی ہائی کورٹ نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے ملزمہ نمبر 21 غزالہ پروین اقبال احمد کی ضمانت منظور کرلی ہے۔ جسٹس ملند این۔ جادھو کی عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد 25 ہزار روپے کے مچلکے اور ضمانت کی شرائط پر ان کی رہائی کا حکم دیا۔ چھاؤنی پولیس اسٹیشن میں درج سی آر نمبر 51/2025 کے معاملے میں غزالہ پروین کی ضمانت کو سرکاری ملازمین کے زمرے میں پہلی اہم کامیابی قرار دیا جارہا ہے۔عدالت میں ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران ملزمہ کی طویل عدالتی حراست، خاندانی ذمہ داریوں اور مقدمے کی نوعیت کو اہمیت دی گئی۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق، غزالہ پروین کو 22 مارچ 2025 کو گرفتار کیا گیا تھا اور وہ ناشلسک سینٹرل جیل میں قید ہیں۔ ان کے دو کم سن بچے ہیں، جن کی دیکھ بھال کے حوالے سے مشکلات کا معاملہ بھی عدالت کے سامنے رکھا گیا، جبکہ ان کے ضعیف والدین کی علالت کا ذکر بھی کیا گیا۔ غزالہ پروین پر ڈپٹی رجسٹرار کے دستخطوں کی مبینہ جعل سازی کا الزام ہے۔ عدالت میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ ہینڈ رائٹنگ ماہر کی رائے حاصل کرنے کے لیے پولس نے چار دیگر ملزمان کے نمونے لیے تھے، تاہم درخواست گزار کے نمونوں سے متعلق کارروائی کے فقدان کی نشاندہی کی گئی۔ عدالت نے ضمانت کی درخواست پر غور کرتے ہوئے مقدمے کے ان پہلوؤں سمیت دیگر متعلقہ امور کا جائزہ لیا۔


اس معاملے میں اس سے قبل سات دیگر ملزمان کو ضمانت مل چکی ہے۔ تاہم، اب تک ضمانت حاصل کرنے والوں میں ایجنٹوں یا رشتہ داروں کا نام سامنے آیا تھا، جبکہ سرکاری ملازمین میں غزالہ پروین کو ضمانت ملنا ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔عدالت نے ضمانت کے قانونی اصولوں پر غور کرتے ہوئے اس بات کو اہمیت دی کہ زیرِ سماعت مقدمے میں کسی شخص کو غیر معینہ مدت تک جیل میں رکھنا اس کے آئینی حقوق سے متعلق سوالات پیدا کرسکتا ہے۔ آئین ہند کے آرٹیکل 21 کے تحت زندگی اور شخصی آزادی کے تحفظ کو اہمیت حاصل ہے۔ عدالت نے اسی قانونی تناظر میں ملزمہ کی ضمانت منظور کرنے کا فیصلہ کیا۔ممبئی ہائی کورٹ نے غزالہ پروین کو 25 ہزار روپے کے ذاتی مچلکے اور اتنی ہی مالیت کی ایک یا دو ضمانتیں پیش کرنے کی شرط پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے ہدایت دی ہے کہ وہ تفتیشی افسر کو اپنے موجودہ پتے اور موبائل نمبر سے باخبر رکھیں گی، طلب کیے جانے پر تفتیشی افسر کے سامنے حاضر ہوں گی اور ہر ماہ کے پہلے منگل کو ٹرائل کورٹ میں اپنی حاضری درج کروائیں گی۔ اس کے علاوہ عدالت کی پیشگی اجازت کے بغیر ریاست مہاراشٹر سے باہر جانے اور گواہوں یا شواہد پر اثرانداز ہونے سے بھی انہیں منع کیا گیا ہے۔غزالہ کو ممبئی ہائی کورٹ سے ضمانت تو مل گئی لیکن انکی رہائی فی الحال نہیں ہوسکتی کیونکہ ان پر اسی ضمن میں ایک اور مقدمہ درج ہے جس کی ضمانت کیلئے مالیگاؤں کورٹ میں عرضداشت دائر کی گئی ہے اب اس پر سماعت کے بعد فیصلہ ہوگا اور غزالہ کو یہاں ضمانت ملتی ہے تو انکی رہائی ممکن ہوسکے گی ۔


غزالہ پروین کی ضمانت کے معاملے میں ان کے اہل خانہ کی مسلسل کوششوں کے ساتھ مائنارٹی ڈیفنس کمیٹی کی رہنمائی اور تعاون بھی شامل ہے۔ کمیٹی کے ذمہ داران آصف شیخ اور مستقیم ڈیگنیٹی سمیت مقامی وکلاء نے اول اول قانونی معاونت فراہم کی لیکن ممبئی ہائی کورٹ میں غزالہ کے وکیل راجو نے کامیاب پیروی کی۔ضمانت کا فیصلہ سنائے جانے کے وقت مائنارٹی ڈیفنس کمیٹی کے آصف شیخ اور مستقیم ڈیگنیٹی بھی عدالت میں موجود تھے۔

اس معاملے میں غزالہ پروین کی جانب سے سینئر وکیل راجو چوہان نے پیروی کی۔ ضمانت منظور ہونے کے بعد اہل خانہ اور کمیٹی کے ذمہ داران کی جانب سے اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ اس ضمن میں حاصل تفصیلات کے مطابق، مقدمے میں نامزد تواب شیخ سمیت دیگر سرکاری ملازمین کی ضمانت اور آئندہ قانونی حکمت عملی پر غور کرنے کے لیے ایڈوکیٹ راجو اور مائنارٹی ڈیفنس کمیٹی کے ذمہ داران کے درمیان ایک اہم میٹنگ طے کی گئی ہے۔ اس میٹنگ میں بقیہ ملزمان کے قانونی معاملات اور آئندہ کی کارروائی پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔غزالہ پروین کی ضمانت کو اس معاملے میں ایک اہم قانونی پیش رفت قرار دیا جارہا ہے، جبکہ دیگر ملزمان کی ضمانت سے متعلق آئندہ کارروائی پر بھی نگاہیں مرکوز ہیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے