اسکول کے طلباء سمیت دیڑھ سو سے زائد افراد فوڈ پوائزننگ کا شکار، انکوائری کرنے حکومت کا تیقن
وزیر تعلیم،میئر و ڈپٹی میئر اور اسٹینڈنگ چیئرمین جنرل اسپتال پہنچے،ہنگامی حالات میں اسپتالوں کو تیار رہنے کی ہدایت
مالیگاؤں: 28 ستمبر (بیباک نیوز اپڈیٹ)مالیگاؤں تعلقہ کے ناندگاؤں بدروک گاؤں میں منعقد ہونے والے ہفتہ واری بازار میں فوڈ پوائزننگ کا ایک شدید واقعہ پیش آیا ہے، جہاں بھیل بھتہ (چٹپٹی بھیل) کھانے سے تقریباً 140 تا 150 افراد کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی۔تفصیلات کے مطابق ان متاثرین میں اسکولی طلبہ زیادہ تعداد میں بتائے گئے ہیں ۔تمام متاثرین کو الٹی، اسہال، پیٹ میں جلن، ٹھنڈ لگنے اور چکر آنے کی شکایت کے بعد فوری طور پر مالیگاؤں کے سرکاری (جنرل) اسپتال میں علاج کے لیے داخل کرایا گیا ہے۔اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ریاستی وزیر دادا بھسے اور میئر نسرین شیخ ،ڈپٹی میئر شانِ ہند ،مستقیم ڈگنیٹی اور خالد حاجی و اعجاز بیگ نے اسپتال پہنچ کر مریضوں کی عیادت کی اور ان کی مزاج پرسی کی۔ وزیر دادا بھسے نے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق بازار سے خریدی گئی بھیل میں استعمال ہونے والی گیلی چٹنی کی وجہ سے یہ زہرا خوانی کا واقعہ پیش آیا ہے۔ انہوں نے اطمینان دلایا کہ اس وقت کوئی بھی مریض تشویشناک حالت میں نہیں ہے اور دیہی و شہری علاقوں کے تمام ڈاکٹرز و طبی عملہ مریضوں کی دیکھ بھال میں مسلسل مصروفِ عمل ہے۔
اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی مالیگاؤں شہر کی میئر نسرین شیخ ،ڈپٹی میئر شانِ ہند، اسٹینڈنگ چیئرمین اعجاز بیگ ،گٹ خالد حاجی اور مستقیم ڈگنیٹی بھی مریضوں کی عیادت کرنے پہنچے ۔انہوں نے کہا کہ مالیگاؤں شہر کے تعلقہ ناندگاؤں بدرک میں یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا ۔میئر و ڈپٹی میئر نے کہا کہ ایسے ہنگامی حالات میں کارپوریشن کے تمام اسپتالوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت دی ہے اسی طرح شہر کے دیگر تمام اسپتال بھی تیار رہیں تاکہ مریضوں کو بروقت طبی امداد فراہم کی جاسکے ۔انہوں نے بتایا کہ ہفتہ واری بازار میں اسکول کے طلباء سمیت نوجوان بزرگ اور بچے بھیل کھانے کے بعد متاثر ہوئے اور انہیں مالیگاؤں کے جنرل اسپتال لایا گیا جہاں سب کی حالت خطرے کے باہر ہے ۔ہم ایسے سنگین حالات میں اسپتالوں کو تیار رہنے کی ہدایت دیتے ہیں ۔واقعہ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ضلع کے رابطہ وزیر گریش مہاجن کو بھی مطلع کیا گیا، جنہوں نے مقامی انتظامیہ، پولیس سپرنٹنڈنٹ اور طبی حکام کو تمام ضروری اقدامات کرنے کی سخت ہدایت دی ہے۔ انتظامیہ اور عوامی نمائندوں کی جانب سے اس واقعے کی مکمل تحقیقات کا یقین دلایا گیا ہے اور متعلقہ ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ آئندہ اس قسم کے واقعات کا سدباب ہو سکے۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com