مالیگاؤں:پھر آیا سامنے زمین کا تنازعہ!رضوان پارک کے ڈیڑھ سو سے زائد پلاٹ مالکان پریشان
تین ایکڑ زمین پر ساہوکار کا دعویٰ،کروڑوں روپے کے لین دین پر سوالیہ نشان
اپنی حلال کمائی سے خریدے گئے پلاٹ بچانے کیلئے دربدر بھٹک رہے ہیں متاثرین
مالیگاؤں : 16 اکتوبر (بیباک نیوز اپڈیٹ)مالیگاؤں شہر میں زمین کی خرید و فروخت کے معاملے میں ایک بار پھر کروڑوں روپے کے مبینہ لین دین اور افر تفری کی گونج سنائی دینے لگی ہے۔ رضوان پارک، گٹ نمبر 217/1 اور 217/2 میں پلاٹ خریدنے والے ڈیڑھ سو سے زائد افراد اپنے مستقبل اور اپنی زمین کو لے کر شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔معاملے میں تقریباً تین ایکڑ زمین پر ایک ساہوکار کی جانب سے دعویٰ کیے جانے کی اطلاعات کے بعد پلاٹ مالکان میں بے چینی اور افرا تفری کا ماحول پیدا ہوگیا ہے۔موصولہ اطلاعات کے مطابق رضوان پارک کے گٹ نمبر 217/1 اور 217/2 میں سال 2019 سے قسطوں کے ذریعے پلاٹوں کی خرید و فروخت کا سلسلہ جاری تھا۔اس طرح کی تفصیلات پلاٹ ہولڈرس کی جانب سے دی گئی ۔انکی جانب سے بتایا جاتا ہے کہ پلاٹ خریداروں نے گٹ مالک رضوان آر کے سے تقریباً ساڑھے تین لاکھ روپے فی پلاٹ کے حساب سے زمین خریدی اور اپنی رقم قسط وار ادا کی۔ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ خریداروں سے مکمل رقم وصول ہونے کے بعد تقریباً چھ ایکڑ زمین کا نقشہ تیار کرکے پلاٹوں کی فروخت کے ذریعے کروڑوں روپے جمع کیے گئے۔
اس معاملے میں سب سے تشویش ناک پہلو پلاٹوں کی خرید و فروخت کے دستاویزی ریکارڈ سے متعلق سامنے آرہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، بعض خریداروں کو زمین کی خریدی کے دستاویزات فراہم کیے گئے، جبکہ کئی افراد کو ایک ہی پلاٹ کے لیے دو مرتبہ خریدی دیے جانے اور بعض خریداروں کو ایک ہی پلاٹ کی دو نوٹری ملنے کی شکایات ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد افراد ایسے بھی بتائے جاتے ہیں جنہیں رقم کی مکمل ادائیگی کے باوجود اب تک خریدی کے کاغذات اور متعلقہ دستاویزات فراہم نہیں کیے گئے۔ ان شکایات نے زمین کے لین دین کی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کردیے ہیں۔اب اس معاملے میں ایک نیا موڑ سامنے آنے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق، قرض یا مبینہ سودی لین دین کے تحت حاصل کی گئی رقم کی ادائیگی نہ ہونے کے باعث تقریباً تین ایکڑ زمین ایک ساہوکار کو مبینہ طور پر ’’ریٹرن سودے‘‘ کے نام پر دے دی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ وہی زمین ہے جسے قسطوں پر پلاٹ خریدنے والے عام شہریوں کے حوالے کیا جانا تھا۔ اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو قرض اور مالی لین دین کے تنازعے کا خمیازہ ان عام خریداروں کو بھگتنا پڑ رہا ہے، جنہوں نے اپنی محنت کی کمائی سے پلاٹ خریدے تھے۔اس تعلق سے آج جمعہ کو رضوان پارک میں عوام کی کثیر تعداد موجود تھیں جو پریشان حال نظر آئی، پلاٹ خریدنے والے افراد اب اپنی زمین کی نشاندہی اور قبضے کے لیے پریشان ہیں۔ بعض خریدار اپنے پلاٹوں پر وال کمپاؤنڈ تعمیر کرنے کی کوشش کررہے ہیں، لیکن دوسری جانب ساہوکار کی جانب سے تقریباً تین ایکڑ زمین پر دعویٰ کیے جانے کی بات سامنے آرہی ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ انہیں زمین خالی کرنے کے لیے دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ دوسری جانب زمین پر اپنا دعویٰ مضبوط کرنے کے لیے وال یا تار کمپاؤنڈ تعمیر کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ اس صورت حال نے پلاٹ مالکان کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔
اس پورے معاملے کو لے کر یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ اگر زمین کے لین دین میں لینڈ ڈیولپر اور ساہوکار کے درمیان قرض یا مالی معاملات کا تنازعہ ہے تو اس کی سزا عام پلاٹ خریداروں کو کیوں بھگتنا پڑ رہی ہے؟ ذرائع کے مطابق، زمین کے اس معاملے میں مبینہ مالی لین دین اور آپسی اختلافات کی جڑیں نیا پورہ تک پھیلی ہوئی بتائی جاتی ہیں۔ تاہم، ان الزامات کی آزادانہ تصدیق اور متعلقہ فریق کا مؤقف سامنے آنا ضروری ہے، تاکہ معاملے کی اصل حقیقت واضح ہوسکے۔رضوان پارک کے پلاٹ خریدار اس وقت شدید ذہنی پریشانی سے گزر رہے ہیں۔ اپنی حلال کمائی سے زمین خریدنے والے ان افراد کو خدشہ ہے کہ کہیں وہ اپنی جمع پونجی سے بھی محروم نہ ہوجائیں اور برسوں کی محنت کے باوجود انہیں اپنی زمین کا قبضہ حاصل نہ ہوسکے۔ متاثرین اب شہر کے مختلف عوامی نمائندوں اور پولیس انتظامیہ سے مدد کی امید لگائے بیٹھے ہیں، تاکہ ان کی شکایات کا غیر جانب دارانہ اژالہ ہو اور انہیں قانونی طور پر ان کے حقوق مل سکیں۔
رضوان پارک میں زمین کی خرید و فروخت سے متعلق سامنے آنے والی شکایات نے شہر میں زمین کے کاروبار اور پلاٹوں کی قانونی حیثیت پر ایک بار پھر بحث چھیڑ دی ہے۔ اس معاملے میں چھ کروڑ روپے سے زائد مالیت کی زمین کے لین دین سے متعلق دعوے بھی سامنے آرہے ہیں، تاہم اصل مالیت، ملکیت اور دستاویزات کی حیثیت کا تعین متعلقہ ریکارڈ اور قانونی جانچ کے بعد ہی ہوسکے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پولس انتظامیہ اور متعلقہ حکام اس معاملے میں کیا کارروائی کرتے ہیں اور متاثرین کو ان کی زمین اور رقم کے تحفظ کے لیے کب تک انصاف مل پاتا ہے۔ایسے حالات میں عوام کو چاہیے کہ وہ زمین یا پلاٹ خریدنے سے پہلے ملکیت کے اصل کاغذات، سات بارہ (7/12) اتارہ، پراپرٹی کارڈ، متعلقہ نقشہ، قانونی اجازت ناموں اور زمین پر کسی قسم کے قرض، رہن یا تنازعے کی مکمل جانچ ضرور کریں۔ محض نوٹری یا رقم کی رسید پر بھروسا کرنے کے بجائے رجسٹرڈ دستاویزات اور قانونی تصدیق کو ترجیح دیں، تاکہ زندگی بھر کی جمع پونجی کسی تنازعے میں نہ پھنس جائے۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com